جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ،اس نے اپنے کو سُبک کیا اور جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلّت پر آمادہ ہوگیا ،اور جس نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا ،اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا ۔