اَلشَّقِيُّ مَنِ انْخَدَعَ لِهَوَاهُ۔ (خطبہ۸۴)
جو ہوا و ہوس کے بہکاوے میں آ گیا وہ بہت بد بخت ہے۔

انسان کو مختلف پہلوؤں سے مختلف قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اُن میں سے ایک اُس کا نیک بخت اور بد بخت ہونا ہے۔ اس فرمان میں امیر المؤمنینؑ نے بد بخت کی حقیقت واضح فرمائی۔ دنیا میں اکثر بد بخت و بد نصیب اسے گنا جاتا ہے جسے دنیا میں سختیوں اور نا گواریوں کا سامنا ہو۔ دنیا کی لذیذ چیزوں سے محروم ہو۔ محبوبیت و شہرت سے بے بہرہ ہو۔ مگر امیر المؤمنینؑ یہاں فرماتے ہیں بد بخت وہ ہے جو خواہشات نفسانی کے فریب میں آ چکا ہو یا امیر المؤمنینؑ کے فرمان کے مطابق بد بخت وہ ہے جو عقل اور تجربہ کے ہوتے ہوئے اس کے فوائد سے محروم رہے۔ کسی فقیر یا خالی ہاتھ یعنی جس کی کوئی ملکیت نہیں اسے بد بخت خیال کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں بد بخت وہ ہے جو اپنے نفس کا مالک نہ ہو، بد بخت وہ ہے جو ساری قدرت رکھنے کے با وجود اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ اپنی خواہشات کا غلام ہے۔ بد بخت وہ نہیں جو حالات زمانہ یا مجبوریوں کی وجہ سے علم و معرفت حاصل نہ کر سکا ہو بلکہ بد بخت وہ ہے جسے علم و معرفت نے مغرور و خود پرست بنا دیا ہو۔ بدبخت وہ نہیں جو راہ نہ چل سکتا ہو بلکہ بد بخت وہ ہے جو راہ چلتے ہوؤں اور ناتواں افراد کو اور حقیقت پر مبنی اصولوں کو پاؤں تلے روند ڈالے۔بد بخت وہ نہیں جسے عالم طبیعت کے رنگ نظر نہیں آتے بلکہ بد بخت وہ ہے جو خود کو اپنی حقیقت کے مطابق دیکھ اور پہچان نہ سکے۔ بد بختی سے بچنے کے لئے امیر المؤمنینؑؑ نے خبردار کر دیا ہے کہ ہوا و ہوس کے دھوکے میں نہ آؤ ورنہ سب کچھ ہونے کے باوجود بدبخت حساب ہو گے۔

شمع زندگی