خوفِ خدا

امیر المؤمنینؑ فرماتے ہیں:

اتَّقُوا مَعَاصِيَ اللَّهِ فِي الْخَلَوَاتِ فَإِنَّ الشَّاهِدَ هُوَ الْحَاكِمُ .     (حکمت:۳۲۴)

’’تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو۔کیونکہ جو گواہ ہے وہی حاکم ہے‘‘۔

بہت سے لوگ کھلے عام گناہ سے گھبراتے ہیں مگر تنہائیوں میں گناہ سے انہیں وہ خوف نہیں ہوتا ۔امام ؑ علی، اللہ سبحانہ تعالی کی ایک خاص صفت کی طرف اشارہ فرما تے ہیں کہ وہ رازوں کو بھی جانتا ہے اور فیصلہ کرنے والا بھی خود ہے تو جیسے کھلے عام گناہوں سے گھبراتے ہو تنہائی میں بھی اسی طرح گناہوں سے دور رہو ۔

امامؑ نے اس صفت الہی کو مختلف انداز سے کئی جگہوں پر بیان فرمایا۔

خطبہ ۱۹۶ میں ارشاد فرمایا:

’’وہ بیابانوں میں چوپاؤں کے نالے سنتا ہے۔تنہائیوں میں بندوں کے گناہوں سے آگاہ ہے۔گہرے سمندروں میں مچھلیوں کی حرکات اور تُند ہواؤں کے ٹکراؤ سے پانی کے تھپیڑوں کو جانتا ہے‘‘۔

خطبہ ۱۸۰ میں اللہ سبحانہ کے رازوں سے آگاہی کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’پاک و بے نیاز ہے وہ ذات جس پر نہ تاریک رات کی سیاہی مخفی ہے اور نہ ٹھہری ہوئی شب کی تاریکی۔۔وہ ہر قطرہ کے گرنے کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور ٹھہرنے کی جگہ بھی۔ہر چیونٹی کے چلنے کی جگہ سے بھی باخبر ہے اور رینگ کر پہنچنے کے مقام سے بھی۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مچھر کے لئے کتنی غذا کافی ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ مادّہ اپنے پیٹ میں کیا لئے ہوئے ہے‘‘

خطبہ ۱۹۷ میں امامؑ اپنے اصحاب کو نصیحت فرماتے ہوئے اس صفت کو یوں بیان فرماتے ہیں:

’’پروردگار پر بندوں کے دن و رات کے اعمال میں سے کوئی شے مخفی نہیں ہے۔وہ تو ہر چھوٹی سی چھوٹی چیز سے آگاہ ہے اور ہر شے پر اس کا علم محیط ہے۔تمھارے اعضاء اس کے گواہ اور تمہارے ہاتھ پاؤں اس کا لشکر ہیں۔تمہارے قلب و ضمیر اُس کے جاسوس ہیں اور تمہاری تنہائیاں اس کی نظروں کے سامنے ہیں‘‘

اگر انسان کو اس صفتِ پروردگار کا یقین ہو جائے کہ وہ دیکھ رہا ہے تو انسان بہت سے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔بلکہ پھر انسان تنہائیوںمیں اس رازداں سے راز و نیاز کی باتیں کرے گا۔