وَ لَا تَسْأَلُوافِيهَافَوْقَ الْكَفَافِ۔ (خطبہ ۴۵)

اس دنیا میں اپنی ضرورت سے زیادہ نہ چاہو۔

انسان جس دنیا میں رہتا ہے اگر اسے مقصد اور ہدف زندگی سمجھ بیٹھے تو جتنی دنیا زیادہ ملے گی اتنا خوش ہوگا اور خود کو کامیاب انسان سمجھے گا۔ اگر دنیا کی حقیقت سے آگاہ ہو اور یقین کر لے کہ اس سے جانا ہے تو اس کا برتاؤ اس دنیا سے اور طریقے کا ہوگا۔ امیرالمؤمنینؑ نہج البلاغہ میں جن موضوعات پر زیادہ زور دیتے ہیں ان میں سے ایک دنیا کی حقیقت سے آشنائی ہے۔ مورد بحث فرمان میں آپ نے دنیا کی محبت میں کھو جانے اور اس کی خوشنمائی میں گم ہو جانے سے خبردار کیا ہے اور اسے سعادت و کمال کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔ البتہ دنیا کمانے سے منع نہیں کیا بلکہ ارشاد فرمایا کہ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دنیا چاہو مگر اپنی ضرورت سے زیادہ کی تمنا مت کرو اس لیے کہ دنیا کی ضرورتیں جتنی بڑھاتے جاؤ گے وہ بڑھتی جائیں گی۔ دنیا میں اس پر کفایت کرو کہ آپ کو ضرورت کے پورا کرنے کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اور کفایت شعاری یہی ہے کہ یوں زندگی گزاروں اور اتنا ضرور کماؤ کہ لوگوں کے سامنے دست سوال نہ پھیلانا پڑے۔ کفایت شعاری کے ذریعہ یعنی اپنے اخراجات پر کنٹرول کر کے آپ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے خود کو بچائیں اور یہی حقیقت میں دولت مندی و غنا ہے۔ امیرالمؤمنینؑ نے یہی فرمایا کہ اپنی ضروریات سے زیادہ نہ چاہو اور جس سے زندگی بسر ہو جائے اس سے زیادہ کی خواہش بھی نہ کرو۔ ہاں اگر آپ کو اپنی ضرورت و چاہت سے زیادہ مل جاتا ہے تو یہ بھی سعادت کا ذریعہ بن سکتا ہے جب آپ اس سے اپنی ضروریات کو پورا کر کے دوسروں کی ضروریات بھی پوری کریں۔ اور کسی ہاتھ پھیلانے والے سے بھی یوں تعاون کریں کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے آئندہ بچ جائے۔

شمع زندگی