بسم اللہ الرحمن الرحیم

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُم مَّوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٞ لِّمَا فِي ٱلصُّدُورِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ (سورہ یونس آیہ ۵۷)

اے لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ قرآن تمہارے لئے موعظہ اور تمہارے دلوں کی بیماری کے لئے شفا اور مومنین کے لئے ہدایت ورحمت بن کر آیا ہے۔

اس آیہ مجیدہ میں قرآن کی پہلی صفت اس کا موعظہ ہونا بیان ہواہے۔موعظہ یعنی نیکیوں کا تذکر او ریاد دہانی ،غفلت سے مقابلہ اور بیداری۔ہر وہ پند و نصیحت جو مخاطب سے محبت کی وجہ سے اسے برائیوں سے ڈرائے اور اس کے دل کو نیکیوں کی طرف متوجہ کرے اُسے وعظ اور موعظہ کہتے ہیں۔موعظہ غفلت میں ڈوبے ہوئے افراد کو جگا کر علم و حکمت کا چراغ تھما کر قرآن و عترت کی راہ پر چلانے کا نام ہے۔

اللہ سبحانہ تعالی کو یہ عمل اتنا پسند ہے کہ ایک طرف پورے قرآن کو موعظہ قرار دیا ہے اور دوسری طرف جب جناب لقمان جیسوں نے اپنی قوم یا بیٹوں کو نصیحتیں کیں تو انہیں نمونے کے طور پر قرآن کا حصہ بنا دیا۔ جناب لقمان محبتِ پدری کے تقاضے نبھاتے ہوئے اپنے بیٹے کے عقیدے و عمل اور اخلاق و اخلاص کی اصلاح کرتے ہیں تو رب اسے یوں بیان فرما تا ہے:

وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ(سورہ لقمان:۱۳)

’’اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جب وہ اسے وعظ کر رہے تھے۔بیٹا! کسی چیز کو خدا کا شریک قرار نہ دو کیونکہ شرک بہت بڑاظلم ہے‘‘۔

توحید کی گفتگو سے شروع ہونے والی ان آیات میں جناب لقمان کے پند و نصائح کو موعظہ کہا گیا۔اس موعظہ میں باپ کا پیار اور محبت بھی جھلک رہی ہے اور مہربان باپ کےفرائض و واجبات کا بھی پتہ چل رہا ہے۔موعظہ وتبلیغ کی روش بھی پیش کی جا رہی ہے اور جوان اولاد کے ساتھ کس لہجہ میں بات کی جائے اس کا سلیقہ بھی سکھایا جا رہا ہے۔موعظہ کی بنیاد توحید کو قرار دیا گیا اور والدین سے سلوک و برتاؤ کو اس کا اثر بتایا گیا ہے۔

قرآن مجید میں اس اندازِ موعظہ کو بار بار بیان کیا گیا ہے ۔کبھی انبیا اپنی قوم کو موعظہ فرماتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور جس طرح نوح جیسا باپ اپنے گناہ گار بیٹے کو بلاتا ہوا سنائی دیتا ہے۔کبھی جناب یوسف ظلم و زیادتی کرنے والے بھائیوں سے نصیحت آمیز باتیں کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی قرآن کریم میں جناب شعیب کا اپنی بیٹیوں سے گفتگو کرنا بیان ہوتا ہے۔

قرآن کو خالق نے موعظہ بنا کر بھیجا ہے ۔قرآن اول سے آخر تک موعظہ و نصیحت ہے۔قرآن اللہ تک پہنچنے کے قوانین و ضوابط بتا تا ہے۔قرآن رضائے خدا کی راہیں دکھاتا ہے۔

مگر پروردگارا! سوال یہ ہے کہ اس موعظہ کی وضاحت و تفسیر اور علمی و عملی مثال کہاں سے ملے گی؟ خداوندا اس راہ پر چل کر ہمیں منزلِ مقصود پر کون پہنچائے گا؟ اس راہ کے راہزنوں سے بچنے کی راہنمائی کون کرے گا؟

خلوصِ قلب سے یہ سوال دہرانے والے کو یقینا اس ہستی کی ،جس ہستی کے قلب پر یہ قرآن اترا تھا اس صداکی گونج سنائی دے گی:

’’عَلِیٌّ مَعَ القَرآنِ وَ القُرآنُ مَعَ عَلِیّ‘‘

علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔

اس موعظہ کی علمی تفصیل جاننی ہے یا عملی تصویر دیکھنی ہے تو خود یہ شاگرد عظیمِ مصطفیٰ جناب علی مرتضی کہتے نظر آتے ہیں:

’’ فَتَأَسَّ بِنَبِيِّكَ الْأَطْيَبِ الْأَطْهَرِ ( صلى الله عليه وآله ) فَإِنَّ فِيهِ أُسْوَةً لِمَنْ تَأَسَّى وَ عَزَاءً لِمَنْ تَعَزَّى وَ أَحَبُّ الْعِبَادِ إِلَى اللَّهِ الْمُتَأَسِّي ‘‘ (نہج البلاغہ خطبہ۱۵۸)

تم اپنے پاک و پاکیزہ نبی کی پیروی کرو چونکہ ان کی ذات اتباع کرنے والے کے لئے نمونہ اور صبر کرنے والے کے لئے ڈھارس ہے۔ان کی پیروی کرنے والا اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا ہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔

موعظہ الہی قرآن سے اپنا تعلق بتاتے ہوئے جناب امیر المومنین ؑ فرماتے ہیں:

’’ فَاسْتَنْطِقُوهُ وَ لَنْ يَنْطِقَ وَ لَكِنْ أُخْبِرُكُمْ عَنْهُ ‘‘ (نہج البلاغہ خطبہ۱۵۶)

ترجمہ: اس قرآن سے پوچھو لیکن یہ بولے گا نہیں البتہ میں تمہیں اُس کی طرف سے خبر دیتا ہوں۔

پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا تھا علی مع القرآن تو خود جناب امیر المومنینؑ ارشاد فرماتے ہیں:

’’ وَ إِنَّ الْكِتَابَ لَمَعِي مَا فَارَقْتُهُ مُذْ صَحِبْتُهُ ‘‘ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۰)

ترجمہ: اور کتابِ خدا میرے ساتھ ہے اور جب سے میرا اس کا ساتھ ہوا ہے میں اس سے الگ نہیں ہوا۔

قرآن مجید کی عظمت کے لئے خطبہ بیان فرمایا اور اس کی ابتداء میں اسے موعظہ کے نام سے یاد فرمایا:

’’ انْتَفِعُوا بِبَيَانِ اللَّهِ وَ اتَّعِظُوا بِمَوَاعِظِ اللَّهِ ‘‘ (خطبہ:۱۷۴)

ترجمہ: خدا وند ِ عالم کے ارشادات سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرو۔

قرآن مجید یعنی اس موعظہ الہی کی باریکیوں کو لسان علوی سے سننے کے لئے ان اوراق میں نہج البلاغہ سے کچھ فرامین کا انتخاب کیا گیا ہے ۔اس امید کے ساتھ کہ یہ کلمات نہج البلاغہ سے آشنائی کا ذریعہ بنیں گے اور اما م ؑکی ذات کی طرح آپ کا کلام بھی مظلوم ہے وہ عام ہو گا اور ان مواعظ سے کمالِ انسانیت کی راہیں بھی روشن ہوں گی۔

امیر المومنین کے کلام کا جو حصہ سید رضی نے جمع کیا اور نہج البلاغہ کا نام دیا ،اس کا آدھے سے زیادہ حصہ موعظہ پر مبنی ہے۔امام عالی مقامؑ کبھی ھمام کے سوال کے جواب میں،کبھی حارث ہمدانی کو تلقین کی صورت میں ،کبھی جناب سلمان فارسی کو ہدایت کے انداز میں ،کبھی مالک اشتر کی راہنمائی میں ،کبھی ابوذر کی حوصلہ افزائی میں ۔کبھی حسان مجتبیٰؑ کو تحریر میں،کبھی محمد حنفیہ کو ہنر ِجنگ کے انداز میں ،کبھی کمیل کے ساتھ راز و نیاز میں،کبھی حسنین شریفین ؑ کو وصیت کی صورت میں،کبھی عثمان بن حنیف کو تنبیہ کے طریقے سے،کبھی افراد کو اور کبھی پوری قوم کو خطاب کی صورت میں موعظہ فرماتے ہیں۔

ان رقت آمیز نصیحتوں اور دلسوزی کی روح پرور صداؤں کو کبھی نوف بکالی نقل کرتے ہیں کہ ’’کوفہ میں پتھر پر کھڑے تھے،جسم مبارک پر اونی جبہ تھا،تلوار کا نیام کھجور کے پتوں کا تھا،پیروں میں جوتے بھی کھجور کی پتیوں کے تھے،پیشانی پر سجدوں کے نشان تھے،نوف کہتے ہیں ایک مقام پر پہنچ کر امام نے اپنا ہاتھ ریش مبارک پر پھیرا اور دیر تک روتے رہے اور پھر فرمایا:

أَيْنَ إِخْوَانِيَ الَّذِينَ رَكِبُوا الطَّرِيقَ وَ مَضَوْا عَلَى الْحَقِّ أَيْنَ عَمَّارٌ وَ أَيْنَ ابْنُ التَّيِّهَانِ وَ أَيْنَ ذُو الشَّهَادَتَيْنِ وَ أَيْنَ نُظَرَاؤُهُمْ مِنْ إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ تَعَاقَدُوا عَلَى الْمَنِيَّةِ وَ أُبْرِدَ بِرُءُوسِهِمْ إِلَى الْفَجَرَةِ . (نہج البلاغہ :خطبہ ۱۸۰)

آہ! کہاں ہیں ؟وہ میرے بھائی کہ جو سیدھی راہ پر چلتے رہے ۔ اورحق پر گزرگئے کہاں ہیں ؟عمار اور کہاں ہیں ؟ابن تیہان اور کہاں ہیں ؟ ذوالشہا دتین او رکہاں ہیں ان کے ایسے دوسرے بھائی کہ جو مرنے پر عہد و پیمان باندھے ہوئے تھے اور جن کے سروں کو فاسقوں کے پاس روانہ کیا گیا۔

کبھی ضرارجیسے اصحاب ان موعظوں کو حاکم شام کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ضرار بن ضمرہ کہتے ہیں:

’’رات اپنے دامنِ ظلمت کو پھیلا چکی تھی،علی علیہ السلام محرابِ عبادت میں کھڑے ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے سانپ کے ڈسے ہوئے کی طرح تڑپ رہے تھے اور غم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے:

’’ اے دنیا ! اے دنیا دور ہو مجھ سے .کیامیرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے .تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے)بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے ,جاکسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے .میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں .تیری زندگی تھوڑی , تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے افسوس زادِ راہ تھوڑا , راستہ طویل سفر دور دراز اور منزل سخت ہے ‘‘                           (نہج البلاغہ: حکمت ۷۷)

ان مواعظ سے سوئی ہوئی عقلوں کو بیدار کر کے علی علیہ السلام صدائیں دیتے ہیں:

’’ أَعِينُونِي بِوَرَعٍ وَ اجْتِهَادٍ وَ عِفَّةٍ وَ سَدَادٍ ‘‘ (نہج البلاغہ خط ۴۵)

پرہیز گاری،سعی و کوشش،پاکدامنی اور سلامت روی میں میری مدد کرو۔

خدا وند متعال ہمیں اس قابل بنائے کہ ان مقدس صداؤں کو،امام مظلوم کے نالوں کو،ہدایت کے ان اصولوں کو سن سکیں اور پھر عمل سے لبیک کہہ سکیں۔جہاں ان فرامین کو اپنی زندگیوں میں اپنانا ضروری ہے اسی طرح دوسروں کو ان فرامین سے مطلع کرنا بھی لازم ہے ۔اگر ہم ان فرامین کو عام کر سکیں تو معصوم خود فرماتےہیں کہ ان میں اتنی تأثیر ہے کہ لوگ ہماری طرف رجوع کریں گے۔

والسلام علیکم

مقبول حسین علوی