شیعہ کی صفات

وَ تَمَسَّكْ بِحَبْلِ الْقُرْآنِ وَ اسْتَنْصِحْهُ وَ أَحِلَّ حَلَالَهُ وَ حَرِّمْ حَرَامَهُ وَ صَدِّقْ بِمَا سَلَفَ مِنَ الْحَقِّ وَ اعْتَبِرْ بِمَا مَضَى مِنَ الدُّنْيَا لِمَا بَقِيَ مِنْهَا فَإِنَّ بَعْضَهَا يُشْبِهُ بَعْضاً وَ آخِرَهَا لَاحِقٌ بِأَوَّلِهَا وَ كُلُّهَا حَائِلٌ مُفَارِقٌ وَ عَظِّمِ اسْمَ اللَّهِ أَنْ تَذْكُرَهُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ وَ أَكْثِرْ ذِكْرَ الْمَوْتِ وَ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَ لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِلَّا بِشَرْطٍ وَثِيقٍ وَ احْذَرْ كُلَّ عَمَلٍ يَرْضَاهُ صَاحِبُهُ لِنَفْسِهِ وَ يُكْرَهُ لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَ احْذَرْ كُلَّ عَمَلٍ يُعْمَلُ بِهِ فِي السِّرِّ وَ يُسْتَحَى مِنْهُ فِي الْعَلَانِيَةِ وَ احْذَرْ كُلَّ عَمَلٍ إِذَا سُئِلَ عَنْهُ صَاحِبُهُ أَنْكَرَهُ أَوْ اعْتَذَرَ مِنْهُ وَ لَا تَجْعَلْ عِرْضَكَ غَرَضاً لِنِبَالِ الْقَوْلِ وَ لَا تُحَدِّثِ النَّاسَ بِكُلِّ مَا سَمِعْتَ بِهِ فَكَفَى بِذَلِكَ كَذِباً وَ لَا تَرُدَّ عَلَى النَّاسِ كُلَّ مَا حَدَّثُوكَ بِهِ فَكَفَى بِذَلِكَ جَهْلًا وَ اكْظِمِ الْغَيْظَ وَ تَجَاوَزْ عِنْدَ الْمَقْدَرَةِ وَ احْلُمْ عِنْدَ الْغَضَبِ وَ اصْفَحْ مَعَ الدَّوْلَةِ تَكُنْ لَكَ الْعَاقِبَةُ وَ اسْتَصْلِحْ كُلَّ نِعْمَةٍ أَنْعَمَهَا اللَّهُ عَلَيْكَ وَ لَا تُضَيِّعَنَّ نِعْمَةً مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عِنْدَكَ وَ لْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ بِهِ عَلَيْكَ وَ اعْلَمْ أَنَّ أَفْضَلَ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُهُمْ تَقْدِمَةً مِنْ نَفْسِهِ وَ أَهْلِهِ وَ مَالِهِ فَإِنَّكَ مَا تُقَدِّمْ مِنْ خَيْرٍ يَبْقَ لَكَ ذُخْرُهُ وَ مَا تُؤَخِّرْهُ يَكُنْ لِغَيْرِكَ خَيْرُهُ وَ احْذَرْ صَحَابَةَ مَنْ يَفِيلُ رَأْيُهُ وَ يُنْكَرُ عَمَلُهُ فَإِنَّ الصَّاحِبَ مُعْتَبَرٌ بِصَاحِبِهِ وَ اسْكُنِ الْأَمْصَارَ الْعِظَامَ فَإِنَّهَا جِمَاعُ الْمُسْلِمِينَ وَ احْذَرْ مَنَازِلَ الْغَفْلَةِ وَ الْجَفَاءِ وَ قِلَّةَ الْأَعْوَانِ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ وَ اقْصُرْ رَأْيَكَ عَلَى مَا يَعْنِيكَ وَ إِيَّاكَ وَ مَقَاعِدَ الْأَسْوَاقِ فَإِنَّهَا مَحَاضِرُ الشَّيْطَانِ وَ مَعَارِيضُ الْفِتَنِ وَ أَكْثِرْ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى مَنْ فُضِّلْتَ عَلَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الشُّكْرِ وَ لَا تُسَافِرْ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ حَتَّى تَشْهَدَ الصَّلَاةَ إِلَّا فَاصِلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ فِي أَمْرٍ تُعْذَرُ بِهِ وَ أَطِعِ اللَّهَ فِي جَمِيعِ أُمُورِكَ فَإِنَّ طَاعَةَ اللَّهِ فَاضِلَةٌ عَلَى مَا سِوَاهَا وَ خَادِعْ نَفْسَكَ فِي الْعِبَادَةِ وَ ارْفُقْ بِهَا وَ لَا تَقْهَرْهَا وَ خُذْ عَفْوَهَا وَ نَشَاطَهَا إِلَّا مَا كَانَ مَكْتُوباً عَلَيْكَ مِنَ الْفَرِيضَةِ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ قَضَائِهَا وَ تَعَاهُدِهَا عِنْدَ مَحَلِّهَا وَ إِيَّاكَ أَنْ يَنْزِلَ بِكَ الْمَوْتُ وَ أَنْتَ آبِقٌ مِنْ رَبِّكَ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا وَ إِيَّاكَ وَ مُصَاحَبَةَ الْفُسَّاقِ فَإِنَّ الشَّرَّ بِالشَّرِّ مُلْحَقٌ وَ وَقِّرِ اللَّهَ وَ أَحْبِبْ أَحِبَّاءَهُ وَ احْذَرِ الْغَضَبَ فَإِنَّهُ جُنْدٌ عَظِيمٌ مِنْ جُنُودِ إِبْلِيسَ وَ السَّلَامُ . (کتاب ۶۹)

حارث ہمدانی کے نام

ترجمہ: قرآن کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ،اس سے پندو نصیحت حاصل کرو ،اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھواور گذشتہ حق کی باتوں کی تصدیق کرو اور گزری

ہوئی دنیا سے باقی دنیا کے بارے میں عبرت حاصل کرو کیونکہ اس کا ہر دور دوسرے دور سے ملتا جلتا ہے اور اس کا آخربھی اپنے اول سے جا ملنے والا ہے اور یہ دنیا سب کی سب فنا ہونے والی اور بچھڑ جانے والی ہے۔دیکھو! اللہ کی عظمت کے پیشِ نظر حق بات کے علاوہ اُس کے نام کی قسم نہ کھا ؤ۔موت اور موت کے بعد کی منزل کو بہت زیادہ یاد کرو۔ موت کے طلب گار نہ بنو،مگر قابل اطمینان شرائط کے ساتھ اور ہر اُس کام سے بچوجو آدمی اپنے لئے پسند کرتا ہو،اور عام مسلمانوں کے لئے اُسے نا پسند کرتا ہو۔ہر اُس کام سے دور رہو جو چوری چھپے کیا جا سکتا ہو،مگر علانیہ کرنے میں شرم دامن گیر ہوتی ہو اور ہر اُس فعل سے کنارہ کش ہو کر کہ جب اُس کے مرتکب ہونے والے سے جواب طلب کیا جائے تو وہ خود بھی اسے برا قرار دے یا معذرت کرنے کی ضرورت پڑے۔اپنی عزت وآبرو کو چہ میگوئیاں کے تیروں کا نشانہ نہ بناؤ جو سنو اُسے لوگوں سے واقعہ کی حیثیت سے بیان نہ کرتے پھرو کہ جھوٹا قرار پانے کے لئے اتنا ہی کافی ہوگا اور لوگوں کو ان کی ہربات میں جھٹلانے میں نہ لگوکہ یہ پوری پوری جہالت ہے ۔غصہ کو ضبط کرو اور اختیار و اقتدار کے ہوتے ہوئے عفودرگزر سے کام لو اور غصہ کےوقت بردباری اختیار کرو اور دولت و اقتدار کے ہوتے ہوئے معاف کرو تو انجام کی کامیابی تمہارے ہاتھ رہے گی اور اللہﷻنے جو نعمتیں تمہیں بخشی ہیں (اُن پر شکر بجا لاتے ہوئے )اُن کی بہبودی چاہو اور اُسکی دی ہوئی نعمتوں میں سے کسی نعمت کو ضائع نہ کرو اور اُس نے جو انعامات تمہیں بخشے ہیں اُن کا اثر تم پر ظاہر ہونا چاہئے۔

اوریاد رکھوکہ ایمان والوں میں سب سے افضل وہ ہے جو اپنی طرف سے اور اپنے اہل و عیال اور مال کی طرف سے خیرات کرے کیونکہ تم آخر کے لئے جو کچھ بھی بھیج دو گے وہ ذخیرہ بن کر تمہارے لئے محفوظ رہے گااور جو پیچھے چھوڑ جاؤ گے اُس سے دوسرے فائدہ اٹھائیں گے اور اُس آدمی سے بچو جس کی رائے کمزور اور افعال بُرے ہوں کیونکہ آدمی کا اس ساتھی پر قیاس کیا جاتاہے بڑےشہروں میں رہائش رکھوکیونکہ وہ مسلمانوں کے اجتماعی مرکز ہوتے ہیں ۔غفلت اور بیوفائی کی جگہوں اور اُن مقامات سے کہ جہاں اللہ کی اطاعت میں مدد گاروں کی کمی ہو،پرہیز کرو ،اور صرف مطلب کی باتوں میں اپنی فکر پیمائی کو محدود رکھو ،بازاری اڈوں میں اٹھنے بیٹھنے سے الگ رہوکیونکہ یہ شیطان کی بیٹھکیں اور فتنوں کی آماج گاہیں ہوتی ہیں اور جو لوگ تم سے پست حیثیت کے ہیں انہی کو زیادہ دیکھا کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے شکر کا ایک راستہ ہے۔جمعہ کے دن نماز میں حاضر ہوئے بغیر سفر نہ کرنا ،مگر یہ کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لئے جانا ہو یا کوئی معذوری درپیش ہو اور اپنے تما م کاموں میں اللہﷻ کی اطاعت کرو،کیونکہ اللہﷻکی اطاعت دوسری چیزوں پر مقدم ہے ۔اپنے نفس کو بہا نے کر کر کے عبادت کی راہ پر لاؤ،اور اُس کے ساتھ نرم رویہ رکھو دباؤ سے کا م نہ لو جب وہ دوسری فکروں سے فارغ البال اور چونچال ہو اُس وقت اُس سے عبادت کا کام لو مگر جو واجب عبادتیں ہیں اُن کی بات دوسری ہے انہیں بہر حال ادا کرنا ہے اور وقت پر بجا لانا ہے۔اور دیکھو ایسا نہ ہو کہ موت تم پر آ پڑے اس حال میں کہ تم اپنے پروردگار سے بھاگے ہوئے دنیا طلبی میں لگے رہو اور فاسقوں کی صحبت سے بچے رہنا کیونکہ برائی برائی کی طرف بڑھا کرتی ہے اور اللہﷻ کی عظمت و توقیر کا خیال رکھو اور اُس کے دوستوں سے دوستی کرو اور غصے سے ڈرو کیونکہ یہ شیطان کے لشکروں میں سے ایک بڑا لشکر ہے ۔والسلام۔

یمن کے ایک خاندان بنی ہمدان میں امیر المومنین ؑ کا ایک بہت پیارا ساتھی حارث بن عبد اللہ تھا۔اس کی شہرت یہ تھی کہ وہ اپنے زمانے کا بہت بڑا فقیہ ہے۔وہی حارث ہمدانی جو ایک دن خلاف معمول ظہر کے وقت امام ؑ کے پاس آئے ۔امامؑ نے پوچھا اس وقت کیوں آئے ہو عرض کرتے ہیں آپ کی محبت لے آئی ہے۔ امیر المؤمنین علیہ

السلام فرماتے ہیں اگر یہ صحیح ہے تو موت کے وقت،صراط کے نزدیک اور حوض کوثر پر مجھے دیکھو گے۔

ایسے پیارے ساتھی کو امامؑ نے یہاں چونتیس نصیحتیں فرمائیں۔گویا فرما رہے ہیں ہمارے پیاروں کو بھی ہماری پیاری باتیں یاد رکھنی چاہئیں ۔اور ان باتوں پر عمل کر کے ہی وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم علی علیہ السلام کے پیارے ہیں۔

امامؑ کے مخَاطَب تو حارث ہمدانی ہیں مگر حقیقت میں یہ ہر شیعہ کے لئے ایک دستور العمل ہے اور ایک شیعہ کا اخلاق کیسا ہونا چاہئے اس کا آئینہ ہے۔پہلے جملہ میں امام ؑ نےقرآن سے تمسک اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کا حکم فرما کر شیعہ اور قرآن کا تعلق واضح کیا اور فرمایا:

جسے قرآن حلال کہے اسے حلال جانو جسے حرام قرار دے اسے حرام سمجھو۔