اَلسَّعِيْدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ۔ (خطبہ۸۴)
خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے پند و نصیحت حاصل کرتا ہے۔

انسان کے سیکھنے کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ حادثات و تجربات انسان کو جگاتے، ہوشیار کرتے، اور بہت سے سبق سکھاتے ہیں۔ نیک بخت ہے وہ انسان جو دوسروں کی زندگی کی کتاب کے مطالعہ سے سبق سیکھ لیتا ہے۔ دل کی آنکھوں سے ستمگروں کے طریقہ عمل کو پہچانتا ہے اور ان کے برے انجام سے آگاہ ہوتا ہے تو یہ سبق یاد کر لیتا ہے کہ اس راہ سے نہیں جانا جو تباہی کی طرف لے جاتی ہے ۔ اسی طرح با کمال لوگوں کی طے کی ہوئی منزلوں سے آگاہ ہوتا ہے اور جن راہوں کو طے کر کے وہ منزل تک پہنچے اور کامیاب ہوئے ان راہوں پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور منزل کو پا لیتا ہے۔دوسروں کی زندگیاں خواہ ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اور تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں یا ہمارے زمانے کے رہنے والے ہیں آئینہ ہونی چاہئیں ۔مثلاً زندگی کا طے شدہ سبق ہے کہ جنہوں نے محنت کی اور ہمت سے کام لیا وہ کامیاب ہوگئے اور جنھوں نے سستی کی وہ ناکام ہوگئے جب دوسروں سے یہ سبق مل گیا تو اس میں اپنا تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ دوسروں سے پند و نصیحت حاصل کرنا اور ان کے تجربوں سے فائدہ اٹھانا سعادت مندی ہے ۔ اگر کوئی شخص دوسروں کی زندگیوں کے بجائے اپنی گزشتہ زندگی کے تجربات سے بھی کچھ نہیں سیکھتا تو اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں۔

شمع زندگی