عفو اورمعاف کرنا۔

دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر نا ایک اچھے شخص ہو نے کی پہچان ہے جس کے اندر ایسی اخلاقی صفت پائی جائے وہ شخص لو گوں اور معاشرے میںہر لحاظ سے کا میاب اور ہر قدم پہ انکا خاص احترام کیا جاتا ہے مکتب نہج البلاغہ میں دوسروں کو معاف کر نے اور انکے عیبوں اور خطاؤں کو بخشنے کی تاکید کی جارہی ہے اس بات کی گواہ خود امیرالمؤمنین کی ذات مقدس ہے جو گھر کی دہلیز سے لیکر میدان جنگ کے آخری خط تک بخشش اور عفو کا مکمل نمو نہ نظر آتے ہیںآپ اس بارے میں فرماتے ہیں:

الف ۔”واکظم الغیظ و تجاوز عند المقدرة…”(نامہ٦٩)

‘غصہ کو پیو اور حصول قدرت کے وقت معاف کرو ‘

ب۔’‘اذا قدرت علی عدوّک فا جعل العفو عنہ شکرا للقدرة علیہ ”(حکمت١٠)

‘جب دشمن پر قدرت حاصل ہو جائے تو معاف کر دینے ہی کو اس قدرت کا شکریہ قرار دو’

ج۔”اولی الناس بالعفو اقدر ھم علی العقوبة”(حکمت٤٩)

‘معافی دینا اس جگہ معنی رکھتا ہے جہاں شخصی حقوق میں تجاوز ہو اہو لیکن جہاں حریم عمومی میں تجاوز ہو اہو وہاں معاف کرنا بی معنی ہے کیونکہ ایسے مواقع پہ معاف کر نا تجاوز کرنے والو کو زیادہ جسارت کرنے پہ آمادہ کرتا ہے اورسب سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار وہ ہے جو سب سے زیادہ سزا دینے کی طاقت رکھتا ہے ‘ (نہج البلاغہ از دیدگاہ قرآن)

د۔’‘ان اعف فالعفو لی قربة و ھو لکم حسنة فاعفوا۔الا تحبون ان یغفر اللہ لکم ۔”(نامہ٢٣)

‘اگر میں معاف کرتا ہوں تویہ میرے لئے قربت الھی کا ذریعہ ہوگااور یہ تمہارے لئے نیکی ہے پس تم بھی معاف کردینا کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا تمہیں بخش دے’

پس ان بیانات سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ اپنی قدرت کے با وجود دوسروں کو معاف کرنا یہی سب سے بڑی مردانگی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے اگر انتقام بھی لینا ہو تو وہ بھی خدا کے لئے ہو نا چاہیے یعنی اگر عمومی معاشرے میں عام لوگوں کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے تو ایسے میں اپنی قدرت کا استعمال ضروری ہوتا ہے تاکہ دوسروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے لیکن اس میں بھی وہ غصے سے کام نہ لیا جائے آج کا انسان اس قدرت کا محتاج ہے ایک ایسی قدرت جو اسے دوسروں کے حریم کے تجاوز کرنے سے باز رکھے دوسروں کے ساتھ قدرت اور طاقت کے باوجود بھی نرمی،رفعت اور انکساری کر ناسکھائے آج کا انسان جیسے ہی معمولی قدرت حاصل کر تا ہے ایک درندے کی طرح اپنے دوسرے بھائیوں کے حریم کا تجاوز کرتا ہے اور جو استکباری اور استعماری قدرتیں ہیں وہ عالم کاری ،اور جھانی سازی (golobalization)کا نعرہ دے کے اس جھان کے ہر فردی ،اجتماعی ،سیاسی ،ثقافتی حریم کا تجاوز کررہے ہیں کیا ایسے میں ہم کسی اچھے اور با اخلاق فرد کی امید کر سکتے ہیں نہیں نہیں! اب بھی وقت ہے کہ انسان مکتب اسلام اور نہج البلاغہ کے ممتازبہادر اور شجاعت سے لبریز حیدر کرار کے اقوال اور رفتار کو اپنا نمونہ عمل بنائے تاکہ اپنے انسانیت کے دائرے کی حفاظت کرسکے.