اِنَّ مَعْصِیَةَ النَّاصِحِ الشَّفِیْقِ الْعَالِمِ الْمُجَرِّبِ تُوْرِثُ الْحَسْرَةَ وَتُعْقِبُ النَّدَامَةَ ۔ (خطبہ۳۵)

مہربان، با خبر اور تجربہ کار نصیحت کرنے والے کی مخالفت کا نتیجہ و انجام حسرت و ندامت ہوتا ہے۔

انسان کی عمر مختصر اور طاقت محدود ہے اور اپنی زندگی کے تمام مسائل کو خود حل نہیں کر سکتا بلکہ اسے بہت سے کاموں میں بہت سے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔کاشتکار کو معمار کی اور انجینیئر کو ڈاکٹر کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح ایک انسان زندگی کے سب علوم و تجربات خود حاصل نہیں کر سکتا بلکہ ہر کسی کو دوسروں کے مشوروں اورتجربوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ امیرالمؤمنینؑ اس فرمان میں بہترین نصیحت کرنے والے کی شرائط بیان فرماتے ہیں جو حقیقت میں مکمل طور پر خود آپ پر صادق آتی ہیں اور آپ کا اشارہ بھی سرفہرست اپنی طرف ہے۔ اس نصیحت کرنے والے کی شرائط یہ بیان ہوئی ہیں کہ وہ مہربان و شفیق ہو، اس کی نصیحت کسی منافع یا مقصد کے لیے نہیں بلکہ جسے نصیحت کر رہا ہےاس کی بہتری اور سعادت کے لئے ہو۔ وہ جن امور میں مشورہ دے رہا ہے اور نصیحت کر رہا ہے اس سے مکمل طور پر با خبر ہو اور جس کام کی طرف راہنمائی کر رہا ہے اس کا تجربہ رکھتا ہو۔ ایسے نصیحت کرنے والے اور خیر خواہ کی باتوں پر عمل ہوگا تو یقیناً کامیابی و کمال حاصل ہوگا اور اگر اس کی نصیحتوں پر توجہ نہ ہوگی اور سننے والا اگر اس کی مخالفت کرے گا تو نتیجۃ ً اسے حسرت و اندوہ کا سامنا ہوگا اور ندامت و ناکامی اس کے حصہ میں آئے گی۔ اس فرمان سے اگر استفادہ کیا جائے اور ان صفات کے حامل مشیر و ناصح کو تلاش کر لیا جائے تو یہ خود ایک کامیابی ہوگی۔ پھر اس کی راہنمائی میں کمال کی راہیں طے کرنا آسان ہوگا۔ اگر ایسا نصیحت کرنے والا مل جائے تو اس کے ساتھ کو غنیمت جاننا چاہیے یوں زندگی کی راہیں آسانی سے طے ہو جائیں گی۔

شمع زندگی