اللَّهَ اللَّهَ فِي الْقُرْآنِ لَا يَسْبِقُكُمْ بِالْعَمَلِ بِهِ غَيْرُكُمْ (خط:۴۷)

قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ایسا نہ ہو کہ دوسرے اِس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔

نہج البلاغہ میں قرآن کے جو فضائل بیان ہوئے وہ کہیں اور نہیں ملیں گے،ایک ایک خطبہ میں چالیس چالیس فضائل اور ان میں سے ہر ایک جملے میں اتنی فصاحت و بلاغت جسے علیؑ ہی بیان کر سکتے ہیں۔

مولا علیؑ فرماتے ہیں:

قرآن ایسا چراغ ہے جس کی لَو خاموش نہیں ہوتی،ایسا دریا ہے جس کی تھاہ نہیں لگائی جا سکتی۔وہ اسلام کا سنگِ بنیاد اور اس کی اساس ہے۔اللہ نے اسے علماء کی پیاس بجھانے اور فقیہوں کے دلوں کی بہار اور نیک و صالح افراد کے گزرنے کے لیے شاہراہ بنایا ہے۔(خطبہ:۱۹۶)

ایک مقام پر امیرالمؤمنین حضرت علی ؑفرماتے ہیں:

’’قرآن کے ذریعہ سےرب سے مانگو اور اور قرآن کی محبت سے رب تک پہنچو۔ پروردگا ر تک پہنچنے کے لیے اسے دلیل ِ راہ بناؤ اور اپنے نفسوں کے لیے اس سے پند و نصیحت حاصل کرو‘‘۔ (خطبہ:۱۷۴)

امیر المؤمنینؑ اپنی آخری وصیت میں ایک تمنا رکھتے ہیں جس کا اظہار یوں فرمایا کہ ’’اس پر عمل کرنے میں آپ سے کوئی بڑھ نہ جائے‘‘

متقی کی صفات بیان کرتے ہوئے امام علیؑ فرماتے ہیں:

’’رات ہوتی ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے ہیں،جس سے اپنے دلوں میں غم و اندوہ تازہ کرتے ہیں اور اپنے مرض کا چارہ ڈھونڈھتے ہیں،جب کسی ایسی آیت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس میں جنت کی ترغیب دلائی گئی ہوتو ا س کے طمع میں ادھر جھک پڑتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل تابانہ کھنچتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ (پر کیف )منظر ان کی نظروں کے سامنے ہے اور جب کسی ایسی آیت پر ان کی نظر پڑتی ہے کہ جس میں (دوزخ سے )ڈرایا گیا ہو ،تو اس کی جانب دل کے کانوں کو جھکا دیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ و پکار ان کے کانوں کے اندر پہنچ رہی ہے‘‘(خطبہ:۱۹۱)

پروردگارا! ہمیں قرآن کی تلاوت میں اندازِ متقی کو اپنانے اور دستور العمل کی پیروی میں علیؑ کی وصیت پوری کرنے کی توفیق عطا فرما۔الہی اٰمین