سورہ فاتحہ۔ مکی۔ آیات ۷

١۔ بنام خدائے رحمن و رحیم۔

٢۔ثنائے کامل اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا پروردگار ہے۔

٣۔ جو رحمن و رحیم ہے۔

٤۔ روز جزاء کا مالک ہے۔

٥۔ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

٦۔ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما۔

٧۔ ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام فرمایا، جن پر نہ غضب کیا گیا نہ ہی (وہ) گمراہ ہونے والے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سورہ کو فاتحۃ الکتاب (کتاب کا افتتاحیہ) کہا جاتا ہے اور یہ بات مسلّم ہے کہ سورتوں کے نام توقیفی ہیں۔ یعنی ان کے نام خود رسول کریم(ص)نے بحکم خدا متعین فرمائے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ قرآن عہد رسالت میں ہی مدون ہو چکا تھا جس کا افتتاحیہ “سورہ فاتحہ” ہے۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام کا اجماع ہے کہ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحْیمِ سورۂ برات کے علاوہ قرآن کے ہر سورے کا جزو ہے۔ عہد رسالت سے مسلمانوں کی یہ سیرت رہی ہے کہ وہ سورہ برات کے علاوہ ہر سورے کی ابتدا میں بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحْیمِ کی تلاوت کرتے تھے۔ تمام اصحاب و تابعین کے مصاحف میں بھی بسم اللّہ درج تھی،جب کہ تابعین، قرآن میں نقطے درج کرنے سے احتراز کرتے تھے۔ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کا بِسْمِ اللَّہِ میں یکجا ذکر کرنے سے اللہ کے مقام رحمت کی تعبیر میں جامعیت آ جاتی ہے کہ الرَّحْمٰنِ سے رحمت کی عمومیت اور وسعت: وَرَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیءِِ۔(٧: ١٥٦) ” میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے ” اور الرَّحْیمِ سے رحم کا لازمہ ذات ہونا مراد ہے : کَتَبَ رَبُّکُم عَلیٰ نَفسِہِ الرَّحمَۃَ (٦:٥٤) “تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے “۔ لہٰذا اس تعبیر میں عموم رحمت اور لزوم رحمت دونوں شامل ہیں۔

٢۔ یہاں الرَّحْمٰنِ و الرَّحْیمِ کی تکرار نہیں ہو رہی بلکہ بِسْمِ اللَّہِ۔۔۔ میں اس کا ذکر مقام الوہیت میں ہوا تھا، جب کہ یہاں مقام ربوبیت میں الرَّحْمٰنِ و الرَّحْیمِ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔

٣۔ دنیا میں بھی وہی مالک ہے۔ تاہم دنیا چونکہ دار العمل ہے ، اس لیے بندے کو کچھ اختیارات دیے گئے ہیں۔ لیکن روز قیامت نتیجہ عمل کا دن ہے۔ اس دن صرف اللّٰہ کی حاکمیت ہو گی۔

٤۔ کسی ذات کی تعظیم و تکریم اور اس کی پرستش کے چار عوامل ہو سکتے ہیں : i۔کمال ، ii۔احسان، iii۔ احتیاج اور iv۔ خوف۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں یہ چاروں عوامل موجود ہیں۔ لہٰذا ہر اعتبار سے عبادت صرف اسی کی ہو سکتی ہے۔ مومن جب قوت کے اصل سرچشمے سے وابستہ ہو جائے تو دیگر تمام طاقتوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے : لہ مقالیدالسموت و الارض۔ (٤٢ : ١٢) آسمانوں اور زمین کی کنجیاں صرف اس کے اختیار میں ہیں۔

٥۔ غیر اللہ سے استمداد (مدد مانگنے ) کا مطلب یہ ہو گا کہ سلسلہ استمداد اللہ تعالیٰ پر منتہی نہ ہوتا ہو اور اس غیر اللہ کو اذن خدا بھی حاصل نہ ہو۔ لیکن اگر وہ غیر ماذون من اللّٰہ ہو اور یہ استمداد اللہ کے مقابلے میں نہیں ، بلکہ اس کی مدد کے ذیل میں آتی ہو تو شرک نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نقموا الا ان اغنھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ (٩: ٧٤) انہیں اس بات پر غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو دولت سے مالا مال کر دیا ہے۔

٦۔ اس کائنات کے عظیم مقاصد کے حامل انسان کو ہر قدم پر ہدایت کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ انسان سراپا احتیاج ہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے مبداء فیض سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ ہدایت ایسی چیز نہیں کہ اللہ کی طرف سے ایک بار مل جانے سے بندہ بے نیاز ہو جائے ، بلکہ وہ ہر آن ہر لمحہ ہدایت الہی کا محتاج رہتا ہے۔ لہذا اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہدایت کی طلب اور خواہش سے یہ گمان ہوتا ہے کہ بندہ ابھی ہدایت یافتہ نہیں ہے۔