اَوْرٰی قَبَسَ الْقَابِسِ۔(خطبہ ۷۰)
اس نے روشنی ڈھونڈنے والے کے لیے شعلے بھڑکا دیے ہیں۔

انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کمال تک پہنچنے کے لیے با کمال افراد کو پڑھے، ان کی زندگیوں کے حالات جانے، مشکلات سے مقابلے کے طریقے ان سے سیکھے اور خود کو ان کے روپ میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔ امیرالمؤمنینؑ نے یہاں با کمال لوگوں کی چند نشانیاں بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ گمراہی و ضلالت کے اندھیرے میں گھرے افراد جو اپنے راستے کو پانے کے لیے روشنی کے متلاشی ہیں ان کے لیے اس نے روشنی کے شعلے بھڑکا دیے ہیں اور اندھیرے میں بھٹکنے والوں کے لیے راستہ روشن کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے با کمال ذات پیغمبر اکرمؐ ہے اور امیرالمؤمنینؑ نے ان الفاظ سے آپ کی عظمت کو بیان کیا ہے۔

اگر کوئی کامیابیوں کی بلندیوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو پیغمبر اکرم ؐکے کمال کی راہ اپنائے اور سیرت میں ان کی پیروی کرے۔ دوسروں کی راہوں کو روشن کرنا اور ان کے لیے ہدایت کا سامان مہیا کرنا یہ آپ کا ایک عظیم مشن تھا اور آپ کی اس عظمت کو قرآن مجید نے چمکتا ہوا (چراغ) کہہ کر بیان فرمایا۔ کامیابی کی تلاش کا یہ اصول سیرتِ نبیؐ سے سیکھ لینا چاہیے۔ علامہ اقبال کے بقول دوسروں کے لیے شمع بننے کی تمنا ہونی چاہیے اور دوسروں کے لیے شمع بننے کے لیے دکھ اور تکلیفیں جھیلنی پڑتی ہیں۔ اس راستے میں جو گرمی و تپش برداشت کرنی پڑتی ہے اس کے لیے خوشی سے تیار ہونا چاہیے۔امیرالمؤمنینؑ نے نہج البلاغہ میں پیغمبر اکرمؐ کے جو درجنوں اوصاف بیان فرمائے ہیں یقیناً ہر ایک چراغ راہ ہے۔ اگر کامیابی کے راز کی تلاش ہے اور اگر کوئی کمال کی راہ کا مسافر ہے تو اس فرمان امیرالمؤمنینؑ کے مطابق اسے اپنا تعلق چراغ مصطفوی سے جوڑ لینا چاہیے، اس لیے کہ یہی چراغ روشنی تلاش کرنے والے کے لیے شعلے بھڑکانے والا ہے۔ امیرالمؤمنینؑ نے بھی اس گفتگو کے اختتام پر اللہ سے یہی دعا کہ ہے ہمیں بھی پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ ملا دے۔

شمع زندگی