زبان پر کنٹرول

اللِّسَانُ سَبُعٌ إِنْ خُلِّيَ عَنْهُ عَقَرَ (حکمت:۶۰)

ترجمہ: زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے ،تو پھاڑ کھائے۔

 زبان ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کو باقی حیوانات سے بلند درجہ بناتی ہے ۔اللہ سبحانہ و تعالی جب سورہ رحمن میں اپنی نعمات کا تذکرہ فرماتا ہے تو اس نعمت ِبیان کو ابتداءِ سورہ میں ذکر کیا۔’’عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ‘‘۔جب رب کے حکم کے مطابق چلے تو اچھائیوں کی چابی بن جاتی ہے اور محبت و الفت کے جذبوں کو بیدار کرتی ہے۔اور اگر مخا لفتِ پروردگار میں استعمال ہو تو یہی زبان خون بہاتی ہے،مال و اسباب لٹواتی ہے ،عزتیں پامال کراتی ہے۔ برائیوں کا مرکز قرار پاتی ہے۔

علماءِ اخلاق نے انسانی اعضاء سے سر زد ہونے والے گناہوں میں سے سب سے زیادہ گناہ زبان سے گنوائے ہیں۔آفاتِ زبان پر پوری پوری کتابیں لکھی ہیں ۔امامؑ شفیق باپ کی طرح ہر انسان کو اس فرمان میں زبان کے خطرے سے آگاہ فرما رہے ہیں اور اسے درندے سے تشبیہ دی ہے ۔ایک جگہ ارشاد فرمایا:

’’اپنی زبان کی اس طرح حفاظت کرو جیسے سونے چاند کی حفاظت کرتے ہو‘‘(حکمت ۳۸۱)

ایک مقام پر تفصیل سے زبان کی اہمیت پر گفتگو فرمائی:

وَ لْيَخْزُنِ اَلرَّجُلُ لِسَانَهُ فَإِنَّ هَذَا اَللِّسَانَ جَمُوحٌ بِصَاحِبِهِ وَ اَللَّهِ مَا أَرَى عَبْداً يَتَّقِي تَقْوَى تَنْفَعُهُ حَتَّى يَخْزُنَ لِسَانَهُ……… (خطبہ ۱۷۴)

’’انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو قابو میںرکھے ۔اس لےے کہ یہ اپنے مالک سے منہ زوری کرنے والی ہے ۔خدا کی قسم! میں نے کسی پرہیز گار کو نہیں دیکھا کہ تقویٰ اس کے لئے مفید ثابت ہوا ہو جب تک کہ اس نے اپنی زبان کی حفاظت نہ کی ہو ۔بے شک مومن کی زبان ا س دل کے پیچھے ہے اور منافق کا دل ا س کی زبان کے پیچھے ہے کیو نکہ مومن جب کو ئی بات کہنا چاہتا ہے تو پہلے اسے دل میں سوچ لیتا ہے اگر وہ اچھی بات ہو تی ہے تو اسے ظاہر کرتا ہے اور اگر بری ہوتی ہے تو اسے پوشیدہ ہی رہنے دیتا ہے اور منافق کی زبان پر جو آتا ہے کہہ گزرتا ہے اسے یہ کچھ خبر نہیں ہو تی کہ کو ن سی بات اس کے حق میں مفید ہے اورکو ن سی مضر ہے ‘‘۔