اِنَّ اَخْوَفَ مَاۤ اَخَافُ عَلَیْكُمُ:اتِّبَاعُ الْهَوٰى وَ طُوْلُ الْاَمَلِ ۔ (خطبہ۲۸)

مجھے تمہارے بارے میں دو چیزوں کا بڑا خوف ہے، خواہشوں کی پیروی اور لمبی امیدیں۔

سعادت و کمال کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ان راہوں کے خطرات سے آگاہ ہونا لازم ہے تاکہ ان خطرات سے بچ کر منزل تک پہنچا جا سکے۔ امیرالمؤمنینؑ نے اس فرمان میں دو اہم خطروں سے آگاہ فرمایا ہے۔ ایک خواہشات کی پیروی اور دوسرا لمبی امیدیں۔ انسان کی زندگی کو چلانے میں خواہشات کا اہم کردار ہوتا ہے مگر یہی خواہشات اگر حد سے بڑھ جائیں تو یہ انسان کی زندگی کے پورے نظام پر مسلط ہو جاتی ہیں اور حقائق کو جاننے یا سننے کی طاقت اس سے چھن جاتی ہے۔ گویا وہ نابینا اور بہرا ہے۔ قرآن کی اصطلاح کے مطابق وہی خواہشات اس کے ہاں خدا کا مقام حاصل کرلیتی ہیں، فکر و عقل معطل ہو جاتی ہے اور انسان زندگی کےواضح مسائل کو بھی سمجھ نہیں پاتا۔ ایسی حالت میں انسان منزل سے پہلے ہی کسی گہری کھائی میں گر جاتا ہے۔ اس لئے قرآن نے کامیابی کی نشانی یہ قرار دی ہے کہ وہ خود سے خواہشوں کو دور رکھتا ہے۔

دوسرا خطرہ جس سے آپ نے خبردار کیا ہے وہ لمبی امیدیں ہیں۔ امیرالمؤمنینؑ نے اس خطرے کو بار ہا مختلف الفاظ میں بیان فرمایا۔ امید انسان کی زندگی کے پہیے کو چلاتی ہے اگر امیدیں ختم ہو جائیں تو انسان زندگی میں حرکت ہی چھوڑ دے، اس لئے نا امیدی کو بڑا گناہ قرار دیا گیاہے مگر امیدیں اگر غیر منطقی ہو جائیں اور ان کی حد نہ رہے تو یہی امیدیں انسان کو کمزور کر دیتی ہیں اور جن چیزوں کو اسے کرنا تھا وہ کرنے نہیں دیتیں۔ لمبی امیدوں سے انسان آج کے کام کو کل پر چھوڑتا رہتا ہے اور یوں آہستہ آہستہ اس کے سب کام کل پر چلے جاتے ہیں اور وہ کل کبھی نہیں آتی۔ اس لئے کامیاب انسان اپنے مختصر ،درمیانی اور طویل مدتی منصوبے بناتا ہے۔ امید کی روشنی میں منصوبہ کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والے تجربات کی روشنی میں اس میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے۔

شمع زندگی