فِرُّوْا اِلَى اللهِ مِنَ اللهِ۔ (خطبہ ۲۴)

اللہ کے غضب سے بھاگ کر اس کے دامنِ رحمت میں پناہ لو۔

انسان کے کمال تک پہنچانے میں رہبر و راہنما کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ کامیاب راہنما سب سے پہلے یہ ثابت کرتا ہے کہ میں کامیاب ہوں تب ہی لوگ اسے راہنما مانتے ہیں۔ پھر کامیابی کی راہیں اور اصول بتاتا ہے کہ آپ ایسے کریں تو اس مقصد میں کامیابی ملے گی۔ کامیاب تاجر ہی تجارت میں کامیابی کے اصول بتائے گا تو لوگ قبول کریں گے۔ امیرالمومنینؑ اپنی زندگی میں بار بار اپنے ہادی و راہنما ہونے کا ذکر کرتے رہے اور خود کو کامیاب بھی قرار دیا۔ اس فرمان میں آپ ؑنے کامیابی کے چار اصول بتائے۔ پہلا اصول یہ کہ اللہ نے آپ کی بہتری و اچھائی کے لئے جو کچھ کہا ہے اس کی مخالفت سے ڈرو۔ دوسرا اصول یہ کہ اگر کبھی ارادے سے یا نادانی سے اُس کی مخالفت کے مرتکب ہو جاؤ تو ناامید نہ ہو بلکہ اللہ کے غضب و ناراضگی سے بچنے کے لئے اللہ ہی کی رحمت کا سہارا لو۔ یہ دستور اتنا عظیم ہے کہ ناکام سے ناکام شخص بھی ہمت نہیں ہارتا اور دامنِ امید کو نہیں چھوڑتا۔ تیسرا اصول یہ کہ اللہ نے آپ کو خلق کیا تو کمال تک پہنچانے کی راہ دکھائی ۔کبھی قرآن جیسی کتاب نازل کرکے راہ واضح فرمائی اور کبھی نبیوں کو بھیج کر ان راہوں پر چلایا اور اپنے بندوں کو دعوت دی کہ اِن کی اطاعت کر کے اُن راہوں کو طے کر یں۔ چوتھا اصول یہ کہ جو کچھ اللہ نے حکم دیا ہے اُسے بجا لاؤ۔ جن چیزوں کو انجام دینے کا حکم دیا انہیں انجام دو اور جن سے بچ کر گزر جانے کا فرمایا اس سے بچ کر چلو۔ اگر آپ ان اصولوں کو اپناؤ گے تو “میں علی ضمانت دیتا ہوں کہ تم نجات پاؤ گے” جلدی نہیں تو آخر کار ضرور کامیابی ملے گی۔ حقیقی کامیابی وہی ہے جو دیرپا ہو۔ امیرالمومنینؑ نجات و کامیابی کے اصول بیان فرما کر کامیابی کی ضمانت دے رہے ہیں مگر اِس ضمانت کی شرائط جو بیان ہوئی ہیں اُن پر عمل ہوگا تو ضمانتِ نجات پوری ہوگی۔

شمع زندگی