ولتکن منکم امت یدعون الی الخیر

مرکز افکار اسلامی چند سالوں سے علما کی زحمات اور مومنین کرام کے تعاون سے امور خیریہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے ۔مرکز کی نگرانی میں انجام پانے والے امور خیریہ کی تفصیل.

۱۔جامعہ جعفریہ جنڈ ضلع اٹک۔

مارچ ۱۹۸۶ میں مولانا ملک ذولفقار کی کی کوشش اور علامہ صفدر حسین کی ترغیب سے جنڈ  کے ایک متدین مومن ملک امیر محمد خان نے ۱۲ کنال جگہ مدرسہ کے لئے وقف کرائی۔اور یوں اس علقے کی ایک دیرینہ ضرورت کے پیش نظرایک دینی درسگاہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔۔۔۔۔ تعمیرات کا سلسلہ چلتا رہا اور ۔اپریل ۱۹۹۰ میں  مولانا زولفقار صاحب قم سے  مقبول علوی کو لائے اور مدرسہ میں تعلیمی سلسلہ کا آغاز ہوا۔۔۔۔۔۔ اب مدرسہ مرکز کی نگرنی میں رواں دواں ۔۔۔۵۰ کے قریب طلبا ۴ اساتذہ ۴ دوسرے ملازمین  ۸ کمرے مناسب باورچی خانہ۔خوبصورت مسجد مولانا عاشق نقوی صاحب کے تعاون سے بنی ۔

ضروریات :اس وقت طلبائ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مدرسہ کے لئے   رہائشی کمروں ۔باتھ روم اور کلاس روم کی اشد ضررت ہے ۔قرآن کلاسوں کے لئے جگہ

لائبریری :عربی کتب کی کافی مقدار ہے البتہ نئے طلبا اور عوام کی ضرورت کے پیش نظر اردو کتابوں اور لائبریری کے لئے مناسب فرنیچر کی ضرورت ہے۔ کمپیوٹر روم تعمیر ہو چکا ہے ۔چار کمپیوٹر موجود ہیں ۶ اور کمپیوٹر ضرورت ہیں۔

۲:جامعہ زینبیہ  ۲۰۰۳ میں جنڈ کی ایک مومنہ نے ۵ کنال جگہ بچیوں کے مدرسہ کے لئے وقف کی۔متعدد وجوہات کی بنا پر تعمیرات نہ ہو سکیں ۔اب تعمیرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے  چھ لاکھ روپے کی لاگت سےچاردیوری مکمل ہو چکی ہے اور مقامی بچیوں کے لئے عارضی جگہ پر کلاسیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ مدرس کے لئے رہائشی کمروں اور مؑلمہ کے رہائشی مکان کی فوری ضرورت ہے۔

۳:قرآن سنٹر 

۴:پبلیکشن ۱۹ کتابیں چھپ چکی ہیں۔۔۔

۵۔ہر سال کئی لیفلٹ تبلیغ کے لئے پرنٹ ہوتے ہیں۔

۶:کتاب خوانی کا مقابلہ یا حفظ کا مقابلہ۔

۷:مومنین سے مالی تعاون۔

الفَ:ماہانہ اخراجات

ب:کھانے میں تعون خاص کر رمضان 

ج:تعلیم

د:شادیاں 

ہ:علاج و:شادیاں: عمومی مجبوریاں؛

۸:مساجد کی تعمیر:کئی جگہوں پر تعاون کیا۔

۹:امام بارگاہوں میں تعاون۔مجالس کے انعقاد میں تعاون

۱۰:دیگر دینی مدارس کے ساتھ تعاون۔

۱۱:تبلیغی کاموں میں تعاون مثلا شارٹ کورس میں

  ۱۲:خود مختاری  مویشی مہیا کرنا سلائی مشین ان امور میں مومنین نے ہمیشہ ساتھ دیا اور مزید تعاون کی ضرورت ہے۔

مدنظر امور

یتیم بچوں کی کفالت۔

میڈیکل سنٹر

دار التصنیف