وَابْتَاعُوْا مَا يَبقَى لَكُمْ بِمَا يَزُوْلُ عَنْكُم۔ (خطبہ۶۲)
دنیا کی فانی چیزیں دے کر باقی رہنے والی چیزیں خرید لو۔

اس فرمان میں انسانی زندگی کے سرمایہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے. ایک حصہ وہ ہے جو محدود زمانے کے لئے کسی کی ملکیت رہے گا اور کچھ وقت کے بعد یا مالک نہ رہے گا یا ملکیت نہ رہے گی۔ دوسرا وہ سرمایہ ہے کہ مالک رہے نہ رہے سرمایہ رہے گا۔ اب کسی ذی شعور کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی کہ وہ ختم ہونے والے سرمائے کے مقابلے میں باقی رہنے والے سرمائے کو انتخاب کرے ۔مگر مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ کیسے جانے کہ ختم ہونے والا سرمایہ کونسا ہے اور باقی رہنے والا سرمایہ کونسا ہے۔ قرآن مجید نے اسے بڑے واضح الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ جو فنا ہونے والے مالک سے مخصوص ہوگا وہ مال بھی فنا ہو جائے گا اور جو سرمایہ ہمیشہ رہنے والے مالک اللہ کے پاس جمع ہو جائے گا وہ ہمیشہ رہے گا۔

اللہ اس سرمائے کو اپنے لئے نہیں اپنی مخلوق کے لئے خرچ کرنے کا کہتا ہے پس جو سرمایہ مخلوق خدا پر خرچ ہوگا وہ باقی رہے گا۔ اس فرمان میں امیر المؤمنینؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک کو لے لو اور دوسرے کو چھوڑ دو بلکہ ایک کامیاب تجارت کا طریقہ بتایا ہے کہ جو ختم ہونے والا سرمایہ ہے اس سے بھی آپ ایسی چیزیں خرید سکتے ہیں جو باقی رہتی ہیں اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ اپنی زندگی میں انسانیت کے منافع کا کوئی کام انجام دے لیں ۔ اس میں جو سرمایہ خرچ کریں گے وہ باقی رہ جائے گا۔ سونے کا زیور اگر میرا رہے گا تو میں دنیا سے گیا تو وہ زیور کسی اور کا ہو جائے گا اور اگر میں اسے کسی ضرورت مند کی شادی کے لئے خرچ کر دوں تو میں رہوں یا نہ رہوں جب تک وہ خاندان اور ان کی نسلیں چلتی رہیں گی حقیقی مالک اس کا مجھے بدلہ دیتا رہے گا۔

شمع زندگی