إِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ۔ (خطبہ ۵۰)
فتنوں میں پڑنے کا آغاز وہ نفسانی خواہشیں ہوتی ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے۔

کامیابی کی راہوں پر بیٹھے راہزن سے ہوشیار کرنا راہنماؤں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ تعالی نے جب صراط مستقیم کی بات کی تو شیطان کے اعلان کا بھی ذکر فرما دیا کہ وہ کہتا ہے میں صراطِ مستقیم پر بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا۔ امیرالمؤمنینؑ نے یہاں ایسے ہی راہزن کا ذکر فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں ہنگامے، جھگڑے، فساد، فتنے اور جنگ و جدل جو امن و سکون کو برباد کرتے ہیں ان کی ابتدا انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ فتنوں کے پیچھے اگر نظر کریں تو دنیا کی محبت اور جوانی کی خواہشوں کی تکمیل دکھائی دے گی۔ قرآن مجید نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ بعض لوگوں کا خدا ان کی خواہشات ہوتی ہیں وہ انہی خواہشوں کے بندے اور غلام بن جاتے ہیں۔

انسان جب خواہشات کی پیروی کرنے لگتا ہے تو وہ صحیح و غلط اور حق و باطل کو نہیں دیکھتا بلکہ اپنی خواہشیں پوری کرنے کے لیے برے سے برا کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور یوں خواہشات کی تکمیل کے لیے قوانین کو پامال کرتا ہے اور عقل کے تقاضوں کو پاؤں تلے روند ڈالتا ہے۔ کرسی و حکومت کے حصول کی خواہش میں ظلم و بربریت کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ اسے مظلوموں کی چیخ پکار سنائی نہیں دیتی اور بے گناہ لوگوں کے بہتے ہوئےلہو کو وہ نہیں دیکھتا۔امیرالمؤمنینؑ نے اس خطرے سے آگاہ کر کے گویا عدل و انصاف اور انسانیت کی عزت و احترام کی دعوت دی اور یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ جب انسان خواہش پرستی کی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے تو پھر نہ وہ خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو مدنظر رکھتا ہے اور نہ ہی دوسرے انسانوں کی آراء اس کے لیے اہم ہوتی ہیں۔

شمع زندگی