زِنُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُوزَنُوا۔ (خطبہ۸۸)
اپنے نفسوں کو خود وزن کرو اس سے پہلے کہ کوئی وزن کرے۔

کامیاب انسان وہی ہو سکتا ہے جو سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے۔ اصلاح کے چند اصول بتاتے ہوئے امیرالمؤمنینؑ ارشاد فرماتے ہیں، اپنا وزن کرو اس سے پہلے کہ کوئی آپ کا وزن کرے۔ اس فرمان کو اکثر افراد نے آخرت کی اصلاح کے لیے بیان کیا ہے جبکہ حقیقت میں یہ دنیاوی و اخروی دونوں زندگیوں کی اصلاح کا بہترین قانون ہے۔ وزن سے مراد یہ ہے کہ آپ دنیا کے کسی شعبۂ زندگی میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو پہلے خود کو پرکھیں کہ جس کام میں آپ جانا چاہتے ہیں اس کی ذہنی و جسمانی قابلیت آپ میں ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ اگر زمین اس فصل کو اگانے کے قابل ہی نہ ہوئی تو ماہر باغبان اور قیمتی بیج بھی وہاں پھول نہیں کھلائے گا۔اسی طرح اپنی زمین اور قابلیت کا وزن و حساب کر کے، اپنی قابلیت کو جانچنے کے بعد کام شروع کیا جائے۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مسلسل اس کے معیار اور رفتار کو پرکھتے رہیں اور انصاف سے اس کی صحیح و غلط ہونے کا اندازہ لگاتے رہیں۔ اگر کہیں افراط و تفریط ہے تو خود کو حد وسط میں لے آئیں۔ اس طرح آپ کو اپنی کمزوریوں کا اندازہ ہو جائے گا اور اس کمی کو دور کیا جا سکے گا۔ اعمال کا وزن کرنے کے لیے کسی کامیاب انسان کی زندگی کو معیار بنایا جا سکتا ہے۔ کسی حکیم نے بہت خوب کہا ہے کہ اگر آپ کے کسی عمل کی وجہ سے سارا شہر آپ کی تعریف کرے تو اس پر فخر نہ کرو اور پورا شہر آپ کو برا بھلا کہے تو مایوس نہ ہو بلکہ اپنے عمل کو قرآن سے پرکھو، اگر قرآن کے حکم کے مطابق ہے تو شکر ادا کرو اور اگر مخالف ہے تو اس کی تلافی کرو۔ کامیاب تاجر وہی ہو تا ہے جو اپنے سرمائے کا وزن اور حساب رکھتا ہے۔ اسی طرح کامیاب انسان وہی ہوگا جو اپنے اعمال اور اپنے اوقات کا حساب رکھے۔ امیرالمؤمنینؑ نے اس فرمان کی تکمیل یوں فرمائی( اللہ کے بندو!اپنے نفسوں کو تولے جانے سے پہلے تول لو اور محاسبہ کیے جانے سے قبل خود اپنا محاسبہ کر لو۔ گلے کا پھندا تنگ ہونے سے پہلے سانس لے لو اور سختی کے ساتھ ہنکائے جانے سے پہلے مطیع و فرمانبردار بن جاؤ۔اور یاد رکھو کہ جسے اپنے نفس کیلئے یہ توفیق نہ ہو کہ وہ خود اپنے کو وعظ و پند کر لے اور برائیوں پر متنبہ کر دے تو پھر کسی اور کی بھی پند و توبیخ اس پر اثر نہیں کر سکتی۔

شمع زندگی