نَسْأَلُ اللهَ سُبْحَانَهُ أَنْ يَجْعَلَنَا وَإِيَّاکُمْ مِمِّنْ لاَ تُبْطِرُهُ نَعْمَةٌ۔ (خطبہ۶۲)
ہم اللہ سبحانہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمہیں ایسا بنا دے کہ نعمتیں سرکش نہ بنا سکیں۔

انسان کا بڑا کمال یہ ہے کہ وہ خود کو پہچانے کہ وہ کیا ہے ۔ جن چیزوں کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو بھول بیٹھتا ہے ان میں سے سرفہرست دنیا کی نعمات اور سہولیات ہیں۔ نعمتیں سوچوں پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔ سرکشی و بغاوت پر تیار کر دیتی ہیں۔ یہ کتنا سرکش بنا دیتی ہیں وہ امیرالمؤمنینؑ کی اس دعا سے ظاہر ہے کہ امیرالمؤمنینؑ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی دعا کر رہے ہیں کہ اللہ ہم سب کو ان نعمات کی وجہ سے سرکشی سے محفوظ رکھے۔ آپ کی دعا کا یہ جملہ خبردار کر رہا ہے کہ نعمات مست و مغرور اور سرکش و باغی بنا دیتی ہیں۔ انسان جب کسی چیز کے خطرے سے آگاہ ہو جائے تو اس کے لیے نقصان سے بچنا کسی حد تک آسان ہوتا ہے۔ آپ نے خطرے سے آگاہ کر دیا اور بہت سے مقامات پر اس خطرے سے بچنے کے طریقوں سے بھی مطلع فرمایا۔ مثلاً نہج البلاغہ میں ہی ایک جگہ پر فرمایا کہ ان نعمات کا کم از کم شکر تو ادا کرو اور وہ یہ ہے کہ انہیں دینے والے کی معصیت و مخالفت میں استعمال نہ کرو۔ نعمت دینے والے کو یاد رکھیں۔ اور اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ یہ فقط آپ ہی نہیں کہ جسے نعمات حاصل ہوئی ہیں بلکہ بہت سو کو پہلے بھی ملی ہیں۔ انہیں دیکھیں کہاں گئیں نعمات اور کہاں گئے نعمات میں غرق رہنے والے۔

نعمت حقیقت میں ایک امتحان ہے اور کامیاب انسان وہی ہے جو انہیں اپنا حق نہ سمجھ بیٹھے بلکہ امتحان کا ذریعہ جانے۔ قرآن مجید نے اس لیے تفصیل سے جناب سلیمانؑ کو دی جانے والی نعمات کا ذکر کیا اور جب تخت بلقیس جناب سلیمانؑ کے سامنے رکھا گیا تو جناب سلیمان علیہ السلام نے ایک طرف اسے فضل رب کہہ کر یاد کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بیان فرما دیا کہ اللہ نے مجھے اس فضل سے نوازا تاکہ دیکھے اور پرکھے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا احسان فراموشی کرتا ہوں اور اس کی نعمت کو بھول جاتا ہوں۔ نعمت کے غرور سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے اللہ کا فضل و فیض سمجھے اور اس فیض سے دوسروں کو فیض یاب کرے۔ یوں نعمت میں اضافہ بھی ہوگا اور غرورِ نعمت سے نجات بھی ملے گی۔

شمع زندگی