بہترین دوست :

        دوست تو کئی قسم کے ہوتے ہیں ،لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے بہترین دوست وہ ہے کہ جس کو دیکھنے سے خدا کی یاد آجائے ۔ یعنی نیک کا موں اور خدا کی اطاعت میں معاون اور مددگار ہو ۔ اور وہی دوستی پائیدار اور دنیا و آخرت میں مفید ہوتی ہے جو اسلامی اقدار کے تحت اور دینی اصول پر قائم ہو ۔ بہترین دوست وہی ہے ، جو عیوب کی مخلصانہ طور پر اصلاح کرے ، ترقی کے حصول میں مد د کرے ، دوست کی حفا ظت کرے اور مشکل مراحل میں اس کا ساتھ دے ۔چونکہ دوست ہم عمر ہو نے کی وجہ سے دین میں بھی ایک اچھا اور مددگار ساتھی ہوتا ہے اس لئے عبادت میں بھی دلچسپی بڑھ جا تی ہے ۔ کیونکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ یہ ہمارا ہم عمر ہے اور اتنی عبادتیں کرتا ہے، نماز شب کا پابند ہے، تو رشک کرتا ہے اور ساتھ ہی خود بھی پڑھنے کا جذبہ پیداہوجاتا ہے ۔ نام کے دوست تو بہت ہوا کرتے ہیں، لیکن  حقیقی دوست اور سچا ساتھی وہی ہوتا ہے کہ جو آڑے وقت میں کام آئے ۔ مولائے کا ئنات امام علی ں  نہج البلا غہ میں ارشاد فرماتے ہیں ’’ دوست اس وقت تک دوست سمجھا نہیں جا سکتا کہ جب تک وہ اپنے بھا ئی کی تین موقعوں پر حفاظت نہ کرے ، مصیبت کے موقع پر، اس کی غیر موجود گی میں ، اور اس کے مرنے کے بعد ‘‘ ۲؎  اس حد یث کا مطلب یہ ہوا کہ سچا دوست وہی ہے جو مصیبت ، پریشانی اور برے وقت میں دوست کو چھوڑ کر بھا گے نہیں، بلکہ ا س کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہوئے، اس کی پوری طرح سے مدد کرے ۔اور دوسری چیزیہ ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی مدد کرے اور اگر دوست کے پیٹھ پیچھے کو ئی اسے برا بھلا کہہ رہا ہو،اس کے سلسلے میں بد گمانی، اور بد کلامی کررہا ہو، برائی کررہا ہو، تو وہ اس کی طرف داری اور حمایت کرے ۔ اور تیسرا مورد اس کے مرنے کے بعد کا ہے کہ مرنے کے بعد دوست کے لئے ایصال ثواب کرے ،  اور دوست کے ادھورے کام کو پورا کرکے اس کی مدد کرے اس کے گھر والوں کا خیال رکھے، ان سے اظہار ہمدردی کرے، اور ان کی حتیٰ الامکان حمایت کرے ،اور دوست کی کمی کا احساس نہ ہو نے دے ۔

        دوست کی ضرورت:

        دوستی بھی ایک فطری عمل ہے جو کسی استاد یا راہنماکا  محتاج نہیں ہے،بلکہ انسان فطرتاً اس کی جانب بڑھتا ہے اور فطری طور پر اسے ایک دوست کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، اور دوست نہ ملنے پر وہ خود کو ادھورا سمجھنے لگتا ہے ۔مولا ئے کا ئنا تؑ کے کلا م کی روشنی میںاگر دیکھا جا ئے تو اس طرف اشارہ ملتا ہے، جس سے دوست اور دوستی کی ضرورت اور اہمیت اچھی طرح معلوم ہو جا تی ہے۔آپ ؑ نے فرمایا کہ ( الغریب من لم یکن لہ حبیب)۳؎ تنہا اور غریب وہ شخص ہے کہ جس کا کو ئی دوست نہ ہو۔  (غریب اسے کہتے ہیں، کہ جس کا اپنا کوئی نہ ہو، اسی لئے مسافر کو پردیسی یا غریب کہتے ہیں اس لئے کہ پردیس میں اس کا کوئی اپنا نہیں ہوتا ہے بلکہ ہر کو ئی اس کے لئے اجنبی ہوتا ہے)  مطلب یہ ہو ا کہ جس طرح  پردیس میں انسان اکیلا اور تنہا رہتاہے اسی طرح دوستوں کے نہ ہو نے کی وجہ سے اپنے وطن میں بھی وہ اکیلا اور تنہا  رہتا ہے ۔ اچھے اور امین دوست انسان کے لئے نہایت ضروری ہیں جن سے وہ دل کی با تیں کہہ سکے، جن کے مفید مشورو ںسے فا ئدہ اٹھا سکے ،اور جن کی دوستی سے مدد حاصل کر سکے ، چونکہ دوست ہم عمر اور ہم فکر ہوتا ہے اس لئے بلا جھجک اس سے دل کی بات کہی جا سکتی ہے۔ لہٰذا تبادلۂ خیال کے لئے اچھے دوستوں کا ہونا نہایت ضروری ہے ۔ ہر منزل اور ہر مرحلہ میں اچھا دوست بڑی خوش قسمتی کی بات ہے ۔ دوست اگر اچھا ہے تو علمی مسائل ،درس و بحث اور علمی گتھیوں کو سلجھا نے میںبہت حد تک مدد گار ہو سکتا ہے  جس کا کوئی دوست نہیں ہوتا وہ بالکل ہی معاشرے سے کٹا رہتا ہے اور جو دوست بنا ئے اور کھودے وہ اس سے بھی زیادہ لاچار شخص ہے اسی مطلب کی طرف خالق نہج البلاغہ امیر کا ئناتں اشارہ فرما تے ہیں: ’’ بے چارہ و ہ شخص ہے کہ جو دوست نہ بنا سکے اور اس سے بھی زیادہ عاجز اور لاچار وہ ہے کہ دوست بنا نے کے بعد اسے کھودے ‘‘ ۔۴؎  آپ ؑ نے اس لئے ایسا فرمایا کہ اچھا دوست ڈھونڈنا تو پھر بھی ایک اہم اور سخت کام ہے ، اور سب کے لئے آسان بھی نہیں ہے ،لیکن دوستی با قی رکھنا جو کہ صرف خندہ پیشانی اور اچھے برتائو اور تعلقات سے بنی رہ سکتی ہے ، اسے بھی نہ بچا سکے تو وہ زیادہ بے چارہ اور بڑا بد نصیب ہے ۔ { جاری ہے }

تحریر:  سید محمد مجتبیٰ علی