لَا یَسْتَغْنِی الرَّجُلُ وَ اِنْ كَانَ ذَا مَالٍ عَنْ عَشِیْرَتِهٖ۔ (خطبہ۲۳)

کوئی شخص بھی اگرچہ مالدار ہو اپنے قبیلہ والوں سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔

انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ کبھی مال و دولت تو کبھی فقر و غربت، اسی طرح کبھی خوشی و سکون، تو کبھی غم و اضطراب۔ با کمال انسان وہ ہے جو مشکلوں اور مشقتوں میں مایوس نہ ہو اور ہمت نہ ہارے ۔ سکون و خوشی میں زندگی کے دوسرے رخ کو نہ بھولے ، آرام و راحت کے دنوں میں سختی و مشکل کے دنوں کو یاد رکھے اور مال و دولت کے ہوتے ہوئے غریب و فقیر سے محبت دل میں سجائے رکھے۔ اس فرمان میں امیرالمومنینؑ نے دو پہلوؤں کی وضاحت فرمائی ہے ایک یہ کہ رشتہ داری اور خاندان کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ بعض اوقات انسان کے پاس مال آ جائے تو غریب رشتہ دار کی اس کے ہاں کوئی عزت نہیں رہتی خواہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے آپ نے خبردار کیا کہ مال آجائے تو رشتہ داروں سے تعلق میں فرق نہ آنے پائے اور یوں مال خرچ کی ترغیب دلائی اور مال خرچ کا بہترین مقام غریب رشتہ دار ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر رشتہ دار فقیر ہو تو کسی اور پر مال خرچ کرنا صدقہ ہی شمار نہیں ہوگا۔ دوسرا آپ نے یہ واضح فرمایا کہ خاندان کا کوئی فرد مالدار یا صاحب مقام بن جاتا ہے تو اس پر حسد کرنے والے بہت ہو جاتے ہیں اس صورت میں بہترین افراد جو اس کا دفاع کر سکتے ہیں وہ اس کے اور خاندان والے ہی ہو سکتے ہیں یعنی صاحب مال کو رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور اگر وہ اپنا فریضہ ادا نہ بھی کرے تو دوسری طرف غریب رشتہ دار اپنا فریضہ یعنی مالدار کی مدد کو نہ چھوڑیں۔ یوں آپ نے فرمایا آپ مال خرچ کریں گے تو رشتہ دار ہاتھ اور زبان سے آپ کی نصرت و مدد کریں گے۔ آپ کی پشت پناہی، پریشانیوں کو دور کرنے والے اور مصیبتوں میں مہربانی کرنے والے ہوں گے۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں قریبیوں کو فقر و فاقہ میں پائیں تو ان کی مدد کریں۔ آپ اگر مال روک لیں گے تو کچھ بڑھ نہیں جائے گا اور خرچ کریں گے تو کمی نہیں ہوگی ۔جو شخص اپنے قبیلہ کی اعانت سے ہاتھ روک لیتا ہے اس کا تو ایک ہاتھ رکتا ہے لیکن وقت آنے پر بہت سے ہاتھ مدد کرنے سے رک جاتے ہیں۔ اس لئے مالدار اپنا مال خرچ کر کے رشتہ نبھائے اور غریب اپنی جسمانی محنت سے اور اچھے الفاظ سے اپنے تعلقات پر پورا اترے۔

شمع زندگی