غُلِبَ وَاللهِ الْمُتَخَاذِلُوْنَ۔ (خطبہ ۳۴)

خدا کی قسم ! ایک دوسرے پر ٹالنے والے ہارا ہی کرتے ہیں۔

انسان کی زندگی معاشرتی زندگی ہے۔ بہت سے کام دوسروں کے ذریعے یا دوسروں کی مدد سے انجام پاتے ہیں۔ ایسے اجتماعی کاموں میں یا گروہی سرگرمیوں میں کامیابی و ترقی میں دو چیزوں کا ہونا لازم ہے۔ ایک یہ کہ ہر کسی کے ذمہ جو کام ہے اسے مکمل دل جمعی سے اور بہتر سے بہتر معیار اور طریقے سے انجام دے۔ اپنے حصے کے کام کو دوسروں پر نہ چھوڑے کہ یہ حصہ فلاں کر لے گا۔ دوسرا کہے گا فلاں کر لے گا تو یوں کبھی کام مکمل نہیں ہوگا۔ دوسری چیز جو کامیابی کے لیے لازم ہے وہ دوسروں کی مدد کرنا ہے۔ کبھی کسی کے مشورے کے ذریعے راہنمائی کر کے مدد کی جا سکتی ہے اور کبھی عمل میں اس سے تعاون کیا جا سکتا ہے۔

امیرالمؤمنینؑ نے یہاں ایک عمومی اور واضح اصول بیان فرما دیا کہ زندگی میں جو لوگ بھی اپنا کام خود انجام دینے کے بجائے دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں یا اپنا کام تو کسی حد تک انجام دے دیتے ہیں مگر اس کام میں دوسروں کے ساتھ ہاتھ بٹانے کا خیال نہیں کرتے اور اس کی مدد کو چھوڑ دیتے ہیں تو دونوں صورتوں میں انہیں یقیناً ناکامی و شکست کا سامنا کرنا پڑے گا یا کم از کم وہ کام معیاری نہیں ہوگا۔ اس فرمان سے اپنے سربراہ کی مدد ترک کرنا بھی لیا جاتا سکتا ہے کہ سربراہ کسی کام کی انجام دہی کا کہے اور ما تحت اس کام کی بجا آوری میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہے کہ فلاں اسے انجام دے لے گا۔ اس کا نتیجہ واضح ہے کہ یہ ٹال مٹول کام میں رکاوٹ بنے گی اور اس شخص، یا اس گروہ بلکہ اس سربراہ کو بھی ناکامی کا سامنا ہوگا۔ اس لیے ہر کام کو اپنا کام سمجھ کر اور دوسروں کے ذمہ کاموں میں اپنا حصہ شامل کر کے اور سر براہ کے حکم کو اپنی ذمہ داری جان کر انجام دیا جائے تو کاموں کی رفتار بھی تیز ہوگی اور کامیابی بھی نصیب ہوگی۔

شمع زندگی