امام علیؑ اور عفو و درگزر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بیروت کے عیسائی ادیب جارج جرداق کی مشہور زمانہ کتاب “ندائے عدالت انسانی” سے کون واقف نہیں جو امیر المومنین امام علی ؑ کی سیرت پر مشتمل ہے یہ کتاب ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اس کتاب پر مقدمہ عیسائی محقق میخائیل نعیمہ نے لکھا جو نہایت جاندار، توانا اور جاذب نظر ہے۔ اس صاحب نے اپنے دو صفحوں پر مشتمل مقدمہ میں اس کتاب کا خوب صورت انداز میں تعارف کرایا ہے۔ انہوں نے لکھا

کوئی ہی مورخ کتنا ہی چست ،چابک دست، توانا اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک کیوں نہ ہو ایک ہزار صفحات میں بھی امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی زندگانی کی کامل و اکمل اور مکمل تصویر کشی نہیں کر سکتا۔؟

عرب کے اس بحر العقول نادر روز گار انسان نے جو باتیں سوچیں،کہیں اور عمل میں لائیں۔ وہ ایسی باتیں ہیں کہ نہ کسی کان نے پہلے سنیں اور نہ کسی آنکھ نے پہلے دیکھیں، کوئی مورخ زبان اور قلم سے ان باتوں کو کتنا ہی شرح و بسط سے کیوں نہ بیان کرے پھر بھی وہ اس سے کہیں بیش از بیش ہیں اس بناء پر آپ کی جتنی بھی تصویر کشی کی جائےوہ لامحالہ ناقص ہو گی۔

میخائیل نعیمہ آگے لکھتے ہیں: مجھے یقین کامل ہے کہ اس کتاب کے لائق و فائق مصنف جیسا کہ وہ ماہر انشاء پرواز، تحقیق کا دلدادہ، انصاف کا شیدائی ہے علیؑ کی تصویر کشی میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوا ہے جسے دیکھ کر آپ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ تصویر ایک ایسے انسان کی ہے جو پیغمبر ﷺکے بعد بزرگ ترین انسان تھا۔

اس مقدمہ کے آغاز میں میخائیل نعیمہ لکھتے ہیں:

بزرگوں کی تاریخ ہمارے لئے عبرت،تجربہ ،ایمان وآرزو کا ایسا سرچشمہ ہے جو کبھی خشک نہ ہوگا، بزرگان جہاں ان بلند و بالا پہاڑ کی چوٹیوں کے ہیں جن پر ہم انتہائی اشتیاق اور دلچسپی سے پہنچنےکی کوشش کرتے ہیں وہ ایسے روشنی کے مینارے ہیں جن سے ہمارے گردوپیش کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں۔۔۔۔ علی بن ابی طالب علیہ السلام انہیں کامیاب ہونے والوں میں سے ایک ہیں۔ یہ موت پر فتح پانے والے ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں اگرچہ زمان و مکان کے فاصلے ہمارے اور ان کے درمیان حائل ہیں۔ مگر نہ تو زمانہ ہمیں اُن کی باتیں سننے سے مانع ہے نہ فاصلے کی دوری ہماری نگاہوں کو ان کی صورتیں دیکھنے سے روک سکتی ہے۔یہ کتاب انسانیت کے ایک بڑے بزرگ کی تاریخ ہے جو اگرچہ عرب میں پیدا ہوا تھا مگر اس کی ذات عرب ہی کے لیے مخصوص نہیں۔ اس کی عنایات وکرم کے چشمے اسلام نے ظاہر کیے مگر وہ اسلام میں ہی منحصر نہیں۔ اگر علیؑ فقط اسلام کے لئے ہوتے تو لبنان کے ایک عیسائی فاضل کے دل میں جذبہ بے اختیار شوق نہ پیدا ہوتا۔
جی ہاں! امامؑ وہ سربلند و سرفراز اور ممتاز شخص ہیں کہ جن میں ہر خاصہ انسانی بدرجہ اتم موجود ہے ہم یہاں اس مقالہ میں صرف امامؑ کے ایک خاصہ عفو و درگزر پر ایک محدود دائرہ میں بحث کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن کریم میں مادہ عفو بیس آیات میں مذکور ہے لیکن نہج البلاغہ میں یہی مادہ اٹھتالیس دفعہ مذکور ہے باب مدینۃ العلم نبیﷺ نے جہاں عفو و درگزر کا حکم دیا وہاں آپؑ نے یہ عمل کرکے دکھایا:

دشمن ۔۔فوج سے سلوک

جارج جرداق اپنی کتاب ندائے عدالتِ انسانی میں لکھتے ہیں:

تم نے تاریخ کے صفحات پر کوئی ایسا بہادر پایا ہے کہ جس کے مقابلے میں ہوس پرستوں کا ایسا گروہ آیا ہو کہ جس میں خود اُس کے اعزہ بھی شامل ہوں اور آپس میں جنگ ہوئی ہو اور وہ جو لوگ فتح یاب ہوئے ہوں وہ مغلوب ہو گئے ہو ں مگروہ شکست کھانے کے بعد غالب رہا ہو؟

اس لیے کہ اُس کے دشمن انسانیت سے دور تھے اور انہوں نے حیلہ سازی اور رشوت طلبی اور مکر و فریب کو اپنا آلہ کار بنا کر ظالمانہ حیثیت سے تلوار اٹھائی تھی لیکن وہ فضیلت انسانی، حقوقِ بشر کی رعایت اور ترویجِ عدالت و مساوات کے راستے میں اپنے روشن دل اوردوربین عقل کے ساتھ کسی قسم کے منفعت بلکہ اپنی ہستی سے بھی درگزر اور یہی سبب تھا کہ دشمن کی فتح و پیروزی درحقیقت شکست تھی اور اُس کی شکست فضائلِ انسانی کے لیے ایک عظیم کامیابی تھی۔

تم نے صفحات تاریخ پر کسی ایسے دلیر و جنگ جُو کا پتا لگایا ہے کہ جو اپنے مخالفین سے بھی انتہائی محبت رکھتا ہو اور چاہتا ہو کہ انھیں انسانی صفات سے متصف دیکھے؟

امام ؑ کی اپنی فوج کو وصیت:

دشمنوں کے حق میں وہ اس قدر مہربان تھے کہ اُنہوں نے اپنی فوج کو وصیت کی:

۱۔ جب تک دشمن خود لڑائی شروع نہ کرے تم اُس سے جنگ کی ابتدا نہ کرنا۔
۲۔ جب حکم خدا سے اُسے شکست ہو جائے تو جو شخص میدان سے پیٹھ دکھائے اُسے قتل نہ کرنا
۳۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرنا۔
۴۔ مجبوروں اور زخمیوں کو قتل نہ کرنا۔
۵۔ عورتوں کو اذیت و آزار سے دوچار نہ کرنا۔

خون کے پیاسے دشمن کو پانی پلانا

جب گیارہ ہزار دشمنوں کی فوج جو نا حق ان کے خون کی پیاسی تھی وہ انہی پر پانی بند کردے تاکہ امامؑ اور اس کی فوج پر پانی بند کردے تاکہ وہ پیاس سے دم توڑد یں لیکن امامؑ کی فوج ان سنگ دلوں کو بھگا کر دریا پر قبضہ کر لیتی ہے تو امامؑ اپنے دشمن کو پانی پینے کی دعوت دیتے ہیں اور فرماتے ہیں:

جس طرح ہم اور ہمارے ساتھی پانی لے رہے ہیں اور پرندے پیاس بجھا رہے ہیں تم بھی پانی لے جاؤ اور سیرو سیراب ہو؟
جی ہاں! آپؑ کا یہ فرمان آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

جو شخص خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے اُس کا اجر اس آدمی سے زیادہ نہیں ہے جو انتقام لے سکتا ہو اور پھر بھی درگزر کرے۔

اپنے بھائی پر احسان کرو

امامؑ کی شان اقدس میں ایک جماعت نے گستاخی کی۔ آپؑ کے اصحاب کو ان کا یہ سلوک جب اچھا نہ لگا تو انہوں نےبھی اُن کی گستاخی کا جواب گالیوں میں دیا۔ تو آپؑ نے اس عمل کو پسند نہ کیا۔آپؑ نے فرمایا:میں اِسے پسند نہیں کرتا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو کر گالی کہنے والے بنو۔

جی ہاں!لوگوں نے آپؑ کے ساتھ برائی کی آپؑ سے دشمنی کی وہ مرنے مارنے پر اُتر آئے لیکن آپؑ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ احسان کر کے اُس کی تنبیہ کرو اور انعام و اکرام کے ذریعہ اُس کی طبیعت کی اصلاح کرو۔

نیز فرمایا: تمہارا بھائی مہر و الفت کا رشتہ توڑنے میں تم سے زیادہ طاقت ور نہیں ہے اگر تم اُسے جوڑنے کی کوشش کرو اور ظلم و ایذا رسانی میں وہ تم سے زیادہ تیز دم نہیں ہے اگر تم نیکی اور احسان کا برتاؤ کرو۔

ایک دفعہ امامؑ نے کسی شخص پر احسان کیا تھا لیکن وہ کسی جنگ میں آپؑ کے مقابلے میں اُتر ا تو آپؑ نے اس کے سامنے اپنی ذات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

اگر کوئی شخص تمہاری نعمت کا شکر ادا نہ کرے تو اس سے تمہارا احسان منقطع نہیں ہونا چاہیے۔
جارج جرداق اپنی بات کو بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

تم کسی ایسے دینی پیشوا کو جانتے ہو جو اپنے حکام کو ان الفاظ میں ہدایت دے، لوگ یا تو دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے مساوی، لہذا اُن کے ساتھ اس طرح درگزر اور چشم پوشی کا سلوک کرو کہ جس طرح تم چاہتے ہو کہ خدا تمہارے ساتھ کرے۔ (ماخوذ از خط ۵۳)

دشمنوں کے ساتھ درگزر اور چشم پوشی میں تاریخ کے اندر آپؑ کی نظیر نہیں ملتی۔ آپؑ کے در گزر کی ہزاروں حکایتیں شمار سے باہر ہیں:

جنگ جمل میں جس وقت امامؑ نے اپنے جانی دشمنوں عبداللہ بن زبیر ،مروان بن الحکم،اور سعید بن عاص پر قابو پایا تو ان کے ساتھ معافی اور نیکی کا سلوک کیا اور اُنہیں سزا دینے سے اپنے اصحاب کو باز رکھا۔

جب عمرو عاص نے آپ ؑ کو تسلیم کیا۔

عمرو عاص ابن ابی طالب کا سخت ترین دشمن تھا جب وہ آپؑ کے مقابلے میں میدان جنگ میں آیا اور اپنے آپ کو امامؑ کی تلوار سے محفوظ نہ دیکھا تو اُس نے آپؑ کے حضور اپنا ننگ کھول دیا تھا امامؑ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اُسے چھوڑ دیا۔
جب ایک خارجی نے کہا: خدا اِسے قتل کرے۔

ہمیشہ آپؑ انسانیت، عرفان اور ایمان کی بنیاد پر لوگوں کو پندونصیحت کے ذریعہ گمراہی سے باز رکھتے۔ ایک دفعہ ایک مجمع میں آپؑ موعظہ فرما رہے تھے بہت سے خارجی بھی سن رہے تھے جو امامؑ کو کافر سمجھتے تھے (نعوذ باللہ) اُن میں سے ایک خارجی نے جو حضرت علی علیہ السلام کی بلاغتِ کلام سے متعجب اور شیرین بیانی اور تاثیر سخن سے متحیر ہو رہا تھا کہ اُس نے کہا:

خدا اِسے قتل کرے کس قدر بافہم اور دانش مند کافر ہے۔

پیروانِ امام علی علیہ السلام نے چاہا کہ اُسے قتل کردیں تو آپؑ نے آواز دی کہ اس نے زبان سے بُرا کہا ہے اُس کا بدلہ زبان ہی سے لینا چاہئے یا پھر اُس خطا سے درگزر کرنا چاہیے۔

جب مجھے غصہ آئے

جب انسان کو غصہ آتا ہے تو اُس سے وہ تباہ کاریاں ظاہر ہوتی ہیں جو اُس کی اپنی ذات اور دوسروں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں اس لیے امامؑ اپنے پیروؤں کو غصہ کو ضبط کرنے کی عفو درگذر کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

جب غصہ مجھے آئے تو کب اپنے غصہ کو اتاروں؟ کیا اُس وقت کہ جب انتقام نہ لے سکوں اور یہ کہا جائے کہ صبر کیجئے یا اُس وقت جب انتقام پر قدرت ہو اور کہا جائے کہ بہتر ہے درگزر کیجئے۔(کلمات قصار ۱۹۴)

عفو و درگزر فضیلت انسانی کا جوہر

حیدر کرارؑ کا فرمان ہے۔

دشمن پر قابو پاؤ تو اُس قابو پانے کا شکرانہ اُس کو معاف کر دینا قرار دو۔

علامہ مفتی جعفر صاحب نے اس فرمان کی شرح میں لکھا:

’’عفو و درگزر‘‘ کا محل وہی ہوتا ہے جہاں انتقام پر قدرت ہو، اور جہاں قدرت ہی نہ ہو وہاں انتقام سے ہاتھ اٹھا لینا مجبوری کا نتیجہ ہوتا ہے جس پر کوئی فضیلت مرتب نہیں ہوتی۔ البتہ قدرت و اقتدارکے ہوتے ہوئے عفو و درگزر سے کام لینا فضیلت انسانی کا جوہر اور اللہ کی اس بخشی ہوئی نعمت کے مقابلہ میں اظہار شکر ہے۔ کیونکہ شکر کا جذبہ اس کا مقتضی ہوتا ہے کہ انسان اللہ کے سامنے تذلل و انکسارسے جھکے جس سے اس کے دل میں رحم و رافت کے لطیف جذبات پیدا ہوں گے اور غیظ وغضب کے بھڑکتے ہوئے شعلے ٹھنڈے پڑجائیں گے، جس کے بعد انتقام کا کوئی داعی ہی نہ رہے گا کہ وہ اس قوت و قدرت کو ٹھیک ٹھیک کام میں لانے کی بجائے اپنے غضب کے فرو کر نے کا ذریعہ قرار دے۔

اس لیے امامؑ نے ایک اور مقام پر فرمایا:

معاف کرنا سب سے زیادہ اُسے زیب دیتا ہے جو سزا دینے پر قادر ہو۔ (کلمات قصار۵۲)

امام علیہ السلام خط 53 میں مالک اشتر سے فرماتے ہیں:

رعایا کیلئے اپنے دل کے اندر رحم و رافت اور لطف و محبت کو جگہ دو۔ ان کیلئے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جاؤ کہ انہیں نگل جانا غنیمت سمجھتے ہو۔ اس لئے کہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک تو تمہارے دینی بھائی اور دوسرے تمہارے جیسی مخلوقِ خدا۔ ان سے لغزشیں بھی ہوں گی، خطاؤں سے بھی انہیں سابقہ پڑے گا اور ان کے ہاتھوں سے جان بوجھ کر یا بھولے چوکے سے غلطیاں بھی ہوں گی۔ تم ان سے اسی طرح عفو و در گزر سے کام لینا جس طرح اللہ سے اپنے لئے عفو و درگزر کو پسند کرتے ہو۔

خط نمبر ۶۹ میں فرماتے ہیں:

غصہ کو ضبط کر و، اور اختیار و اقتدار کے ہوتے ہوئے عفو و درگزر سے کام لو، اور غصہ کے وقت بردباری اختیار کرو اور دولت و اقتدار کے ہوتے ہوئے معاف کرو تو انجام کی کامیابی تمہارے ہاتھ رہے گی۔

ایک دفعہ آپؑ کسی وجہ سے نعیم بن دجاجہ پر ناراض ہوئے آپؑ نے اسے سزا دینے کا ارادہ کیا۔ نعیم نے آپؑ کی خدمت میں عرض کیا: آپؑ کے ساتھ رہنا ذلت کا موجب ہے لیکن آپؑ کا چھوڑنا سراسر کفر ہے۔

جب امامؑ نے اُس کے یہ جذبات سنے تو فرمایا:

میں نے تمہیں معاف کیا کیونکہ ارشادِ خداوندی ہے: اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحسَنُ ۔
برائی کو اچھائی کے ذریعہ سے دور کرو۔

آپؑ نے اُس سے کہا:تیرا یہ کہنا کہ آپؑ کے ساتھ رہنا ذلت کا موجب ہے یہ تیری برائی ہے جو تجھ سے صادرہوئی ہے، پھرتیرا یہ کہنا آپؑ کو چھوڑنا سراسر کفر ہے، تیرے یہ الفاظ نیکی پر مبنی ہیں جو تیری برائی کو ختم کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ (امام علیؑ ولادت سے شہادت تک علامہ قزوینی ص۲۲۱)

افصح العرب امامؑ نے خطبہ ۸۵ میں قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

وَ اَلْبَسْتُكُمُ الْعَافِیَةَ مِنْ عَدْلِیْ۔

اور اپنے عدل سے تمہیں عافیت کے جامے پہنائے اور اپنے قول و عمل سے حسن و سلوک کا فرش تمہارے لئے بچھا دیا۔
حضرت خواجہ نصیر الدین طوسیؒ نے اپنی کتاب اخلاق محتشمی میں امامؑ کے درگزر کا ایک واقعہ بیان کیا:

ایک دفعہ امامؑ نے اپنے خادم کو آواز دی جو آپؑ سے کچھ فاصلے پر تھا لیکن وہ آپؑ کی طرف نہ آیا: پھر آپؑ نے دوسری دفعہ اُسے آواز دی پھر بھی وہ نہ آیا پھر آپؑ وہاں تشریف لے گئے جہاں وہ تھا۔ جب اُس نے آپؑ کو دیکھا تو نہایت ادب و احترام سے کھڑا ہو گیا امامؑ نے اُس سے پوچھا میں نے جب تمہیں دو دفعہ آواز دی اور تم نے میری آواز سنی بھی ہے تو میرے پاس کیوں نہیں آیا؟ اُس غلام نے عرض کیا: اے میرے آقا میں آپؑ کے مزاج سے واقف ہوں کہ آپؑ جلد غلطیوں کو معاف کر دینے والے ہیں اسی چیز نے مجھے آپ کے حکم کی تعمیل سے روکے رکھا:

امامؑ غلام کی بات سن کر مسکرا دئے اور اُسے آزاد کردیا۔

امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو ہمیشہ عفو درگزر کا درس دیا۔ جنگ جمل جب اپنے اختتام پر پہنچی تو آپؑ نے حضرت عائشہؓ کو نہایت احترام کے ساتھ مدینہ طیبہ کی طرف بھیجا اور ان کے لشکر کے لوگوں کو معاف کر دیا۔

میرے قاتل کو دودھ پلا دو

تاریخ آدم میں کسی ہستی نے اپنے قاتل پر رحم کیا؟

اگر ہے تو وہ صرف حضرت ابو طالبؑ کے عظیم الشان سپوت امام علی علیہ السلام ہیں جب آپ کا قاتل عبدالرحمن بن ملجم گرفتار ہو کر آیا تو آپؑ نے اُس کی حالت کو دیکھا تو فرمایا: اِسے دودھ پلاؤ۔

جی ہاں! جب آپؑ کا آخری وقت آیا تو اپنے گھر والوں کو جو وصیت کی وہ وصیت بھی عجیب و غریب ہے۔

آپؑ نے فرمایا:

اے عبد المطلب کے بیٹو!ایسا نہ ہونے پائے کہ تم امیرالمومنینؑ قتل ہو گئے، امیرالمومنینؑ قتل ہو گئے، کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا شروع کر دو، دیکھو میرے بدلہ میرا قاتل ہی قتل کیا جائے اور دیکھو! جب میں ایک ضرب سے مر جاؤں تو اس ایک ضرب کے بدلے میں ایک ہی ضرب لگانا اور اس شخص کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ خبردار! کسی کے بھی ہاتھ پیر نہ کاٹو اگرچہ وہ کاٹنے والا کتا ہی ہو۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کے فرمودات امامؑ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔

حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں:

جب مجھے کوئی آدمی میرے ایک کان میں مجھے گالی دیتا ہے اور دوسرے کان سے اپنا منہ لگا کر معافی مانگ لیتا ہے تو میں اُسے معاف کر دیتا ہوں۔

امیرالمومنین امام علی علیہ السلام امت کو عفو و درگزر کا درس دیتے ہیں۔ اگر ہر فرد کے دل و دماغ میں معاف کر دینے کا جذبہ پیدا ہو جائے تو یہ دنیا جنت بن جائے امن و اَشتی کا ماحول ہو۔ اورہر انسان اپنے مال و جان کے ساتھ محفوظ ہو۔

کامیابی کی زکوۃ

ہر انسان کامیابی کی خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس دنیا کا کامیاب انسان بنے لیکن ہرعمل کی زکواۃ ہے اسی طرح کامیابی کی بھی زکوۃ ہے۔

امیرِ کائنات فرماتے ہیں:

وَ الْعَفْوُ زَكٰوةُ الظَّفَرِ (نہج البلاغہ کلمات قصار ۲۱۱)

درگزر کرنا کامیابی کی زکوۃ ہے

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا الطاف حسین کلاچی صاحب

ڈاؤن لوڈ PDF مقالہ: عفو و درگزر از نظر امام علی ؑ