أَرَيْتُکُمْ کَرَائِمَ الْأَخْلاَقِ مِنْ نَفْسِي۔ (خطبہ۸۵)
کیامیں نے آپ کو پاکیزہ اخلاق پر عمل کر کے دکھایا ہے؟

کمال کی منزلوں کے حصول کے لیے با کمال راہنماؤں کی اطاعت و پیروی لازم ہے۔ اس لیے کمال کے مسافر کو پہلے راہنما تلاش کرنا چاہیے۔ اس جملے میں امیرالمؤمنینؑ نے خود کو بطور راہنما پیش کیاہے اور اپنے سات اوصاف میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ میں نے آپ کو زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر پاکیزہ اخلاق دکھائے ہیں۔ یعنی علی علیہ السلام کی سیرت سے اخلاقِ کریم کی پہچان ہو سکتی ہے اور اس پر عمل کے طریقے جانے جا سکتے ہیں۔ پیغمبر اکرمؐ کے اوصاف جو قرآن مجید نے بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔ امیرالمؤمنینؑ گویا بطور شاگرد ان اخلاقیات کو عملی طور پر بجا لا نے کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہدایت و ایثار، زہد و پارسائی، مظلوموں کی حمایت، یتیموں کی سرپرستی، مقصد کے لیے جرأت و شجاعت، اور بطور راہنما پیش آنے والے دکھ پر صبر وغیرہ اخلاق کریمہ میں شامل ہیں۔ یہاں آپؑ نے لفظ کرامت استعمال کیا ہے، حسن خلق نہیں کہا ۔ علماء کہتے ہیں حسن خلق یہ ہے کہ اچھائی کا بدلہ اچھائی سے دو یا اس سے بھی بہتر بدلا دو مگر کرامت اخلاقی یہ ہے کہ برائی کا بدلہ اچھائی سے دو۔ علی علیہ السلام کا قاتل ضرب لگاتا ہے علی علیہ السلام اس کی دیکھ بھال کی تاکید کرتے ہیں۔

اس حصے میں امیرالمؤمنینؑ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کیا میں نے تمھارے سامنے قرآن پر عمل نہیں کیا؟ گویا یہ عظیم راہنما قرآن پر عمل کر کے اور سیرت مصطفٰی کو عملی طور پر اپنا کر ہمیں دعوت دے رہے ہیں، میرے اعمال کو دیکھتے آؤ اور میرے پیچھے چلتے آؤ تو کمال کو پا لو گے۔ عظیم رہبر وہی ہوتا ہے جو عمل سے نمونہ بنتا ہے اور کمال کے متلاشی کو بھی چاہیے کہ وہ اس راہنما کے اصولوں کو عملاً اپنائے۔

شمع زندگی