مقدمہ
پیغمبر اسلام (ص) ایک نور تھے جو انسانوں کے تاریک قلب ودماغ میں چمکے اور اس زمانے کے بدبخت وخبیث معاشرے کو انسانی فرشتوں سے روشناس کرایا اور تہذیب وتمدن کا ایسا تحفہ پیش کیا جو آج تک تمام انسانی قوانین میں سب سے عمدہ اور قیمتی ہے اور ہر شخص اس بات کی تصدیق کرتاہے، اوراگر صرف اور صرف تمام مسلمان اس راستے پرچلتے جو پیغمبر (ص)نے اسلامی معاشرے کے لئے معین کیا تھا اور اختلاف وتفرقہ ، تعصب اور خود غرضی سے پرہیز کرتے تو یقین کامل ہے کہ چودہ سو سال گذرجانے کے بعد آج بھی اس تہذیب وتمدن کے مبارک درخت سے بہترین تحفے حاصل کرتے ،لیکن افسوس اور ہزار افسوس کہ پیغمبر ختمی مرتبت (ص) کی دردناک رحلت کے بعد جنگ وجدال، خود غرضی اور مقام طلبی نے بعض مسلمانوں پر قبضہ جمالیا ،جس کی وجہ سے اسلامی اور الٰہی راستے میں زبردست اور خطرناک انحراف پیدا ہوگیا اور اسلام کے سیدھے راستے کو بہت زیادہ نقصان پہونچا۔
لوگوں کی ناشکری اور ناراضگی ایسے امام کی مخالفت کی وجہ سے تھی کہ جنہیں پیغمبر اسلام (ص) نے مختلف طریقوں اور زاویوں اور مناسبتوں سے پہچنوایا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ درد ناک اور غم انگیز مخالفتیں اور ناشکری جو تمام مومنوں، پرہیز گاروں ، عالموں ، دانشمندوں ، سیاستدانوں اور فکر وآگہی رکھنے والوں خلاصہ یہ کہ پیغمبر اسلام (ص) کے بعد سب سے بزرگ الٰہی نمائندے نے ۲۵ سال تک گوشہ نشینی اختیار کی اور تنہا آپ ہی نے ان دنوں اسلامی معاشرے کو منتشر ہونے سے بچایا اور یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے کو لوگوں نے نہ یہ کہ صرف علی (ع) کو نہیں پہچانا بلکہ اس امام برحق وعظیم الشان کے فضائل وکمالات کو ذرہ برابر بھی درک نہیں کیا۔


لیکن اس ۲۵ سالہ گوشہ نشینی کے بعد جسے حضرت نے یوں تعبیر کیا ہے کہ جیسے میری آنکھ میں کانٹا اور گلے میں ہڈی ہو ، جس وقت اسلامی معاشرہ پیغمبر اسلام (ص) کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے بالکل منحرف ہوگیا اور مسلمانوں نے چاہا کہ پھر سے اسی راستے کو اپنائیں تو حقیقی رہنما اور عظیم وبزرگ الٰہی شخصیت اور اپنے بڑے مربی کو تلاش کرنے لگے ، تاکہ وہ معاشرے کو صحیح راستے پر لائیں اور جس طرح سے پیغمبر (ص)چاہتے تھے اسی طرح عدل وانصاف سے آراستہ حکومت قائم کریں، اور ان لوگوں نے اس مقدس مقصد کے لئے حضرت علی (ع) کے ہاتھوں پر بیعت کی اور آپ نے بھی خداوند عالم کے حکم کے مطابق ’’ جب عدل وانصاف کی حکومت قائم کرنے کے لئے زمینہ فراہم ہوجائے تو فوراً حکومت قائم کرو‘‘ ان کی بیعت کو قبول کرلیا، لیکن معاشرے میں اس قدر اختلاف وانحراف پھیل چکا تھا کہ جس کے خاتمے کے لئے سرکشوں اور مخالفوں سے جنگ وجدال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اس عظیم وکریم ، سخی اور بہادر اور کامل الایمان شخص کی خلافت کے زمانے میں صرف داخلی جنگیں ہوئیں، ناکثین (معاہدہ توڑنے والے) کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی اور مارقین ( دین سے خارج ہونے والے) کو جڑ سے ختم کرنے کے بعد جنگ کا خاتمہ ہوا ،اور بالآخر کچھ اندرونی دشمنوں ( خوارج نہروان) کے بچ جانے کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ باقی رہنے والے ظالم و بدبخت شخص کے ہاتھوں خدا کے گھر میں جام شہادت نوش فرمایا ، جس طرح سے خدا کے گھر میں آنکھیں کھولی تھیں ۔
اور اپنی بابرکت وباعظمت زندگی کو دو مقدس عبادت گاہوں ( کعبہ اور محراب کوفہ) کے درمیان بسر کیا۔
جنگ نہروان ختم ہوگئی اور علی (ع) کوفہ واپس آگئے مگر خوارج میں سے کچھ لوگ جنہوں نے نہروان میں توبہ کیا تھا دوبارہ مخالفت کرنے لگے اور فتنہ و فساد بر پا کرنے لگے۔
علی (ع) نے ان کے پاس پیغام بھیجااور ان لوگوں کو صلح و خاموشی کی دعوت دی اور حکومت کی مخالفت کرنے سے منع کیا لیکن جب ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے تو اپنی قدرت و طاقت سے اس سر کش، نافرمان اور فتنہ پرداز گروہ پر حملہ کرکے اسے نابود کردیا ،ان میں سے کچھ لوگ قتل ہوئے تو کچھ لوگ زخمی ہوگئے اور کچھ فرار کرگئے اور انھیں بھاگنے والوں میں سے عبد الرحمن بن ملجم تھا جو قبیلہ مراد کا رہنے والا تھا یہ مکہ بھاگ گیاتھا۔
ابن ملجم نے علی (ع) کو قتل کرنے کا عہد کیا، عمر وبن بکر نے عمرو عاص کو مارنے کا ذمہ لیا اور برک بن عبد اللہ نے معاویہ کو قتل کرنے کا عہد کیا۔ اس سازش کا نقشہ خفیہ طور پر مکہ میں بنا یا گیا اور تینوں آدمی اپنے مقصد کو ایک ہی دن انجام دیں اس لئے رمضان المبا رک کی انیسویں رات معین ہوئی ہر شخص اپنا کام انجام دینے کے لئے اپنے اپنے مورد نظر شہر چلا گیا عمرو بن بکر ،عمرو عاص کو قتل کرنے کے لئے مصر گیا اور برک بن عبد اللہ معاویہ کو قتل کرنے کے لئے شام گیا اور ابن ملجم بھی کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔ (1)

محرابِ عبادت میں آپ کی شہادت
امام (ع) اس سا ل ماہ رمضان میں مسلسل اپنی شہادت کی خبر دے رہے تھے۔ یہاں تک کہ ماہ رمضان کے وسط میں جب آپ منبر پر تشریف فرما تھے تو آپ نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: شقی ترین شخص ان بالوں کو میر ے سر کے خون سے رنگین کرے گا ۔
شہادت کی رات آپ افطار کے لیے اپنی بیٹی امِ کلثوم کے مہمان تھے ،افطار کے وقت آپ نے تین لقمہ غذا تناول فرمائی اور پھر عباد ت میں مشغول ہوگئے اور شا م سے صبح تک بہت ہی مضطرب اور بے چین تھے ،کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور ستاروں کی گردش کو دیکھتے ،اور طلوع فجر جتنی نزدیک ہوتی اضطراب اور بے چینی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا تھا اور فرماتے تھے: خدا کی قسم ، نہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ جس نے مجھے خبر دی ہے اس نے جھوٹ کہا ہے یہی وہ رات ہے کہ جس میں مجھے شہادت کا وعدہ دیا گیا ہے۔(2)
یہ وعدہ پیغمبر (ص)نے آپ کو دیا تھا، علی (ع) خود نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر (ص)نے رمضان المبارک کی اہمیت و فضلیت کے بارے میں خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر آخر ِخطبہ میں رونے لگے میں نے عرض کیا یا رسول خدا (ص)!آپ کیوں رو رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس مہینے میں جو تمھارے ساتھ پیش آئے گااسی کے بارے میں رو رہا ہوں :
’’کأنِّیِ بِکَ وأنتَ تُصَلّی لرَ بَّکَ وَقد انبَعثَ اَشقَی الاولین والا خرِینَ شقیقُ عٰاقِرناقَۃِ ثَموُدَفَضَربَکَ ضَربَۃً عَلیٰ فَرْ قِکَ فَخضَّبَ منِہ ا لْحیتَکَ‘‘ (3)
’’یعنی گویامیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نماز میں مشغو ل ہو اور دنیا کا سب سے شقی اور بد بخت ترین آدمی ناقۂ ثمود کے مارنے کی طرح کھڑا ہوگا اور تمہارے سر پر ضربت مارے گا اور تمھاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا ‘‘
بالآخر کرب اور بے چینی کی رات ختم ہوئی اور علی (ع) سحر کی تاریکی میں نماز صبح ادا کرنے کے لئے مسجد کی طرف چلے ،گھر میں جو مرغابیاں پلی تھیں انہوں نے راستہ روکا اور لبا س سے لپٹ گئیں، اصحاب نے چاہا کہ ان سب کو دور کر دیں مگر آ پ نے فرمایا: ’’دَعُوْ ھُنَّ فَاِ نَّھُنَّ صَوایئُ تَتْبَعُھٰا نَوایِحُ‘‘

’’یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ فریا د کر رہی ہیں‘‘ اور اس کے بعد مسلسل نوحہ و بکا کریں گی۔(4)
امام (ع) مسجدمیں داخل ہوئے اور نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور تکبیر ۃ الاحرام اور پھر قراٗت کے بعد سجدے میں گئے اس وقت ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار آپ کے سرِ مبارک پر ماری اس حال میں کہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا:’’للّٰہِ الحکم لاٰ لَکَ یا علی‘‘ اتفاق سے یہ ضربت بھی اسی جگہ لگی جہاں پہلے عمر وبن عبدود نے تلوار ماری تھی۔(5)
آ پ کا سرِمبارک پیشانی تک پارہ ہوگیا ۔
حسنین (ع) نے بنی ہاشم کے ہمراہ علی (ع) کوکمبل میں رکھا اور گھر لے گئے ، حضرت کے لئے تھوڑا سا دودھ لایا گیا آپ نے تھوڑا سا دودھ پیا اور فرمایا اپنے قیدی کو بھی اس دودھ سے تھوڑا سا دے دواور اسے اذیت نہ دو۔
امام (ع) کے بیٹے خاموش بیٹھے ہوئے تھے ، اس حال میں کہ بابا کا غم ان کے پورے وجود پر چھایا ہوتھا اور حضرت کی دلکش اور روح پرور گفتگو سن رہے تھے،امام (ع) پروصیت کرتے کرتے غشی طاری ہو گئی اور جب دوبارہ آنکھ کھولی تو فرمایا: اے حسن!میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، آج کی رات میری عمر کی آخری رات ہے، جب میرا انتقال ہوجائے تو مجھے اپنے ہاتھوں سے غسل دینا او ر کفن پہنانا اور تم خود میرے کفن و دفن کا انتظام کرنا اور میری نماز جنازہ پڑھانا اور رات کی تاریکی میں شہر کو فہ سے دور پوشیدہ طور پرمجھے دفن کرنا تا کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہونے پائے۔
علی (ع) دو دن زندہ تھے اور۲۱ رمضان شب جمعہ ۴۰ ؁ ہجری کے ماہ رمضان کی اکیسویں تاریخ کی شب میں۶۳ سال کی عمر میں شہید ہوگئے، آپ کے فرزند امام حسن (ع) نے آپ کو اپنے ہاتھ سے غسل دیااور نماز جنازہ پڑھائی اور نماز میں سات تکبیریں کہیں او ر پھر فرمایا’’اماانّھا لاٰ تُکَبّرُ علیٰ احدٍ بعدہ‘‘ یعنی ’’جان لو کہ علی (ع) کے جنازے کے بعد کسی بھی شخص کے جنازے پر سات تکبیریں نہیں کہی جائیں گی‘‘ علی (ع) کو فہ میں ’’غری‘‘ (موجودہ نجف اشرف) نامی جگہ دفن ہوئے، آپ کی خلافت کا زمانہ چار سال اور دس مہینے تھا۔(6)
اس طرح سے ایک عظیم المرتبت انسان کی نوارنی اور معنوی زندگی جس کی ولادت کعبہ میں اور شہادت مسجد میں ہوئی،ختم ہوگئی، وہ انسان کہ پیغمبراسلام( ص) کے بعد جس کی مثال نہ دنیا نے دیکھی اور نہ دیکھ پائے گی، آپ کا وجود شریف ،ایسے متضاد فضائل کا مجموعہ تھا کہ کسی بھی شخص کے اند روہ تمام فضائل جمع نہیں ہو سکتے:

جمعت فی صفاتک الاضداد فلھذا عزت لک الانداد
زاھدٌ حاکمٌ حلیمٌ شجاعٌ فاتکٌ ناسکٌ فقیرٌ جوادٌ

تمام متضاد اور مختلف صفات آپ کے اند ر جمع تھے اسی وجہ سے آپ کا کوئی نظیر نہ مل سکا ۔آپ زاہد ، حاکم ،حلیم و بردباد ، بہادر ،عابد ،جری ،خالی ہاتھ ،سخی اور جواد (ایثار کرنے والے) تھے۔

منابع:
1:۔ مقاتل الطابین ص ۲۹۔ الامامۃ و السیاسۃ ج۱،ص۱۳۷، تاریخ طبری ج ۶،ص ۳۸ کامل ابن اثیرج ۳، ص ۱۹۵۔ روضۃ الواغطین ج۱،ص۱۶۱۔
2:۔روضہ الواغطین: ج۱، ص۱۶۴
3:۔عیون اخبار الرضا: ج۱ص۲۹۷(مطبوعہ قم)۔
4:۔تاریخ یعقوبی: ج ۲، ص۲۱۲۔ ارشاد: ص ۶۵۲ ۔ روضۃ الوعظین: ج۱، ص۱۶۵۔ مروج الذہب ج۲، ص۴۲۵۔
5:۔کشف الغمہ ج۱، ص ۵۸۴۔
6:۔مناقب آل ابی طالب :ج۳، ص۳۱۳۔ تذکرۃ الخواص: ص۱۱۲ ۔ تاریخ یعقوبی: ج ۲،ص۲۱۳۔

https://razavi.aqr.ir