صداقت 

نہج البلاغہ میں مدارج اخلاق اور انسان کے اقدا ر کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکے ایک خاص اخلاقی زاوئے کو نظر میں رکھا گیا جس میں نہ اسکے دین کو دیکھا جا تا ہے اور نہ ہی اسکے مذہب کو ۔بلکہ اخلاق کے اہم ارکان میں اسکا حساب ہو تا ہے جی ہاں اسکا نا م صداقت ہے صداقت جو امیر المؤمنین کے وجود مبارک میں بنحو کامل پائی جاتی ہے اس تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

الف۔”جانبو االکذب فانہ مجانب الایمان ،الصادق علی شفا منجاة و کرامة ولکاذب علی شرف مھواة ومھانة”(خطبہ ٨٥)

‘جھوٹ سے دوری کرو کیونکہ وہ ایمان سے دور ہے اور سچا نجات اور کرامت سے آراستہ ہے اور جھوٹا بلندی کی ایسی چوٹی پہ چاہ میں گر نے کے قریب ہے’

ب۔’ایمان کی علامت یہ ہے کہ اپنی جان کو نقصان پہونچنے کے باوجود بھی سچ بولواور جہاں جھوٹ سے نفع پہونچنے کے باوجود بھی سچ بولو'(حکمت٤٥٠)

ج ۔”و صدقہ علی قدر مروئتہ”(حکمت٤٤) ‘اور اسکی صداقت اسکے مردانگی کے اعتبار سے ہو تی ہے’

پس انسان کو ہر حال میں سچا ہو نا چاہیے سچائی سے وہ نجات کا راستہ پاتا ہے اور جھوٹ اسے تباہ اور بر باد کر دیتاہے نہج البلاغہ کے مایہ ناز اور مشہور مفسر و مترجم علامہ محمد تقی جعفر فرماتے ہیں : کہ دنیا میں فقط ایک موجو د ایسا ہے جو جھوٹ بول سکتا ہے اور وہ ہے انسان۔ترجمہ وتفسیر نہج البلاغہ ج١٣۔

جی ہاں یہ انسان ہی توہے جو اتنا فھم شعور رکھنے کے باوجود بھی صداقت اور سچائی کا دامن چھوڑ کے ہر پل جھوٹ کا سہارا لیتا ہے تبھی تو روز بروز تباہی اور فساد میں اضافہ ہی ہو تا ہے اور اپنے ایمان اور اعتقاد کو کھوتا ہی جارہا ہے اگر انسان سچائی اور صداقت کو اپنا شعار بنائے جھوٹ اور جھوٹوں سے پرہیز کرے ہر طرف سے نجا ت اور کرامت کا عالم ہو گا .