خدمت گزارانِ ”نہج البلاغہ“

پیغمبر اکرمﷺ کو رب کریم نے معلِّم و مربّی انسانیت بنا کر بھیجا اور آپ ﷺْ کو مومنین کے لئے رؤف و رحیم قرار دیا۔ پیغمبر اکرمﷺ نے اُمّت کی تربیت کا حق ادا کیا اور اپنے بعد کی تربیت کا اعلان کبھی ”حدیث ثقلین“ کی صورت میں کیا تو کبھی ارشاد فرمایا:

”أَنَا وَ عَلِيٌّ أَبَوَا هَذِهِ الْأُمَّة“ (بحارا لانوارج۳۶ ص۱۱)

میں اور علی اس اُمّت کے دو باپ ہیں۔

جیسے پیغمبر اکرم ﷺ نے ہر دُکھ جھیل کر اُمّت کی تربیت کی آپﷺ کے بعد امیرالمومنینؑ نے بھی اِس فریضہ کو بطور کامل انجام دیا اور ارشاد فرمایا “اے لوگو! میں نے تمھیں اسی طرح نصیحتیں کی ہیں جس طرح انبیاء علیھم السلام اپنی اُمّتوں کو کرتے چلے آئے ہیں” (نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۰)

امیرالمومنینؑ کتابِ خُدا کے وارث و عالم اور شہرِ علم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے در ہیں ۔ امام ؑ اپنے سینہِ اقدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں“ دیکھو! یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کاش! اس کے اٹھانے والے مل جاتے” (نہج البلاغہ حکمت ۱۴۷) اور کبھی فرماتے ہیں “مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ مجھے نہ پاؤ” (نہج البلاغہ خطبہ ۹۱)

علامہ سیّد رضی ؒ کا انسانیت اور علم دوست افراد پر احسان ہے اور ادب و سخن کے شائقین کے لئے بھلا ہے کہ امیرِ بیان و کلام حضرت امام ؑ کے کلام کے بکھرے ہوئے موتیوں میں سے کچھ کلام کا انتخاب کیا جو “نہج البلاغہ” کی صورت میں موجود ہے اور زمانہ اِس جامع الصفات امامؑ کے کلامِ جامع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

ہر دور کے صاحبانِ علم قابل صد آفرین ہیں جنہوں نے کسی طرح سے امام ؑ کے کلام کی خدمت کی یا کر رہے ہیں اور اس کے نشر و اشاعت میں مشغول ہیں۔ نہج البلاغہ کے ان خدمت گزاروں کی محنتوں کو عوام تک پہنچانے کے لئے “مرکز افکار اسلامی” نے اُن کے کاموں کے تعارف کے لئے یہ صفحات آمادہ کیے ہیں۔ امید ہے علم دوست طبقہ اِس کے ذریعہ اُن کاموں سے مستفید ہوگا۔ جن لوگوں نے نہج البلاغہ کی کسی قسم کی خدمت کی ہے اُس سے ادارے کو آگاہ کیا جائے تاکہ اُسے یہاں پیش کیا جا سکے۔

مرکز افکارِ اسلامی