۳۴۱)   ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہوگا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔

۳۴۲) سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔

۳۴۳) گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے۔ اور لوگوں کے جسموں میں نقص اور عقلوں میں فتور آنے والاہے ۔مگر وہ کہ جسے اللہ بچائے رکھے۔ ان میں پوچھنے والاالجھانا چاہتا ہے اور جواب دینے والا(بے جانے بوجھے جواب کی)زحمت اٹھاتا ہے ۔جو ان میں درست رائے رکھتا ہےاکثر خوشنودی و ناراضگی کے تصورات اسے صحیح رائے سے موڑ دیتے ہیں اور جو ان میں عقل کے لحاظ سے پختہ ہوتا ہے بہت ممکن ہے کہ ایک نگا ہ اس کے دل پر اثر کردے اور ایک کلمہ اس میں انقلاب پیدا کردے۔

۳۴۴)  اے گروہ مردم! اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں اور ایسے گھر تعمیر کرنے والے ہیں جن میں رہنا نصیب نہیں ہوتا اور ایسا مال جمع کرنے والے ہیں جسے چھوڑجاتے ہیں ۔حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسے غلط طریقہ سے جمع کیا ہو ،یا کسی کا حق دبا کر حاصل کیا ہو۔ اس طرح اسے بطور حرام پایا ہو اور اس کی وجہ سے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہو، تو اس کا وبال لے کر پلٹے اور اپنے پروردگار کے حضور رنج و افسوس کرتے ہوئے جا پہنچے دنیا و آخرت دونوں میں گھاٹا اٹھایا یہی تو کھلم کھلاگھاٹا ہے۔

۳۴۵) گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔

۳۴۶) تمہاری آبرو قائم ہے جسے دست سوال دراز کرنا بہا دیتا ہے۔ لہٰذا یہ خیال رہے کہ کس کے آگے اپنی آبرو ریزی کر رہے ہو۔

۳۴۷) کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد۔

۳۴۸) سب سے بھاری گناہ وہ ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والااسے سبک سمجھے۔

۳۴۹) جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے، وہ اسی سے قتل ہوتا ہے ۔جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے،وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے۔جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے۔جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہوگا۔جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا ۔اور جس کی لغزشیں زیادہ ہوں ،اس کی حیا کم ہو جائے گی۔ اور جس میں حیا کم ہواس میں تقویٰ کم ہوگا اور جس میں تقویٰ کم ہوگا اس کا، دل مردہ ہوجائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہوگیا ،وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے وہ  سرا سرا حمق ہے۔ قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کاقول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔

۳۵۰) لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالاہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔

۳۵۱) جب سختی انتہا کوپہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہوگی اور جب ابتلاء ومصیبت کی کڑیاں تنگ ہوجائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔

۳۵۲) اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو۔ اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں ،تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں، تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔

۳۵۳) سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو بر ا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔

۳۵۴) حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پید ا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’شاہسوار مبارک ہو‘‘۔جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو بلکہ یہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔

۳۵۵) حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمار ت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا: چاندی کے سکوں نے سر نکالاہے۔ بلاشبہ یہ عمار ت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے۔

۳۵۶)  حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کردیا جائے، تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا: جدھر سے اس کی موت آئے گی۔

۳۵۷) حضرت نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے ۔یہ تمہارا ساتھی مصروف سفر رہتا تھا۔ اب بھی یہی سمجھو کہ وہ اپنے کسی سفرمیں ہے ۔اگر وہ آگیا تو بہتر، ورنہ تم خود اس کے پاس پہنچ جاؤگے۔

۳۵۸)  اے لوگو! چاہیے کہ اللہ تم کو نعمت و آسائش کے موقع پر بھی اسی طرح خائف و ترساں دیکھے جس طرح تمہیں عذاب سے ہراساں دیکھتا ہے۔ بیشک جسے فراخ دستی حاصل ہو، اور وہ اسے کم کم عذاب کی طرف بڑھنے کا سبب نہ سمجھے تو اس نے خوفناک چیز سے اپنے کو مطمئن سمجھ لیا اور جو تنگدست ہو ،اور وہ اسے آزمائش نہ سمجھے، تو اس نے اس ثواب کو ضائع کردیا، کہ جس کی امید وآرزو کی جاتی ہے۔

۳۵۹) اے حرص و طمع کے اسیرو! باز آؤ کیونکہ دنیا پر ٹوٹنے والوں کو حوادث زمانہ کے دانت پیسنے ہی کا اندیشہ کرنا چاہیے۔ اے لوگو! خود ہی اپنی اصلاح کا ذمہ لو، اور اپنی عادتوں کے تقاضوں سے منہ موڑلو۔

۳۶۰) کسی کے منہ سے نکلنے والی بات میں اگر اچھائی کاپہلو نکل سکتا ہو، تو اس کے بارے میں بدگمانی نہ کرو۔