اَلصَّادِقُ عَلَى شَفَا مَنْجَاةٍ وَكَرَامَةٍ۔ (خطبہ۸۴)
سچا شخص نجات و عزت کی بلندیوں پر فائز ہوتا ہے۔

انسان ہی ایسی مخلوق ہے جسے سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے ۔ جو کبھی سچ بولتا ہے اور کبھی جھوٹ سے کام لیتا ہے۔ سچ یعنی حقیقت و واقعیت کے مطابق بات یا عمل کرنا اورجھوٹ یعنی حقیقت و واقعیت کے خلاف بات یا عمل کرنا۔ پتھر پتھر ہے وہ کبھی نہیں کہے گا کہ میں سونا ہوں اور چیونٹی کبھی یہ نہیں کہے گی کہ میں ہاتھی ہوں ۔ چیونٹی کا عمل بھی چیونٹی ہی کی طرح کا ہوگا، ہاتھی کی طرح نہیں ہوگا۔ چیونٹی دانے کو اٹھانے کی کوشش کرے گی درخت کی شاخوں کو نہیں توڑے گی۔امیر المؤمنینؑ نے یہاں فرمایا: جو واقعیت کے مطابق بات یا عمل کرتا ہے وہ بلندیوں اور فضیلتوں کا مالک قرار پائے گا اور جو جھوٹا ہوگا وہ پستی و ذلت کی گہرائیوں میں گرے گا۔ انسان ہوتا کچھ ہے اور کہتا کچھ اورہے۔ یاکہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے۔ یہ اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے ۔دنیا میں اکثر فتنہ و فساد کی بنیاد یہی جھوٹ ہوتا ہے۔ اکثر افراد اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کہیں گے کچھ مگر عمل اس کے خلاف ہوگا اور پھر اس جھوٹ کو مانیں گے نہیں بلکہ اپنے کام کی کوئی تاویل کر لیں گے۔ یوں بہت سوں کی زندگیاں جھوٹ کی بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں۔ اس لئے جو افراد حقائق کو جانتے اور ان کے مطابق عمل کرتے ہیں، خود کو پہچانتے اور اپنی طاقت کے مطابق آگے بڑھتے ہیں تو یہ سچے ہیں اور معاشرے میں ان کی عزت ہوگی۔ مگر جو اس کے برعکس کرتا ہے کسی نہ کسی وقت اس کا جھوٹ ظاہر ہو جاتا ہے۔ ایسے شخص کو دوسروں سے شرمسار ہونا پڑتا ہے یا کم از کم دوسروں کی نگاہوں میں گر جاتا ہے۔ اس لئےامامؑ فرماتے ہیں کہ عظمت و عزت چاہیے تو اس کے حصول کا نسخہ سچائی ہے۔ جو لوگ اپنے مقصد ومشن میں سچے ہوتے ہیں وہ محنت بھی اسی کےمطابق کرتے ہیں تو کامیابی انہیں نصیب ہوتی ہے۔

شمع زندگی