مَنْ تَلِنْ حَاشِیَتُهٗ یَسْتَدِمْ مِنْ قَوْمِهِ الْمَوَدَّةَ۔ (خطبہ۲۳)

جو شخص نرم مزاج ہوتا ہے وہ اپنی قوم کی محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔

نرم مزاجی اور خوش خلقی انسان کی زندگی کے ایسے سرمائے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ امیرالمؤمنینؑ نے رشتہ داروں سے مالی تعاون کا ذکر کیا اور اس کے بعد قوم و قبیلے سے پیار و محبت کی اہمیت بتائی۔ انسان جب مالدار ہو جائے تو اکثر اس میں تکبر آ جاتا ہے خاندان کے لوگوں اور عام غریبوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ خاندان سے الگ رہنے کو پسند کرتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ غریب خاندان ہو تو خود کو اس خاندان کے حوالے سے متعارف بھی نہیں کرواتا۔ ان کے گھر میں آنے جانے کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتا ہے۔امیرالمؤمنینؑ اس فرمان میں زندگی کا یہ درس دے رہے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی نعمات کے شکرانے کے طور پر مال و دولت کو اپنے عزیز و اقارب پر خرچ کرے اور اگر مال نہ ہو تو کم از کم ان کے ساتھ پیار و محبت اور عزت و احترام اور نرم مزاجی سے پیش آئے۔ خلوص بھرا سلام بھی ان کی محبت خریدنے کا سامان بن سکتا ہے۔ یہ نرم مزاجی قوم و قبیلہ اور عام افراد کے دل جیتنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ سخاوت و دردمندی کے ذریعے قبیلے کی محبت کا قلعہ مضبوط کر سکتا ہے۔ نرم مزاجی معاشرے میں سکون و آرام اور محبت و الفت پھیلا سکتی ہے ۔ یوں لوگوں کی زندگیاں بڑھ سکتی ہیں اور مال میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ انسان کو اس طرف بھی متوجہ رہنا چاہیے کہ کبھی خود تو بڑا نیک و متواضع ہوتا ہے مگر اس کے اردگرد والے اور مخصوص افراد اپنی بد خلقی اور سخت مزاجی کی وجہ سے لوگوں کو اس کے فیض سے محروم رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ایک فریضہ ہے کہ اردگرد والے افراد پر بھی نظر رکھے اور غریب افراد خاص طور پر رشتہ داروں کے ساتھ نرم مزاجی اور اچھے اخلاق سے پیش آنے کی تاکید کرے۔ یوں نرم خو شخص کی محبت عزیزوں اور غریبوں کے دلوں میں گھر کر جائے گی اور وہ زندگی میں اسے ملنے اور سلام کرنے کی خواہش رکھیں گے اور دنیا سے چلے جانے پر اس کے لئے طلب رحمت و مغفرت کریں گے۔

شمع زندگی