کلمات قصار

کلمات قصار 21 سے 30 تک

۲۱) ہمارا ایک حق ہے اگر وہ ہمیں دیا گیا تو ہم لے لیں گے ،ورنہ ہم اونٹ کے پیچھے والے پٹھوں پر سوار ہوں گے ، اگرچہ شب روی طویل ہو ۔

سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ بہت عمدہ اور فصیح کلام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں ہمارا حق نہ دیاگیا ،تو ہم ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے اور یہ مطلب اس طرح نکلتا ہے کہ اونٹ کے پیچھے کے حصہ پر ردیف بن کر غلام اور قیدی یا ا س قسم کے لوگ ہی سوار ہوا کرتے تھے۔

۲۲) جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں،  اسے حسب و نسب آگے نہیں بڑھا سکتا ۔

۲۳) کسی مضطرب کی داد فریاد سننا ،اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارا دلانا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے ۔

۲۴) اے آدم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ سبحانہ، تجھے پے درپے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کررہا ہے  تو اس سے ڈرتے رہنا ۔

۲۵) جس کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کر رکھنا چاہی وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہو جاتی ہے ۔

۲۶) مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے چلتے پھرتے رہو ۔

۲۷)بہترین زُہد  زُہد کا مخفی رکھنا ہے ۔

۲۸)  جب تم (دنیا کو ) پیٹھ دکھا رہے ہو اور موت تمہاری طرف رخ کئے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی ؟

۲۹) ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے ،کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے ۔

۳۰) ضرت علیہ السّلام سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا ۔ایمان چار ستونوں پر قائم ہے ۔صبر ،یقین ،عدل اور جہاد ۔ پھرصبر کی چار شاخیں ہیں ۔اشتیاق ،خوف ،دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار ۔اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا ،وہ خواہشوں کو بھلادے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا ،وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ،وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا ۔اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں ۔روشن نگاہی ،حقیقت رسی ،عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ ۔چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی  اور جس کے لیے علم وعمل آشکارا ہو جائے گا ،وہ عبرت سے آشنا ہوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button