تَخَفَّفُوْا تَلْحَقُوْا۔ (خطبہ۲۱)

اپنا بوجھ ہلکا کر لو تاکہ آگے بڑھنے والوں کو پا سکو۔

انسان اس دنیا میں مسافر کے مانند ہے۔ کچھ اس سے پہلے مسافر تھے جو منزل تک پہنچ گئے، کچھ پیچھے آ رہے ہیں۔ انسان کی منزل و مقصود وہ کمال ہے جس کمال کے حصول کے لئے وہ پیدا ہوا ہے۔ اسے عرفا کی زبان میں سلوک الی اللہ کہتے ہیں۔ انسان نے زندگی کے سمندر میں اپنی کشتی ڈالی ہے۔ اس زندگی میں اسے تند و تیز ہواؤں کا اور بپھری ہوئی اور متلاطم موجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں جس کا سامان جتنا کم ہوگا اتنا ہی اس کا سفر اطمینان بخش ہوگا ۔ممکن ہے جو سامان اس کے پاس ہے اسے بھی کبھی سمندر میں پھیکنا پڑے تب کہیں وہ نجات پاسکے۔ با کمال انسان کا دل بھی اسی کشتی کے مانند توہمات و تخیلات کی موجوں سے ٹکراتا ہے اور دنیا کی محبت، مال و دولت سے الفت اور خواہشات کے تھپیڑوں سے الجھتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ جس نے دل کو ان محبتوں اورخواہشوں کے بوجھ سے بچا لیا وہ کامیاب ہو گیا اور جو ان کے بوجھ تلے دب گیا وہ ناکام و نامراد ہوا۔ جو لوگوں کے حقوق ادا کرتا رہے گا، اللہ کے احکام بجا لاتا رہے گا اور دنیاوی خواہشات و لذات سے دامن کو بچاتا رہے گا آسانی سے منزل کمال کو پا لے گا ۔بلکہ جو کامل ہوتے ہیں وہ راہ کے بھٹکے ہوئے راہیوں اور خطاؤں کے بوجھ تلے دبے ہوؤں کا سہارا بن جاتے ہیں اور انہیں بھی منزل تک پہنچادیتے ہیں، انہی کو رہنما و ہادی کہا جاتا ہے۔ اس لئے جو شخص دنیا کے بوجھ دنیا کے سمندر میں پھینک دے اور جس کی زندگی کی کشتی جذبہ انسانیت کی لہروں پر رواں دواں ہو وہ ایک اچھے ملاح کی طرح بہت سے غرق ہونے والوں کی نجات کا ضامن بن جائے گا اور وہی انسان کامل ہوگا۔

شمع زندگی