بسم اللہ الرحمن الرحیم

مذہبی تعلیمات میں خدا کا تصور

پیر علامہ شفاعت رسول

خدا کا وجود انسانی بنیادی مسائل میں سے ہے یہاں تک کہ خدا کے وجود کا عقیدہ رکھنا یا نہ رکھنا انسانی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے لہذا اللہ کی شناخت اور معرفت کسی بھی چیز کی شناخت اور معرفت سے پہلے نہایت اہم اور ضروری ہے۔

حضرت علیؑ نے خدا کی شناخت کو بہترین معرفت کا درجہ دیا ہے اور فرمایا: «مَعْرِفَةُ اللَّهِ سُبْحَانَهُ أَعْلَى‏ الْمَعَارِف‏» [1]؛ خدا کی شناخت بلندترین معرفتوں میں سے ہے۔ امام (ع) ایک اور حدیث میں یوں ارشاد فرماتے ہیں: «الْعِلْمُ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْعِلْمَيْن‏» [2]؛ خدا کی شناخت بہترین علم ہے۔

آپ کی نگاہ میں مذہب کا سرلوحہ اور آغاز، خدا کی شناخت ہے:« أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُه‏» [3]؛ مذہب کا سرآغاز، خدا کی شناخت ہے۔

یہاں مذہب سے مراد عقیدہ ، فرائض ،اعمال اور اخلاق ہے ۔ یہ واضح ہے کہ اس مجموعہ کا اصلی ستون اور اس کی بنیاد «معرفة الله» ہے۔

لہذا خدا کی شناخت پہلا قدم بھی ہے اور تمام اصول اور فروع دین کی بنیاد بھی ، اس کے بغیر مذہب کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ انسانی فطرت میں اجمالی اور مختصر معرفت موجود ہے اسے تبلیغ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ انبیائے کرام جس مقصد کے لیے مبعوث بر رسالت ہوئے ہیں وہ اس اجمالی اور مختصر معرفت کو مکمل اور مفصل شناخت اور معرفت میں تبدیل کرنا ہے اور اس معرفت کی نشوونما کر کے اسے شرک آلود افکار سے بچانا ہے۔[4]

قرآن میں خدا کا تصور

قرآن مجید کی آیات میں اللہ سبحانہ تعالی کے بارے میں مختلف انداز میں گفتگو ہوئی ہے ذیل میں کچھ نمونے بیان کریں گے۔

الف: قرآن اور وجود خدا کے ثبوت

قرآن نے اللہ کے وجود کو ثابت کرنے اور خدا کی شناخت کے لیے مختلف راستے اختیار کیے ہیں ہم یہاں ان میں سے دو راہوں کو بیان کریں گے:پہلی راہ: برھان فطرت، قرآنی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کی شناخت فطری ہے یعنی تمام انسان پہلے سے اللہ کی معرفت رکھتے ہیں:(فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتي‏ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْها [5]) لیکن دنیا کی لذات اور آسائشات کے نشے میں ڈوب کراس سے غافل ہوگئے ہیں ۔ پیغمبروں نےانسانوں کو آفاق اور انفس میں غور و فکر کی دعوت دے کر اس فطری شناخت سے آگاہ کیا ہے: « فَذَكِّرْ إِنَّما أَنْتَ مُذَكِّر» .[6]

میثاق کی آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور تمام انسانوں کے مابین ایک قسم کی گفتگو ہوچکی ہے اور انہوں نے خدا کی خدایت اور کائنات کے پروردگار ہونے کا اقرارکیا ہے اور اس کی گواہی دی ہے تاکہ قیامت کے دن ان کے پاس کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔« اور جب تمھارے پروردگار نے فرزند ان آدم علیہم السّلام کی پشتوں سے انکی ذرّیت کو لے کر انھیں خود ان کے اوپر گواہ بناکر سوال کیا کہ کیا میں تمھارا خدا نہیں ہوں تو سب نے کہا بیشک ہم اس کے گواہ ہیں- یہ عہد اس لئے لیا کہ روز قیامت یہ نہ کہہ سکو کہ ہم اس عہد سے غافل تھے » ۔[7]

اللہ تعالی قرآن مجید کی ایک اور آیت میں طریق فطرت(خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی سب سے زیادہ واضح اور قریب ترین راہ) کے بارےمیں فرماتا ہے: فَإِذا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّهَ مُخْلِصینَ لَهُ الدِّینَ فَلَمّا نَجّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذا هُمْ یُشْرِکُونَ» [8]؛ پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچادیتا ہے تو فورا شرک اختیار کرلیتے ہیں۔

“امام صادق علیہ السلام نے ایک حدیث میں “”میثاق”” کے بارے میں فرمایا: «خدا کی شناخت دلوں میں ثابت رہی، انہوں نے میثاق کی منزل کو بھلایا اور ایک دن انہیں یاد آئے گا اگر یہ مسئلہ نہ ہوتا تو کسی کوبھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا خالق اور رازق کون ہے۔ » .[9]

امام باقر علیہ السلام نے رسول الله ﷺ کے اس جملے«كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ»؛ ہر مولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ کی تفسیر میں فرمایا: «يَعْنِي الْمَعْرِفَةَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَالِقُه…‏» [10]؛یعنی اس بات کی پہچان کہ اللہ تعالی اس کا خالق ہے اور یہ آیت بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے:«اگر ان سے پوچھا جائے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے: کہہ دیں گے: اللہ نے۔

دوسری راہ: برہان نظم: قرآن مجید اور احادیث میں شناخت خدا کی سب سے واضح دلیل جو بیان ہوئی ہے وہ برہان نظم ہے۔ انسان اس برہان میں کائنات کے اسرار اور عجائب، آسمان و زمین کا نظام، حیوان و انسان کی خلقت کے عجائبات بارے جستجو اور مطالعہ کر نے کےبعد اس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ کائنات کی یہ تمام بدیع اشیاء بے جان فطرت کی پیدا کردہ نہیں ہیں، بلکہ اس نظام کے پس پردہ ایک قادر، حکیم اور مدبر عالم ہے۔ قرآن مجید برہان نظم میں زمین و آسمان، انسان و حیوان، درخت و پودے، پہاڑ و دریا، ہوا و بادل اور دوسری اشیاء کے بارے غور و فکر پر انحصار کرتاہے۔برہان نظم چونکہ عوام کے لیے قابل فہم ہے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی وسیع ترین قرآنی برہان ہے جس پر قرآن کی کئی آیات دلالت کرتی ہیں۔ [11] مثال کے طور پر سورہ بقرہ میں یوں ارشاد ہوا ہے: «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَ النَّهارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِما يَنْفَعُ النَّاسَ وَ ما أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّماءِ مِنْ ماءٍ فَأَحْيا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها وَ بَثَّ فِيها مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَ تَصْرِيفِ الرِّياحِ وَ السَّحابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّماءِ وَ الْأَرْضِ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» [12]؛ بیشک زمین و آسمان کی خلقت روز و شب کی رفت وآمد. ان کشتیوں میں جو دریاؤں میں لوگوں کے فائدہ کے لئے چلتی ہیں اور اس پانی میں جسے خدا نے آسمان سے نازل کرکے اس کے ذریعہ مردہ زمینوں کو زندہ کردیا ہے اور اس میں طرح طرح کے چوپائے پھیلا دیئے ہیں اور ہواؤں کے چلانے میں اور آسمان و زمین کے درمیان مسخرکئے جانے والے بادل میں صاحبانِ عقل کے لئے اللہ کی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔

قرآن میں خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ان دو راہوں کے علاوہ اور بھی راستے بیان ہوئے ہیں منجملہ: برهان حرکت، برهان وجوب و امکان، برهان علت و معلول، برهان صدیقین ۔[13]

ب. قرآن میں خدا کا تعارف

“قرآن مجید میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالی کے اسمائے حسنی ہیں: «ولِلّهِ الاَسماءُالحُسنی» [14]، لیکن قرآن میں اللہ کو مختلف ناموں سے یاد کیاگیا ہے جن میں سے لفظ جلالہ””اللہ”” اللہ کا خاص نام ہے اس کے علاوہ دوسرے نام وصفی معنی پر دلالت کرتے ہیں اور ایک ایک نام ایک طرح سے خدا کے کسی ایک کمال کو بیان کرتاہے منجملہ: «الاله»، «الاحد»، «الاوّل»، «الآخر»، «الاعلی»، «الباری»، «الباطن»، «التوّاب»، «الحکیم»، «الحلیم»، «الحی»، «الحقّ»، «الخبیر»، «الرحمن»، «الرحیم»، «الرئوف»، «الرّب»، «ربّ العرش»، «رفیع الدرجات»، «الرزّاق»، «الرقیبب»، «الصمد»، «الظاهر» وغیرہ… . “

اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ خدا کائنات کا خالق ہے قرآن مجید میں خدا کے بارے میں بہت گفتگو ہوئی ہے اور خدا کے بارے مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں اس مختصر تحریر میں گنجائش نہیں کہ اس بارے بحث کریں یہاں بطور مثال کچھ مضامین کی فہرست بیان کریں گے:

– نیک اسماء اور صفات کا حامل: «ولِلّهِ الاَسماءُ الحُسنی»(اعراف، 40)؛

– احدیت اور بساطت: «قُل هُوَ اللّهُ اَحَد»(اخلاص، 1)؛

– ذات و صفات و افعال میں توحید: «اَللّهُ لا اِلهَ اِلاّ هُو»(سوره آل‌عمران، آیت 2)، «لا اِلهَ اِلاَّ اللّه»(سوره محمّد، آیت ۱۹) ، «فَلَم تَقتُلوهُم ولکنَّ اللّهَ قَتَلَهُم وما رَمَیتَ اِذ رَمَیتَ ولکنَّ اللّهَ رَمی«(سوره انفال، آیه ۱۷)

– صمدیت: «الله الصّمد»(اخلاص، 2)؛

– نفی باپ اور فرزند : «لَم یلِد و لَم یولَد»(اخلاص، 3)

– بے‌همتا: «ولَم یکن لَهُ کفُوًا اَحَد»(اخلاص، 4)؛

– مِثْل کا نہ ہونا: «لَیسَ کمِثلِهِ شَیءٌ»(شوری، 11)؛

– ظاہری آنکھ سے دیکھائی نہ دینا: «لا تُدرِکهُ الاَبصرُ»(سوره انعام، آیه ۱۰۳)؛

-سبک اور سنگین نیند سے مغلوب نہ ہونا: «لاتَأخُذُهُ سِنَةٌ ولا نَومٌ»(سوره بقره، آیه ۲۵۵)؛

– تشبیه اور تنزیه کے مابین جمع«لَیسَ کمِثلِهِ شَیءٌ وهُوَ السَّمیعُ البَصیر»(سوره شوری، آیه ۱۱ )؛

– خالقیت اور مبدئیت: «اَللّهُ خلِقُ کلِّ شَیء»(سوره زمر، آیه ۶۲)؛ اَللّهُ یبدَؤُا الخَلقَ»(سوره روم، آیه ۱۱)؛

– حقیقی مالکیت: «ولِلّهِ ما فِی‌السَّموتِ وما فِی الاَرضِ»(سوره آل‌عمران، آیه ۱۰۹)؛

– ربوبیت: «انّ اللّهَ رَبّی ورَبُّکم»(سوره آل‌عمران، آیه ۵۱.)؛

-تمام نیکیوں اور خوبیوں کا سرچشمہ : «بِیدِک الخَیرُ»(سوره انفال، آیه۲۴)؛

– غایت اور منتها: «… و اِلَی اللّهِ تُرجَعُ الاُمور»(سوره حدید، آیه ۵)، «واَنَّ اِلی رَبِّک المُنتَهی»(سوره نجم، آیه ۴۲)؛

-زمین اور آسمانوں پر محیط کرسی: «وسِعَ کرسِیهُ السَّموتِ والاَرضَ»(سوره بقره، آیه ۲۵۵)؛

– اعلی مثل : «ولِلّهِ المَثَلُ الاَعلی»(سوره نحل، آیه ۶۰)؛

-لوگوں کے درمیان سے ان کی ہدایت کے لیے انبیا ء کا انتخاب: «اَللّهُ یصطَفی مِنَ المَلئِکةِ رُسُلاً ومِنَ النّاسِ»(سوره حجّ، آیه۷۵)؛

– امامت قرار دینا: «قالَ اِنّی جاعِلُک لِلنّاسِ اِماما»(سوره بقره، آیه ۱۲۴)؛

-پرستش کا وجوب اور اس کا خدا سے مخصوص ہونا :«واعبُدوا اللّهَ ولا تُشرِکوا بِهِ شیا»( سوره نساء، آیه ۳۶)، «اَلاّتَعبُدوا اِلاَّ اللّه»(سوره سوره هود، آیه ۲)؛

– تقوا اختیار کرنا: «فَلیتَّقوا اللّهَ»( سوره نساء، آیه ۹).

– ازلیت و ابدیت،ظاهر و باطن رکھنا: «هُوَ الأَوَّلُ وَالأَخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْ‏ءٍ عَلِيم»(سوره حدید، آیه 3).

نہج البلاغہ میں خدا کا تصور

نہج البلاغہ نے توحید کےمیدان میں معجزے کی حد کو چھوا ہے اور توحید سے متعلق انتہائی بے مثال معاملات کا عقلی تجزیہ کیا ہے۔حضرت علیؑ توحید پرستی میں اتنا آگے چلا گیا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے عبادت کرتے وقت اپنے رب کو دیکھا ہے ، تو آپ نے فرمایا: مَا كُنْتُ أَعْبُدُ رَبّاً لَمْ أَرَهُ»؛ میں ایسے رب کی عبادت نہیں کرتا جس کو میں نے نہیں دیکھا، جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کیسے دیکھا تو فرمایا: لَا تُدْرِكُهُ الْعُيُونُ فِي مُشَاهَدَةِ الْأَبْصَارِ وَ لَكِنْ رَأَتْهُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْإِيمَان» [15]؛‏ وہ آنکھوں سے قابل ادراک نہیں جب وہ اس کی طرف دیکھتی ہیں ، لیکن دلوں نے اسے ایمان کی سچائیوں سے دیکھا ہے۔

الف: خدا کے وجود کا اثبات

نہج البلاغہ میں قرآن کی مانند خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی مختلف راہیں بیان ہوئی ہیں۔ عام طور پر خدا کوثابت کرنے کی دوراستے ہیں: پہلی راہ آفاق (کائنات) کی اوردوسری راہ انفس( انسانی وجود کی لطافتوں) کی سیر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے: «سنريهم آياتنا في الآفاق و في انفسهم حتي يتبين لهم انه الحق» [16]؛ ہم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکھلائیں گے تاکہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ برحق ہے اور کیا پروردگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر شے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والا ہے۔

پہلی راہ: آفاقی برہان:

آفاق کی راہ یہ ہے کہ انسان مخلوقات کا مشاہدہ کرتا ہے اشیاء کے حدوث، امکان اور نظم کے بارے غور و فکر کرکے ان اشیا ء کو خلق کرنے والی ذات اور خالق تک پہنچ جاتا ہے۔آفاقی دلیل کی چند قسمیں ہیں:

الف: برہان وجوب اور امکان: ان میں سے ایک یہ کہ موجود بما ہو موجود کے ذریعہ اللہ کے وجود کو ثابت کیا جائے یہ برہان جوبرہان وجوب اور امکان کے نام سے مشہور ہے جس میں انسان ایک موجود جس کا وجود ممکن ہے کے بارے غور وفکر کرتا ہے اور دور و تسلسل کے بطلان کی وجہ سے آخرکار ایک ایسے وجود تک جا پہنچتا ہے جسے واجب کہا جاتا ہے۔خواجہ نصیر الدین طوسی لکھتے ہیں: «الموجود ان کان واجباً فهو المطلوب و الّا استلزمه لاِستحاله الدور و التسلسل» .[17]

“ب: برہان حدوث: متکلمین کے نزدیک واجب الوجود کو ثابت کرنے کی ایک مشہور دلیل، “”برہان حدوث”” ہے۔ اس دلیل میں عالم مادہ کے حادث ہونے اور ان میں موجود حیات( زندگی) ذاتی کا نہ ہونا ہے اور یہ ایک روشن اور واضح عقلی دلیل ہے کہ: حادث اشیا ء کے لیے محدث(خالق) اور علت(سبب) کا ہونا ضروری ہے۔اس طرح اس برہان سے کائنات کے پروردگار کے وجود اور اس کی ازلیت کو ثابت کرنے کے لیے استدلال کیاجاتا ہے .[18]

حضرت علی علیہ السلام نے ان دو دلائل کو پیش نظر رکھ کر فرمایا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الدَّالِّ عَلَى وُجُودِهِ بِخَلْقِهِ وَ بِمُحْدَثِ خَلْقِهِ عَلَى أَزَلِيَّتِه‏» [19]؛ ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی تخلیق سے اپنے وجود کا ‘ اپنی مخلوقات کے حادث ہونے سے اپنی ازلیت کا اور ان کی باہمی مشاہبت سے اپنے بے نظیر ہونے کا پتہ دیا ہے۔

ج: برہان اتقان صنع، نظم اور حکمت:حضرت علیؑ کائنات کی بعض مخلوقات کی تخلیق میں موجود استحکام اور ہدف کی نشاندہی کرتے ہیں مثال کے طور پر آپ نے بعض چھوٹی مخلوقات کی تخلیق بارے نظم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: «أَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى صَغِيرِ مَا خَلَقَ كَيْفَ أَحْكَمَ خَلْقَهُ وَ أَتْقَنَ تَرْكِيبَهُ وَ فَلَقَ لَهُ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ سَوَّى لَهُ الْعَظْمَ وَ الْبَشَرَ»؛ کیا یہ ایک چھوٹی سی مخلوق کو بھی نہیں دیکھ رہے ہیں کہ اس نے کس طرح اس کی تخلیق کو مستحکم اور اس کی ترکیب کو مضبوط بنایا ہے۔اس چھوٹے سے جسم میں کان اورآنکھیں سب بنادی ہیں اور اسی میں ہڈیاں اور کھال بھی درست کردی ہے۔

آپؑ چونٹی کے استحکام جسامت بارے فرماتے ہیں: «انْظُرُوا إِلَى النَّمْلَةِ فِي صِغَرِ جُثَّتِهَا وَ لَطَافَةِ هَيْئَتِهَا لَا تَكَادُ تُنَالُ بِلَحْظِ الْبَصَرِ وَ لَا بِمُسْتَدْرَكِ الْفِكَرِ كَيْفَ دَبَّتْ عَلَى أَرْضِهَا وَ صُبَّتْ عَلَى رِزْقِهَا تَنْقُلُ الْحَبَّةَ إِلَى جُحْرِهَا…» [20]؛ ذرا اس چیونٹی کے چھوٹے سے جسم اور اس کی لطیف ہئیت کی طرف نظرکرو جس کو گوشہ چشم سے دیکھنابھی مشکل ہے اور فکروں کی گرفت میں آنابھی دشوار ہے۔ کس طرح زمین پر رینگتی ہے اور کس طرح اپنے رزق کی طرف لپکتی ہے۔دانہ کو اپنے سوراخ کی طرف لے جاتی ہے اور پھر وہاں مرکز پرمحفوظ کر دیتی ہے گرمی میں سردی کا انتظام کرتی ہے اور توانائی کے دورمیں کمزوری کے زمانہ کا بندوبست کرتی ہے اس کے رزق کی کفالت کی جا چکی ہے۔۔۔

اس کے بعد آپ نے آسمان و زمین اور دوسری مخلوقات کی تخلیق کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: «فَالْوَيْلُ لِمَنْ أَنْكَرَ الْمُقَدِّرَ وَ جَحَدَ الْمُدَبِّرَ زَعَمُوا أَنَّهُمْ كَالنَّبَاتِ مَا لَهُمْ زَارِعٌ وَ لاَ لاِخْتِلاَفِ صُوَرِهِمْ صَانِعٌ» [21]؛حیف ہے ان لوگوں پر جنہوں نے تقدیر ساز کا انکار کیا ہے اور تدبیر کرنے والے سے مکرگئے ۔ان کا خیال ہے کہ سب گھاس پھوس کی طرح ہیں کہ بغیر کھیتی کرنے والے کے اگ آئے ہیں اور بغیر صانع کے مختلف شکلیں اختیار کرلی ہیں۔

آپ کے یہ جملے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ تدبیر کے اثرات پوری تخلیق میں واضح ہیں کہ مدبر عالم کے منکرین لعنت کے مستحق ہیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: «ان کا خیال ہے کہ سب گھاس پھوس کی طرح ہیں کہ بغیر کھیتی کرنے والے کے اگ آئے ہیں اور بغیر صانع کے مختلف شکلیں اختیار کرلی ہیں۔» البتہ اس قسم کی تعبیر اس نظریےکی وجہ سے ہے جوعام طور پر انسان گھاس پھوس کے بارے رکھتا ہے ورنہ ایک ماہر نباتیات کی نظر میں ان کا ایک ایک پتہ ان کے پروردگار کی معرفت کے لیے ایک کتاب ہے۔

آج ، سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ میدانی علاقوں اور پہاڑوں میں اگنے والے ہزاروں خودرو پودے مختلف دواؤں اور زندگی بخش خصوصیات کے ساتھ اگتے ہیں اور ہر ایک اپنے لئے ایک حیران کن نظام رکھتے ہیں۔ جڑیں ، تنے ، پتے اور پھول ہر ایک دوسرے سے زیادہ حیران کن ہیں۔غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان سب کا ایک کاشتکار اور ایک تخلیق کار ہے جس کےپاس لامتناہی علم و طاقت ہے .[22]

حضرت علی علیہ السلام ایک اور جگہ مور کی عجیب تخلیق کے بارے فرماتے ہیں: « وَ مِنْ أَعْجَبِهَا خَلْقاً الطَّاوُسُ الَّذِي أَقَامَهُ فِي [أَحْسَنِ‏] أَحْكَمِ تَعْدِيلٍ وَ نَضَّدَ أَلْوَانَهُ فِي أَحْسَنِ تَنْضِيدٍ بِجَنَاحٍ أَشْرَجَ قَصَبَهُ‏ وَ ذَنَبٍ أَطَالَ مَسْحَبَهُ…» [23] ان سب میں عجیب ترین خلقت مور کی ہے جسے محکم ترین توازن کے سانچه میں ڈھال دیا ہے اور اس کے رنگوں میں حسین ترین نظم قائم کیا ہے ایسے وہ رنگین پردے ہیں جن کی جڑوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے اور وہ دم دی ہے جو دور تک کھینچتی چلی جاتی ہے ۔جب وہ اپنی مادہ کا رخ کرتا ہے تو اسے پھیلا لیتا ہےااور اپنے سر کے اوپر اس طرح سایہ فگن کر لیتا ہے جیسے مقام دارین کی کشتی کا بادبان جسے ملاح ادھرادھر موڑ رہا ہو۔وہ اپنے رنگوںپراترتا ہے اوراس کی جنبشوں کے ساتھ جھومنے لگتا ہے۔

نہج البلاغہ کے بعض شارحین کے نزدیک یہ جملہ«الْحَمْدُ لِلَّهِ الدَّالِّ عَلَى وُجُودِهِ بِخَلْقِهِ» برہان نظم کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ [24]

دوسری راہ: انفس اور فطری دلیل

انفس سے مراد یہ ہے کہ جب انسان اپنی تخلیق میں غور و فکر کرتا ہے تو اسےیہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے وجود میں خدا کی شناخت پہلے سے موجود ہے تو وہ اس ذات کے سامنے جو کمال مطلق ہے سرتعظیم کے لیے جھکاتا ہے۔راہ انفس کو راہ فطرت بھی کہاجاتاہے۔

امام علی علیہ السلام کے فرمان سے پتاچلتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کوشناخت خدا اور جستجوئےخدا کی فطرت پرپیدا کیاہے۔:« وَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ فَإِنَّهَا الْفِطْرَة» [25]؛ اور کلمہ اخلاص ہی فطرت الہیہ ہے۔

کلمہ اخلاص سے مراد «لااله الاّ الله» کی گواہی دینا ، عبودیت اور الوہیت کو خدا سے مخصوص کر کے اس کی ذات سے ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی کرنا ہے۔

بعض احادیث میں ملتا ہے کہ اخلاص کا ایک عملی پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ انسان صرف اللہ کی بارگاہ میں جائے اور عمل میں اس کے علاوہ کسی کو شریک نہ کرے اور گناہوں سے بچے۔ [26]

کیونکہ یہ واضح ہے کہ جب کوئی گناہ کرتا ہے یا تو اس نے شیطان کے سامنے سرتسلیم خم کیاہوتا ہے یا نفسانی خواہشوں کا اسیر ہوتا ہے اور یہ دونوں ایک طرح سے شرک عملی شمار ہوتے ہیں اور اخلاص کی حقیقت سے ربط نہیں رکھتے۔ .[27]

حضرت علی نے انبیا ءکی بعثت کا میثاق فطرت سے رابطہ یوں بیان فرمایاہے: «فَبَعَثَ فِيهِمْ رُسُلَهُ وَ وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِه‏» [28]؛ پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت کو واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمت پروردگار کویاد دلائیں۔

اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ اللہ نے توحید کی تعلیمات کو انسانی فطرت میں رکھ دیا ہے اور ہر وہ انسان جو اس خالص فطرت کے ساتھ پرورش پائے گا اور اگرنادرست تعلیم اسے گمراہ نہ کرے اور مشرک والدین اس کی روح کو آلودہ نہ کریں تو وہ فطری طور پر توحید پرست ہوگا اور اس فطری توحید کے سایہ میں حق و انصاف کے پابند ہوگا، انبیائے کرام گمراہ انسانوں کو ان کے فطری توحید پرستی کی جانب بلاتے ہیں۔ [29]

حضرت علی علیہ السلام اپنے بارے فرماتے ہیں: «…فَإِنِّي وُلِدْتُ عَلَى الْفِطْرَة» [30]؛ لیکن خبردار مجھ سے برائت نہ کرنا کہ میں فطرت اسلام پر پیدا ہوا ہوں، قرآنی آیات اور احادیث کے مطابق تمام انسا ن فطرت توحید پر پیدا ہوتے ہیں یہ کونسی خصوصیت ہے جس کے بارے حضرت نے اشارہ کیا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ بہت سارے لوگ فطرت توحید پر پیدا ہوتے ہیں لیکن وہ غیر موحد والدین یا معاشرہ کے زیر اثر راہ توحید سے گمراہ ہوجاتے ہیں، جبکہ حضرت علیؑ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش میں پرورش پائی اور آپ کے ہاتھوں غذا تناول کی اور آپ کے دامن میں تربیت پائی یہاں تک کہ عرب جاہلیت کے شرک کے غبار سے آلودہ نہ ہوئے ۔ایک پاک دامن ماں اور توحید پرست باپ کے ہاں پیدا ہوئے اور وہ بھی اس وقت جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوررسالت کے لیے مقدمہ سازی کر رہے تھے۔ فرشتوں کی آواز سنتے اور عالم بالاکے نور کا مشاہدہ کرتے تھے۔۔ [31]

امام علی علیہ السلام کی دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی معرفت انسان کی ابتدائے تخلیق سے اس کی سرشت میں رکھ دی گئی تھی اور انسان اس معرفت کے ساتھ پیدا ہوا ہے: « وَ فَطَرْتَ الْعُقُولَ عَلَى مَعْرِفَتِك‏» [32]؛ الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمُلْهِمِ عِبَادَهُ حَمْدَهُ وَ فَاطِرِهِمْ عَلَى مَعْرِفَةِ رُبُوبِيَّتِه‏» .[33]

ہمتوں کا پست ہونا اورارادوں کا ٹوٹنا

خدا کی شناخت کی ایک راہ جو نہج ا البلاغہ میں بیان ہوئی ہے وہ راہ دل اور تجربہ ہےحضرت علیؑ فرماتے ہیں: عَرَفْتُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ‏ وَ حَلِّ الْعُقُودِ وَ نَقْضِ الْهِمَم» [34]؛ میں نے پروردگار کو ارادوں کے ٹوٹ جانے ‘ نیتوں کے بدل جانے اورہمتوں کے پست ہو جانے سے پہچانا ہے۔

آپ اس جملے سے اس بات کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ بہت دفعہ انسان کسی کام کوکرنے کا قطعی ارادہ کرتا ہے لیکن اچانک اس میں تبدیلی آجاتی ہے اور اس کی وجہ بھی انسان کو معلوم نہیں ہوتی! یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی ارادے سے بالاتر کوئی ارادہ ہے جس نے انسانی ارادے کو ناکام بنادیا ورنہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ انسان اپنے مستحکم ارادے سے اچانک پلٹ جائے۔

آپ کے اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی بیان ہوئی ہے وہ یہ کہ انسان کسی کام کو کرنے کا مضبوط ارادہ کرتا ہے، لیکن تقدیر الہی رکاوٹ بن جاتی ہے اور انسان اپنی نیت بدل دینے پر مجبور ہوتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کے ارادے کے اوپر کوئی ارادہ ہے کہ جب کسی شے سے ربط پیدا کرتا ہے تو اس کے خلاف ہر چیز تباہ اور ختم ہوجاتی ہے۔المختصر یہ کہ اگر انسان فعّالٌ ما يَشاء ہوتا تو جو چاہتا انجام دیتا تو یہ ممکن تھا کہ وہ خدا کےوجود میں شک کرتا، لیکن وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ اس کے ارادے سے بالاتر کوئی ارادہ ہے جو اس کے ارادے کو ناکام بنا دیتا ہے یا اس کے ارادے کی تکمیل میں رکاوٹ بنتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ کائنات کا ایک مدبر ہے قادر اور توانا ہے اور اپنے حکیمانہ ارادے کے تحت اس نظام کو چلاتا ہے۔ [35]

خلاصہ درس

1۔خدا کا وجود انسان کے لیےایک اہم بنیادی مسئلہ تھا لہذاحضرت علیؑ نے معرفت خدا کو اعلی معرفت بیان کیا ہے۔

2۔ اللہ تعالی نےقرآن مجید میں برہان آفاق و انفس کے ذریعے انسانوں کو اپنی معرفت کی طرف بلایا ہے۔

3۔برہان انفس میں انسانی سابقہ فطری معرفت اور آفاقی برہان میں، برہان نظم کوبیان کیا گیاہے۔

4۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اسماء اور صفات کے ذریعے خود کو پہچانوایا ہے۔

5۔امام علی نے نہج البلاغہ میں آفاقی اور انفسی برہان سے وجود خدا کو ثابت کیا ہے۔

6۔آفاقی برہان میں وجوب و امکان، برہان حدوث، برہان نظم سے استدلال ہوا ہے اور برہان انفسی میں فطرت اور ارادوں کے ٹوٹنے کو بیان کیا گیاہے۔

7۔نہج البلاغہ میں خدا کی معرفت اور توحید پرستی کو انسانی فطرت سے ہم آہنگ بیان کیا گیاہے۔

8۔حضرت علیؑ نے کسی کام کے انجام دینے پر مضبوط ارادہ سے دستبردار ہونے انسانی ارادے سے اعلی ارادے کی موجودگی کو بیان فرمایا ہے جو حقیقت میں وہی ارادہ الہی ہے۔

سوالات

1۔ امام علی (ع) کے نزدیک اللہ تعالٰی کی معرفت کا کیا مقام ہے؟

2۔ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید میں آفاقی اور انفس دلیل کی وضاحت کریں۔

3۔ خداوند متعال نے اپنے آپ کو قرآن مجید میں کس طرح متعارف کرایا ہے؟

4۔ – امام علی (ع) نے معرفت الہی کے لئے نہج البلاغہ میں کن راہوں کو بیان فرمایاہے؟

5۔ امام علی (ع) کے نقطہ نظر سے ، معرفت الہی کے ساتھ انسانی فطرت کی ہم آہنگی کا کیا مطلب ہے؟ وضاحت کریں۔

حوالہ جات

1. غرر الحکم، حکمت 1270.
2. غرر الحکم، حکمت 1268.
3. نهج البلاغه، خطبه 1.
4. پيام امام اميرالمؤمنين عليه ‏السلام، ج‏1، ص: 110-81
5. روم/30.
6. غاشیه/21.
7. اعراف/172.
8. عنکبوت/ 65.
9. طباطبایی، المیزان، ج8، ص 345.
10. الکافی، ج2، ص 13.
11. ملاحظہ کیجیے: روم، آيات 20 تا 25، بقره 164، رعد 3، يونس 31، انفال 62 و 63، مؤمنون 12 تا 14.
12. بقره/164.
13. ملاحظہ کیجیے:: پيام قرآن، جلد 2 و 3، آيت‌اللّه مكارم شيرازي، ناصر؛ خدا در قرآن، شهيد بهشت؛ قلمرو دين، عبدالحسين خسروپناه؛ الهيات و معارف اسلامي، آيت‌اللّه سبحاني، جعفر.
14. آیات ۸ سوره طه، ۲۴ سوره حشر، ۱۸۰ سوره اعراف و ۱۱۰ سوره اسراء
15. کافی، ج1، ص 98.
16. فصلت/ آيه 53.
17. تجرید الاعتقاد المقصد الثالث فی الصانع الفصل الاوّل فی وجوده، ص 189.
18. منهاج البراعة في شرح نهج البلاغة (خوئى)، ج 9، ص: 174.
19. نهج، خطبه 152.
20. نهج البلاغه، خطبه 185.
21. نهج البلاغه، خطبه 185.
22. پيام امام اميرالمؤمنين عليه السلام، ج 7، ص: 174-167.
23. نهج البلاغه، خطبه 165.
24. پيام امام اميرالمؤمنين عليه السلام، ج 6، ص: 49-39
25. نهج البلاغه، خطبه 110.
26. صدوق، معانی الاخبار، ص 370.
27. پيام امام اميرالمؤمنين عليه السلام، ج 4، ص: 632-617
28. نهج البلاغه، خطبه 1.
29. پيام امام اميرالمؤمنين عليه ‏السلام، ج‏1، ص: 225-211.
30. نهج البلاغه، خطبه 57.
31. پيام امام اميرالمؤمنين عليه السلام، ج 2، ص: 656-637.
32. مجلسی، بحار الانوار، ج92، ص 403.
33. کلینی، کافی، ج1، ص 139.
34. نهج، حکمت 250.
35. پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، ذیل حکمت 250.

پیر علامہ شفاعت رسول