(۱) افطار: نماز عشاء کے بعد افطار کرنا مستحب ہے مگر یہ کہ کمزوری زیادہ ہو یا افطار میں کوئی شخص اس کا منتظر ہو۔
(۲) حرام اور مشکوک چیزوں سے افطار نہ کرے بلکہ اس کے لئے حلال و پاکیزہ چیزیں استعمال کرے حلال خرما سے افطار کرے تا کہ اس کی نماز کا ثواب چار سو گنا ہو جائے پانی، تازہ کھجوراور دودھ، حلوہ، مٹھائی اور گرم پانی میں سے جس چیز سے افطار کرے بہتر ہے۔
(۳) افطار کے وقت جو دعائیں وارد ہیں وہ پڑھے یا ان میں سے مشہور دعا پڑھے تا کہ اسے ساری دنیا کے روزہ داروں جتنا ثواب حاصل ہو اور وہ دعا یہ ہے:
اَللَّھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلیٰ رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ
اے اللہ! تیرے لیے روزہ رکھتا ہوں تیرے رزق سے افطار کرتا ہوں اور تجھی پر بھروسہ کرتا ہوں
اگر دعا اَللَّھُمَّ رَبَّ النُّوْرِ الْعَظِیْمِ پڑھے کہ جو سید اور کفعمی دونوں نے نقل کی ہے تو اس کی بڑی
اے اللہ! اے عظیم نور کے رب
فضیلت ہے، روایت میں ہے کہ امیرالمؤمنینؑ بوقت افطار یہ دعا پڑھتے تھے:
بِسْمِ اﷲ اَللَّھُمَّ لَکَ صُمْنَا وَعَلیٰ رِزْقِکَ اَفْطَرْنَا فَتَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
خدا کے نام سے اے اللہ! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا تیرے رزق سے افطار کیا پس اسے ہماری طرف سے قبول فرما بے شک تو سننے والا جاننے والا ہے
(۴) پہلا لقمہ اٹھاتے وقت یہ دعا پڑھے تا کہ اس کے گناہ بخشے جائیں :
بِسْمِ اﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ اِغْفِرْلِیْ
خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن و رحیم ہے اے وسیع مغفرت والے مجھے بخش دے۔
روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کی ہر شام ایک لاکھ انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے لہذا دعا کرے کہ وہ بھی ان میں سے ایک ہو۔
(۵) افطار کے وقت سورہ إنَّا ٲَ نْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْر. پڑھے۔
(۶) افطار کے وقت صدقہ دے اور دیگر مومنوں کا روزہ افطار کرائے چاہے چند کھجوریں یا پانی سے ہی کیوں نہ ہو، رسول اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص کسی کا روزہ افطار کرائے تو اس کو بھی روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا جب کہ اس روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ نیز اس طعام کی قوّت سے افطار کرنے والا جو نیکی کرے گا اس کا ثواب افطار کرانے والے کو بھی ملے گا۔
علامہ حلی(رح) نے رسالہ سعدیہ میں امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: جو شخص اپنے مومن بھائی کا روزہ افطار کرائے اس کو تیس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور خدا کے ہاں اس کی ایک دعا بھی قبول ہو گی۔