وَ اتَّعِظُوْا بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَبْلَ اَنْ یَّتَّعِظَ بِكُمْ مَن بَعْدَكُمْ۔ (خطبہ۳۲)

اپنے سے پہلے والوں سے تم عبرت حاصل کرو اس سے پہلے کہ بعد والے تم سے عبرت حاصل کریں۔

انسانی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ دوسروں سے سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔ سمجھدار انسان وہی ہے جو دوسروں سے سیکھنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا بلکہ وہ تلاش میں رہتا ہے کہ کسی سے سیکھوں۔ احادیث میں آیا ہے کہ مومن علم کو اپنی گمشدہ میراث سمجھتا ہے، منافق سے بھی ملے تو لے لیتا ہے۔ یہی تلاش اور طلب اسے با کمال بناتی ہے۔ اسے کہاں سے سیکھنا ہے اس میں سے ایک اہم ذریعہ کی امیرالمؤمنینؑ نے نشاندہی فرمائی کہ اپنے سے پہلے والوں سے سیکھو، بعد والے تو بہر حال آپ سے سیکھتے رہیں گے۔ اپنے سے پہلے والوں میں بزرگ معلم بھی آتے ہیں جو زندہ ہیں یا دنیا سے چلے گئے اور کتاب کی صورت میں علوم چھوڑ گئے ہیں۔ اس فرمان میں پہلے والوں سے مراد ان کے تجربات مقصود ہیں یا ان کے حالات و تاریخ سے عبرت حاصل کرنا مراد ہے۔ تاریخ و تجربات انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ ہر روز کئی حادثات و واقعات سیکھنے کے لئے نظر سےگزرتے ہیں مگر انسان اکثر توجہ نہیں کرتا۔ کتنے ایسے افراد گزر گئے جنہوں نے ساری زندگی سرمایہ جمع کیا مگر استعمال کرنا نصیب نہ ہوا۔کتنے ایسے تھے جنہوں نے محلات بنائے مگر آج وہ ویران پڑے ہیں۔ کتنے قوت و طاقت والے تھے جو کسی کے محتاج ہو گئے۔ یہ سب وہ خاموش واعظ اور سکھانے والے ہیں جو اپنی بےزبانی سے پوری پوری زندگی کی خبر دے رہے ہیں۔ اس ساری زندگی کا ایک سبق مشترک ہے اور وہ یہ کہ جو آپ نے اپنا بنا کر رکھا وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خلوص سے انسانیت کی خدمت کے لئے خرچ کرتے ہیں وہ باقی رہ جاتا ہے۔ آپ اس پر عمل کریں گے تو آئندہ آنے والوں کے لئے مثبت سبق چھوڑ جائیں گے اور آپ اگر انسانیت کو بھلا کر چلے جائیں گے تو آپ ایک منفی نمونے کے طور پر دوسروں کے لیے سبق آموز بنیں گے۔

شمع زندگی