دوستی کس حد تک ہونی چاہئے ،کیا ہم دوست سے صرف کسی خاص موضوع پر ہی گفتگو اور دوستانہ رکھیں یا پھر اپنی ساری با تیں اور راز کھول دیں ،اور دوست کو پوری طرح سے اپنی زندگی میں شریک کرلیں ، یا پھر دوستی محدود رکھیں۔کس طرح کا رویہ ہو نا چاہئے ؟  مو لا ئے کائنات ؑنے اس عنوان کے ایک معیار اور ایک حدکو معین کردیا ہے ۔ اور ایک لطیف اشارہ فرما دیا ، آپؑ فرما تے ہیں کہ’’ دوست سے دوستی کرو لیکن ایک حد تک، ممکن ہے کہ ایک دن وہی تمہا را دشمن ہو جا ئے اور دشمن سے دشمنی بھی ایک معین حد تک کرو ممکن ہے کہ وہ کبھی تمہا را دوست ہوجا ئے ۱۰؎ ۔ اس قیمتی حکمت میں مولا ئے کا ئنا ت ؑ نے ہم لوگوں کو ایک معیا ر دیا کہ دوستی اور دشمنی دونوںمناسب حد تک رکھنا چاہئے ۔ تا کہ اگر خدا نخواستہ دوست دشمن ہو جا ئے تو بچنے کی کو ئی صورت با قی رہے ، ورنہ اگر کو ئی پردہ نہیں رہا تو پھر بچا نہیں جا سکتا ہے۔ اسی طرح دشمن سے دشمنی بھی ایک حد تک ہو ،حد سے زیا دہ کی صورت میں اگر اتفا قاً وہ دوست بن گیا تو پھر شرمندگی ہو گی ۔ اور اس کے مقا بل خود کو ہلکا محسوس کرے گا ۔ دوستی اور دشمنی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نہ دوستی اور محبت ہمیں اپنے دوست کے حق میںاندھا بنا دے اور نہ ہی دشمن سے دشمنی ہمیں اس کی اچھائیوںپر پردہ ڈالنے پر مجبور کرے ،معاشرہ اور سماج میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو اگر کسی سے خوش ہیں تو اس کے سارے کاموں یہاں تک کہ برے کاموں میں بھی اس کی تعریف  ہی کرتے ہیں لیکن اگر کسی سے ناراض ہو تے ہیں تو اس کے اچھے کاموں کو بھی برا ہی کہتے ہیں الغرض کسی بھی کام کے سلسلہ میں صحیح نتیجہ دینے والے بہت ہی کم افراد ہوتے ہیں،اسی مفہوم کی طرف شیر خدا اشارہ فرماتے ہیں ’’تمہارا دوست وہی ہے جو تمہیں ٹوکے اور وہ دشمن ہے جو (تمہاری تعریفیں کر کر کے)تمہیں مغرور بنا دے  ۱۱؎ 

تحریر:  سید محمد مجتبیٰ علی