عوام میں ایک چیز خواہ کتنی ہی معیوب خیال کی جائے اور تحقیر آمیز نظروں سے دیکھی جائے اگر اس میں کوئی واقعی عیب نہیں ہے تو اس سے شرمانا سراسر نادانی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اکثر ان چیزوں سے محروم ہونا پڑتا ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا باعث ہوتی ہیں۔جیسے کوئی شخص اس خیال سے کہ لو گ اسے جاہل تصور کریں گے کسی اہم اور ضرور ی بات کے دریافت کرنے میں عار محسوس کرے تو یہ بے موقع و بے محل خود داری اس کے لیے علم و  دانش سے محرومی کا سبب بن جائے گی ،اس لیے کوئی ہوشمند انسان سیکھنے اور دریافت کرنے میں عار نہیں محسوس کرے گا۔چنانچہ ایک سن رسیدہ شخص سے کہ جو بڑھاپے کے باوجود تحصیل علم کرتا تھا کہا گیا کہ ما تستحیٌ ان تتعلم علی الکبر«تمہیں بڑھاپے میں پڑھتے ہوئے شرم نہیں آتی۔اس نے جواب میں کہا کہ» انالا استحی من الجھل علی الکبر فکیف استحی من التعلم علی الکبر «جب مجھے بڑھاپے میں جہالت سے شرم نہیں آئی تو اس بڑھاپے میں پڑھنے سے شرم کیسے آسکتی ہے۔البتہ جن چیزوں میں واقعی برائی مفسد ہو ان کے ارتکاب سے شرم محسوس کرنا انسانیت اور شرافت کا جوہر ہے جیسے وہ اعمال ناشائستہ کہ جو شروع و عقل اور مذہب و اخلاق کی رو سے مذموم ہیں۔بہر حال حیاء کی پہلی قسم قبیح اور دوسر ی قسم حسن ہے۔چنانچہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے۔

حیا کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو بتقاضائے عقل ہوتی ہے۔یہ حیا علم و دانائی ہے۔اور ایک وہ جو حماقت کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ یہ سراسر جہل و نادانی ہے۔