وَ لَهُمْ خَصَآئِصُ حَقِّ الْوِلَایَةِ؛حقِ ولایت کی خصوصیات انہی کیلئے ہیں۔

  غدیر،عید ولایت ہے جس دن (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )  کے اعلان سے دین مکمل ہوا نعمات تمام ہوئیں اور اسلام کو سندِ رضایت ملی۔

 اس (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )میں کتنے فضائل موجود ہیں علامہ میر حامد حسین موسوی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب (عبقات الانوار فی امامۃ ائمۃ الاطھار)  کی حدیث کے حصہ میں پہلی حدیث  یہی (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )نقل کی ہے عبقات الانوار میں غدیر پر ایسی مدلل بحث ہوئی  کہ علامہ امینی صاحب جنہوں نے  غدیر  کے موضوع پر  گیاراں جلدوں پر مبنی  کتاب لکھی اس میں فرماتے ہیں : میں نے غدیر لکھتے وقت عبقات الانوار کے ضمنی علوم سے بہت فائدہ اٹھایا۔

 آیت اللہ خمینی فرماتے ہیں جو حدیث غدیر کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے وہ سید بزرگوار میر حامد حسین ہندی کی عبقات الانوار کی طرف رجوع کرے ،جنہوں نے غدیر کے موضوع پر چار بڑی جلدیں تحریر کی ہیں اور  ایسی کتاب  ابھی تک نہیں لکھی گئی( کشف الاسرار ص 178)

 شیخ عباس قمی نے کتاب عبقات الانوار کے غدیر کے حصہ کا فارسی میں خلاصہ کیا فیض القدیر کے نام سے، آیۃ اللہ سید علی میلانی نے بھی پوری کتاب کا عربی میں خلاصہ کیا جو بیس جلدوں میں شائع ہوا بنام (نفحات الازهار فی خلاصه عبقات الانوار) اس حدیث پر الحمدللہ علماء نے بہت کچھ لکھا ہے اور لکھا جا رہا ہے مگر اس مختصر تحریر میں امیرالمومنینؑ کی زبان مبارک ،خاص کر نہج البلاغہ سے وہ مواد پیش کیے جاتے ہیں جہاں آپ نے اپنی ولایت کا ذکر کیا ہے۔

1(1)۔ وَ لَهُمْ خَصَآئِصُ حَقِّ الْوِلَایَةِ؛حقِ ولایت کی خصوصیات انہی کیلئے ہیں۔(نہج البلاغہ،خطبہ2)

علامہ مفتی جعفر حسین حاشیہ میں لکھتے ہیں انہی میں تمام وہ خصوصیتیں پائی جاتی ہیں جو امامت و قیادت میں ان کے حق کو فائق قرار دیتی ہیں لہذا ان کے علاوہ کسی کو اُمت کی سرپرستی و نگہبانی کا حق نہیں پہنچتا، چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کو اپنا وصی و وارث ٹھہرایا۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی  پیام امامؑ میں لکھتے ہیں کہ لَهُمْ کو پہلے لا کر یہ بات واضح کردی کے ولایت کی خصوصیات انہی میں منحصر ہیں۔

(2)۔ اِنَّ الْاَئِمَّةَ مِنْ قُرَیْشٍ غُرِسُوْا فِیْ هٰذَا الْبَطْنِ مِنْ هَاشِمٍ، لَا تَصْلُحُ عَلٰی سِوَاهُمْ، وَ لَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ مِنْ غَیْرِهِمْ؛ بلا شبہ امام قریش میں سے ہوں گے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زار سے ابھریں گے نہ امامت کسی اور کو زیب دیتی ہے اور نہ ان کے علاوہ کوئی اس کا اہل ہو سکتا ہے(نہج البلاغہ،خطبہ 142)

 اہل سنت کے مشہور عالم دین اور نہج البلاغہ کے مترجم سید رئیس احمد جعفری ندوی اس حصہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں امامت قریش کا حق ہے جس کی بنیاد ہاشم کے قبیلہ میں پیوست ہے امامت و خلافت ان کے علاوہ دوسروں کے لئے سزاوار نہیں اور نہ دوسرے ولایت کی صلاحیت رکھتے ہیں اسی لئے کہ جو خصائص لازمہ خلافت و امامت ہیں وہ صرف اہل بیتؑ ہی میں پائے جاتے ہیں دوسروں میں نہیں۔

(3)۔فَقَدْ جَعَلَ اللهُ لِیْ عَلَیْكُمْ  حَقًّا بِوِلَایَةِ اَمْرِكُمْ؛ اللہ  سبحانہ نے  مجھے تمہارے اُمور کا اختیار دے کر میرا  حق تم پر قائم کر دیا ہے ۔(نہج البلاغہ ،خطبہ 214)

یہاں امامؑ نے واضح طور پر خود کو ولی امر کہا ہے اور رئیس احمد جعفری نے یہاں سرپرست کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے۔

(4)۔ عِبَادَ اللهِ! اَرْسَلَنِیْۤ اِلَیْكُمْ وَلِیُّ اللهِ وَ خَلِیْفَتُهٗ،لِاٰخُذَ مِنْكُمْ حَقَّ اللهِ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ، فَهَلْ لِلّٰهِ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ مِنْ حَقٍّ فَتُؤَدُّوْهُ اِلٰی وَلِیِّهِ؟ اے اللہ کے بندو مجھے اللہ کے ولی اور اس کے خلیفہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے اگر تمہارے مال میں کوئی حق نکلتا ہے تو اسے وصول کرو  لہذا تمہارے مال میں اللہ کا کوئی واجب الاداء حق  ہے کہ جسے اللہ کے ولی تک پہنچاوں۔(نہج البلاغہ ،مکتوب  25)

 یہاں امام علیہ السلام نے خود کے لئے واضح الفاظ میں ولی اللہ اور خلیفۃاللہ کالفظ استعمال کیا ہے اسی انداز میں امیر المومنینؑ نے نہج البلاغہ میں چوبیس مقامات پر اپنی خلافت و امامت اور ولایت کا اعلان کیا اور خود کو ہی اسی کا حقدار قرار دیا اور امام علیہ السلام نے بار بار ولی کے لفظ کو حکمران و سرپرست کے طور پر لیا ہے جس سے (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )کے معنی بھی واضح ہو جاتے ہیں۔

مثلاً خط 62 میں  فرمایا: فَوَاللّٰهِ! مَا كَانَ یُلْقٰى فِیْ رُوْعِیْ‏ وَ لَا یَخْطُرُ بِبَالِیْ اَنَّ الْعَرَبَ، تُزْعِجُ هٰذَا الْاَمْرَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ﷺ عَنْ اَهْلِ بَیْتِهٖ، وَ لَاۤ اَنَّهُمْ مُنَحُّوْهُ عَنِّیْ مِنْۢ بَعْدِهٖ، فَمَا رَاعَنِیْۤ اِلَّا انْثِیَالُ النَّاسِ عَلٰى فُلَانٍ یُّبَایِعُوْنَهٗ؛ اس موقع پر بخدا !مجھے  یہ کبھی تصور بھی نہیں ہوا تھا اور نہ میرے دل میں یہ خیال گزرا تھا کہ پیغمبرؐ کے بعد عرب خلافت کا رخ ان کے اہل بیت ؑسے موڑ دیں گے  اور نہ یہ کہ ان کے بعد اُسے مجھ ہٹا دیں گے مگر ایک دم میرے سامنے یہ منظر آیا کہ لوگ ٖفلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے دوڑ پڑے ۔  (نہج البلاغہ ،مکتوب  62)

اہل سنت کے مشہور عالم ابن ابی الحدید معتزلی نہج البلاغہ کی شرح میں خطبہ 56 کے ضمن میں لکھتے ہیں علی علیہ السلام نے قسم کھا کر حاضرین سے پوچھا: اَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُوْلَ اللَّهِ ص يَقُوْلُ مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَه(ابن ابی الحدید،شرح نهج البلاغة ، جلد: ۴، صفحه: ۷۴)

 آپ میں سے کتنے لوگوں نے رسول اللہؐ کو یہ کہتے ہوئے سنا مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَه آگے تفصیل لکھی کہ کچھ لوگ اٹھے اور گواہی دی کہ ہم نے سنا اور پھر ابن ابی الحدید نے کچھ نام لکھے کہ انہوں نے گواہی نہ دی تو علیؑ نے ان کے لیے بددعا کی تمہیں ایسا مرض لاحق ہو جسے تیرا عمامہ بھی نہ چھپا سکے اور ایسے ہی ہوا ۔

ایک اور روایت میں ابن ابی حدید نے یہ لکھا کہ:( اَنَّ عَلِيّاً ع نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ رَسُوْلَ اللَّهِ ص يَقُوْلُ مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَه)  ایک گروہ نے گواھی دی ایک شخص کا نام لکھا کہ اس نے گواہی نہ دی تو علیؑ نے اس کے لیے اندھا ہونے کی بد دعا کی تو وہ اندھا ہو گیا ان واقعات  سے ظاہر ہوتا ہے کہ (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )کا انکار کوئی ایسا جرم ہے کہ علیؑ جیسا صابر امام بھی بد دعا کرتا ہے۔

 ابن ابی الحدید نے خطبہ  72: لَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنِّیْۤ اَحَقُّ النَّاسِ بِهَا مِنْ غَیْرِیْ، تم جانتے ہو کہ مجھے اوروں سے زیادہ خلافت کا حق پہنچتا ہے۔ کی شرح میں لکھا اصحاب شوریٰ کے ساتھ علیؑ کی گفتگو ہوئی تو آپ نے اپنے فضائل و خصائص کے طور پر بیان کئے اور  فرمایا(ثُمَّ قَالَ لَهُمْ اَنْشُدُكُمُ اللَّهَ اَ فِيْكُمْ اَحَدٌ اَخِىْ رَسُولُ اللَّهِ ص بَيْنَهُ وَ بَيْنَ نَفْسِهِ حَيْثُ اَخِىْ بَيْنَ بَعْضِ الْمُسْلِمِيْنَ وَ بَعْضٍ غَيْرِیْ فَقَالُوْا لَا فَقَالَ اَ فِيْكُمْ اَحَدٌ قَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ ص مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ غَيْرِیْ فَقَالُوْا لَا(ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغة ،جلد: ۶، صفحه: ۱۶۷)

 امامؑ نے اس گفتگو میں ان سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا میرے علاوہ آپ میں سے کوئی ہے جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ ) کہا ہو تو سب نے کہا نہیں۔ اس  میں علیؑ  قسم کھا کر فرما رہے ہیں کہ (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )میرے لئے کہا اور شوریٰ جیسے موقع پر اس فضیلت کو بیان کیا کہ ولایت و سرپرستی میرا حق ہے یہ ہے وہ (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )میں بیان ہونے والی ولایت جسے علی علیہ السلام بار بار دہرا رہے ہیں انکار کرنے والے کے لیے بد دعا کر رہے ہیں اور یہی اعلان  (فَمَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهٗ فَعَلِیٌ‏ مَوْلَاهُ‏ )تھا جس کے لیے رسول اللہؐ فرما رہے تھے جو موجود ہیں وہ غائب اور غیر حاضر تک اس ولایت کا پیغام پہنچا ئیں۔