دشمن پر قابو پاؤ تو اس قابو پانے کا شکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو۔

عفو و درگزر کا محل وہی ہوتا ہے جہاں انتقام پر قدرت ہو ،اور جہاں قدرت ہی نہ ہو وہاں انتقام سے ہاتھ اٹھا لینا ہی مجبوری کا نتیجہ ہوتا جس پر کوئی فضیلت مرتب نہیں ہوتی۔البتہ قدرت و  اقتدار کے ہوتے ہوئے عفو درگذر سے کام لینا فضیلت انسانی کا جوہر اور اللہ کی اس بخشی ہوئی نعمت کے مقابلہ میں اظہار شکر ہے۔کیونکہ شکر کا جذبہ اس کا مقتضی ہو تا ہے کہ انسان اللہ کے سامنے تذلل و انکسارسے جھکے جس سے اس کے دل میں رحم و رافت کے لطیف جذبات پیدا ہوں گے اور غیظ و غضب کے بھڑکتے ہوئے شعلے ٹھنڈے پڑ جائیں گے جس کے بعد انتقام کا کوئی داعی ہی نہ رہے گا کہ وہ اس قوت و قدرت کو ٹھیک ٹھیک کام میں لانے کی بجائے اپنے غضب کے فرو کر نے کا ذریعہ قرار دے