بنام خدائے رحمن و رحیم

١۔ وہ ایمان والے یقیناً فلاح پا گئے

٢۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں ،

٣۔ اور جو لغویات سے منہ موڑنے والے ہیں ،

٤۔ اور جو زکوٰۃ کا عمل انجام دینے والے ہیں ،

٥۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ،

٦۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت ہوتی ہیں کیونکہ ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔

٧۔لہٰذا جو ان کے علاوہ اوروں کے طالب ہو جائیں تو وہ زیادتی کرنے والے ہوں گے۔

٨۔ اور وہ جو اپنی امانتوں اور معاہدوں کا پاس رکھنے والے ہیں ،

٩۔ اور جو اپنی نمازوں کی محافظت کرنے والے ہیں ،

١٠۔ یہی لوگ وارث ہوں گے ،

١١۔ جو (جنت) فردوس کی میراث پائیں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

 

١٢۔ اور بتحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا۔

١٣۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بنا دیا۔

١٤۔ پھر ہم نے نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی کی شکل دی پھر بوٹی سے ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنا دیا، پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین خالق ہے

١٥۔پھرا س کے بعد تم بلاشبہ مر جاتے ہو۔

١٦۔ پھر تمہیں قیامت کے دن یقیناً اٹھایا جائے گا۔

١٧۔ اور بتحقیق ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے ہیں اور ہم تخلیقی کارناموں سے غافل نہیں ہیں۔

١٨۔ اور ہم نے آسمان سے ایک خاص مقدار میں پانی برسایا پھر اسے زمین میں ہم نے ٹھہرایا اور ہم یقیناً اسے ناپید کرنے پر بھی قادر ہیں۔

١٩۔پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگور کے باغات پیدا کیے جن میں تمہارے لیے بہت سے پھل ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو۔

٢٠۔ اور اس درخت کو بھی پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے اور کھانے والوں کے لیے تیل اور سالن لے کر اگتا ہے۔

٢١۔ اور تمہارے لیے جانوروں میں یقیناً ایک درس عبرت ہے ، ان کے شکم سے ہم تمہیں (دودھ)پلاتے ہیں اور ان میں تمہارے لیے (دیگر) بہت سے فوائد ہیں اور ان میں سے کچھ کو تم کھاتے بھی ہو۔

٢٢۔ اور ان جانوروں پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔

٢٣۔ اور بتحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، پس نوح نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم بچتے نہیں ہو؟

٢٤۔ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا: یہ تو بس تم جیسا بشر ہے ، جو تم پر اپنی بڑائی چاہتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کرتا، ہم نے اپنے پہلے باپ دادا سے یہ بات کبھی نہیں سنی۔

٢٥۔ بس یہ ایک ایسا شخص ہے جس پر جنون کا عارضہ ہوا ہے لہٰذا کچھ دیر انتظار کرو۔

٢٦۔ نوح نے کہا: اے میرے پروردگار! انہوں نے جو میری تکذیب کی ہے ان پر تو میری مدد فرما۔

٢٧۔ پس ہم نے نوح کی طرف وحی کی (اور کہا) ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ، پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابلنا شروع کر دے تو ہر قسم کے (جانوروں کے ) جوڑوں میں سے دو دو سوار کرو اور اپنے گھر والوں کو بھی، ان میں سے سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں پہلے فیصلہ صادر ہو چکا ہے اور (اے نوح) ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا کہ یہ اب یقیناً غرق ہونے والے ہیں۔

٢٨۔اور جب آپ اور آپ کے ساتھی کشتی پر سوار ہو جائیں تو کہیں : ثنائے کامل ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دلا دی۔

٢٩۔ اور کہیں : پروردگارا! ہمیں بابرکت جگہ اتارنا اور تو بہترین جگہ دینے والا ہے۔

٣٠۔ اس (واقعے ) میں یقیناً نشانیاں ہیں اور ہم آزمائش کر گزریں گے۔

٣١۔ پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور قوم کو پیدا کیا۔

٣٢۔ پھر خود انہی میں سے ایک رسول ان میں مبعوث کیا، ( جس کی دعوت یہ تھی کہ لوگو) اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے کیا تم بچنا نہیں چاہتے ؟

٣٣۔ اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے جو آخرت کی ملاقات کی تکذیب کرتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیاوی زندگی میں آسائش فراہم کر رکھی تھی کہا : یہ تو بس تم جیسا بشر ہے ، وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔

٣٤۔ اور اگر تم نے اپنے جیسے کسی بشر کی اطاعت کی تو بے شک تم خسارے میں رہو گے۔

٣٥۔ کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور تم خاک اور ہڈی ہو جاؤ گے تب تم نکالے جاؤ گے ؟

٣٦۔ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے بعید ہی بعید ہے۔

٣٧۔ بس یہی دنیاوی زندگی ہے جس میں ہمیں مرنا اور جینا ہے اور ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

٣٨۔ یہ تو بس ایسا آدمی ہے جو اللہ پر جھوٹی نسبت دیتا ہے اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

٣٩۔ عرض کیا: پروردگارا! ان لوگوں کی تکذیب پر میری نصرت فرما۔

٤٠۔ اللہ نے فرمایا: تھوڑے وقت میں یہ لوگ پشیمان ہو جائیں گے۔

٤١۔ چنانچہ (وعدہ) حق کے مطابق زوردار آواز نے انہیں گرفت میں لے لیا تو ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا کر رکھ دیا، پس (رحمت حق سے ) دور ہو یہ ظالم قوم۔

٤٢۔ پھر ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں۔

٤٣۔کوئی امت اپنے مقررہ وقت سے نہ آگے جا سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

٤٤۔ پھر ہم نے یکے بعد دیگرے برابر اپنے رسول بھیجے ، جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آتا تو وہ اس کی تکذیب کرتی تو ہم بھی ایک کے بعد دوسرے کو ہلاک کرتے رہے اور ہم نے انہیں افسانے بنا دیا، (رحمت حق سے ) دور ہوں جو ایمان نہیں لاتے۔

٤٥۔ پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔

٤٦۔ فرعون اور ان کے درباریوں کی طرف مگر انہوں نے تکبر کیا اور وہ بڑے متکبر

لوگ تھے۔

٤٧۔ اور کہنے لگے : کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں جب کہ ان کی قوم ہماری تابعدار ہے ؟

٤٨۔ پھر انہوں نے دونوں کی تکذیب کی، (نتیجے کے طور پر) وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئے۔

٤٩۔ اور ہم نے موسیٰ کو اس امید پر کتاب دی کہ وہ (لوگ) اس سے رہنمائی حاصل کر لیں گے۔

٥٠۔ اور ابن مریم اور ان کی والدہ کو ہم نے ایک نشانی بنایا اور انہیں ہم نے ایک بلند مقام پر جگہ دی جہاں اطمینان تھا اور چشمے پھوٹتے تھے۔

٥١۔ اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل صالح بجا لاؤ، جو عمل تم کرتے ہو میں اسے خوب جاننے والا ہوں۔

٥٢۔ اور تمہاری یہ امت یقیناً امت واحدہ ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہٰذا مجھ ہی سے ڈرو۔

٥٣۔ مگر لوگوں نے اپنے (دینی) معاملات میں تفرقہ ڈال کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اب ہر فرقہ اپنے پاس موجود (نظریات) پر خوش ہے۔

٥٤۔ انہیں ایک مدت تک اپنی غفلت میں پڑا رہنے دیجیے۔

٥٥۔ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مال اور اولاد سے جو انہیں مالامال کرتے ہیں ،

٥٦۔ تو ہم انہیں تیزی سے بھلائی پہنچا رہے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

٥٧۔ (حقیقت یہ ہے کہ) جو لوگ اپنے رب کے خوف سے ہراساں ہیں ،

٥٨۔ اور جو اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں ،

٥٩۔ اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے ،

٦٠۔ اور جو کچھ وہ دیتے ہیں اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس بات سے لرز رہے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

٦١۔ یہی لوگ ہیں جو نیکی کی طرف تیزی سے بڑھتے ہیں اور یہی لوگ نیکی میں سبقت لے جانے والے ہیں۔

٦٢۔ اور ہم کسی شخص پر اس کی قوت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے اور ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو حقیقت بیان کرتی ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

٦٣۔ مگر ان (کافروں ) کے دل اس بات سے غافل ہیں اور اس کے علاوہ ان کے دیگر اعمال بھی ہیں جن کے یہ لوگ مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔

٦٤۔ حتیٰ کہ جب ہم ان کے عیش پرستوں کو عذاب کے ذریعے گرفت میں لیں گے تو وہ اس وقت چلا اٹھیں گے۔

٦٥۔ آج مت چلاؤ! تمہیں ہم سے یقیناً کوئی مدد نہیں ملے گی۔

٦٦۔ میری آیات تم پر تلاوت کی جاتی تھیں تو اس وقت تم الٹے پاؤں پھر جاتے تھے۔

٦٧۔ تکبر کرتے ہوئے ، افسانہ گوئی کرتے ہوئے ، بیہودہ گوئی کرتے تھے۔

٦٨۔ کیا انہوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی بات آئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی؟

٦٩۔ یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا ہی نہیں جس کی وجہ سے وہ اس کے منکر ہو گئے ہیں ؟

٧٠۔ یا وہ یہ کہتے ہیں : وہ مجنون ہے ؟ نہیں بلکہ وہ ان لوگوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ حق کو ناپسند کرتے ہیں۔

٧١۔ اور اگر حق ان لوگوں کو خواہشات کے مطابق چلتا تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب تباہ ہو جاتے ، بلکہ ہم تو ان کے پاس خود ان کی اپنی نصیحت لائے ہیں اور وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں۔

٧٢۔ یا (کیا) آپ ان سے کوئی خراج مانگتے ہیں ؟ (ہرگز نہیں کیونکہ) آپ کے رب کا دیا ہوا سب سے بہتر ہے اور وہی بہترین رازق ہے۔

٧٣۔ اور آپ تو انہیں یقیناً صراط مستقیم کی دعوت دیتے ہیں۔

٧٤۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقیناً وہ راستے سے منحرف ہو جاتے ہیں۔

٧٥۔ اور اگر ہم ان پر رحم کر دیں اور انہیں جو تکلیف لاحق ہے اسے دور کر بھی دیں پھر بھی یہ لوگ اپنی سرکشی میں برابر بہکتے جائیں گے۔

٧٦۔ اور بتحقیق ہم نے تو انہیں اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا تھا لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے رب سے نہ عاجزی کا اظہار کیا نہ زاری کی۔

٧٧۔ یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر شدید عذاب کا ایک دروازہ کھول دیا تو پھر ان کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔

٧٨۔ اور اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم پھر بھی کم شکر گزار ہو۔

٧٩۔ اور اللہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب کو جمع کیا جانا ہے۔

٨٠۔ اور وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور اسی کے قبضہ قدرت میں شب و روز کا آنا جانا ہے تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

٨١۔ لیکن یہ لوگ وہی بات کر رہے ہیں جو ان سے پہلے والے کرتے رہے۔

٨٢۔ وہ کہتے تھے : کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی ہو جائیں گے اور ہڈی (رہ جائے گی) تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے ؟

٨٣۔ یہی وعدہ یقیناً ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا رہا ہے یہ تو صرف قصہ ہائے پارینہ ہیں۔

٨٤۔ کہہ دیجئے : یہ زمین اور جو اس پر (آباد) ہیں کس کی ہے اور اگر تم جانتے ہو؟ (تو بتاؤ)۔

٨٥۔ وہ کہیں گے : اللہ کی ہے ، کہہ دیجئے : تو پھر تم سوچتے کیوں نہیں ہو؟

٨٦۔ کہہ دیجئے : سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟

٨٧۔ وہ کہیں گے : اللہ ہے ، کہہ دیجئے : تو پھر تم بچتے کیوں نہیں ہو؟

٨٨۔ کہہ دیجئے : وہ کون ہے جس کے قبضے میں ہر چیز کی بادشاہی ہے ؟ اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اگر تم جانتے ہو؟ (تو بتاؤ)۔

٨٩۔ وہ کہیں گے : اللہ، کہہ دیجئے : تو پھر تمہاری یہ خبطی کہاں سے ہے ؟

٩٠۔بلکہ ہم حق کو ان کے سامنے لے آئے ہیں اور یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔

٩١۔ اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ، اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی مخلوقات کو لے کر جدا ہو جاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کر دیتا، اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔

٩٢۔ وہ غیب و شہود کا علم رکھتا ہے پس وہ منزہ ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

٩٣۔ (اے رسول) کہہ دیجئے : میرے پروردگار! اگر تو وہ عذاب مجھے دکھا دے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ،

٩٤۔ تو میرے پروردگار! مجھے اس ظالم قوم کے ساتھ شامل نہ کرنا۔

٩٥۔ اور جس (عذاب) کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم اسے آپ کو دکھانے کی یقیناً طاقت رکھتے ہیں۔

٩٦۔ آپ برائی کو احسن برتاؤ کے ذریعے دور کریں ، ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں۔

٩٧۔ اور کہہ دیجئے : اے میرے پروردگار! میں شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

٩٨۔ اور اے پروردگار! میں ان کے میرے سامنے آنے سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔

٩٩۔ (یہ غفلت میں پڑے ہیں ) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ لے گی تو وہ کہے گا: اے پروردگار! مجھے واپس دنیا میں بھیج دے ،

١٠٠۔ جس دنیا کو چھوڑ کر آیا ہوں شاید اس میں عمل صالح بجا لاؤں ، ہرگز نہیں ، یہ تو وہ جملہ ہے جسے وہ کہہ دے گا اور ان کے پیچھے اٹھائے جانے کے دن تک ایک برزخ حائل ہے۔

١٠١۔ پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان میں اس دن نہ کوئی رشتہ داری رہے گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔

١٠٢۔ پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی نجات پانے والے ہیں۔

١٠٣۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا ہو اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

١٠٤۔ جہنم کی آگ ان کے چہروں کو جھلسا دے گی اور اس میں ان کی شکلیں بگڑی ہوئی ہوں گی۔

١٠٥۔ کیا تم وہی نہیں ہو کہ جب میری آیات تمہیں سنائی جاتیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے ؟

١٠٦۔ وہ کہیں گے : ہمارے پروردگار! ہماری بدبختی ہم پر غالب آ گئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔

١٠٧۔ اے ہمارے پروردگار!ہمیں اس جگہ سے نکال دے ، اگر ہم نے پھر وہی (جرائم) کیے تو ہم لوگ ظالم ہوں گے۔

١٠٨۔ اللہ فرمائے گا: خوار ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔

١٠٩۔ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ یقیناً یہ دعا کرتے تھے : اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لائے ہیں پس ہمیں معاف فرما اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

١١٠۔ تو تم نے ان کا مذاق اڑایا یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں ہماری یاد سے غافل کر دیا اور تم ان پر ہنستے تھے۔

١١١۔ آج میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی لوگ کامیاب ہیں۔

١١٢۔ اللہ پوچھے گا: تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟

١١٣۔ وہ کہیں گے : ایک روز یا روز کا ایک حصہ (ہم وہاں ) ٹھہرے ہیں ، پس شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے۔

١١٤۔ فرمایا: تم وہاں تھوڑا ہی (عرصہ) ٹھہرے ہو، کاش کہ تم (اس وقت) جانتے۔

١١٥۔ کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں عبث خلق کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹائے نہیں جاؤ گے ؟

١١٦۔ پس بلند و برتر ہے اللہ جو بادشاہ حقیقی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ عرش کریم کا مالک ہے۔

١١٧۔ اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے اور کافر یقیناً فلاح نہیں پا سکتے۔

١١٨۔ اور کہہ دیجئے : اے میرے پروردگار! معاف فرما اور رحم فرما اور تو سب سے بہترین رحم کرنے والا ہے۔