حضرت امیر علیہ السلام  فرموتے ہیں   «  الْقَنَاعَةُ مَالٌ لاَ يَنْفَدُ » حکمت/ 57

قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا.

قناعت کا اسلامی مفہوم اللہ کی عطاء پر راضی رہنا ہے ، خواہ وہ مادی طور پر بہت ہی کم ہو ، اور دوسروں کے مال و متاع پر نظر نہ کرنا ہے ، خواہ وہ مادی طور پر بہت ہی زیادہ ہو ، ​

قناعت کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے,قناعت عِزت اور آزادی نفس ہے .

قناعت اپنے موصوف کو آزاد اور با عِزت بنانے والی صفت ہے ، کہ دوسرے لوگ اُس پر مسلط نہیں ہو سکتے ، وہ اس لیے کہ اسے دُنیا کے معاملات کا لالچ ہی نہیں ہوتا اور جو کچھ اسے اللہ کی طرف سے ملتا ہے اس پر راضی رہتا ہے لہذا دُنیا والے اس پر مسلط ہونے کا کوئی راستہ نہیں پاتے ، جبکہ قناعت سے عاری لوگوں کو دُنیا کا طمع گھیرے رکھتا ہے اور دُنیا والے ان کے اس لالچ کو استعمال کر کے ان لوگوں کو استعمال کرتے رہتے ہیں۔

  • عظیم سرمایہ

 «  وَ لَا كَنْزَ أَغْنَى مِنَ الْقَنَاعَةِ     »  .[i]

ترجمہ : قناعت سے زیادہ مالدار بنانےوالا کوئی خزانہ  نہیں ہے

  • فرمان قناعت

« خُذْ مِنَ الدُّنْيَا مَا أَتَاكَ وَ تَوَلَّ عَمَّا تَوَلَّى عَنْكَ فَإِنْ أَنْتَ لَمْ تَفْعَلْ فَأَجْمِلْ فِي الطَّلَبِ» ۔[ii]

جو دنیا میں حاصل ہو جائے اسے لے لو اور جو چیز تم سے منھ موڑ لے تم بھی اس  سے منھ پھیرلو اور اگر ایسا نہیں کر سکتے ہو تو طلب میں میانہ روی سے کام لو ۔

  • حیات طیّبه
    جب امام علی C سے سوال کیا گیا کہ قول خداوندی  « فَلَنُحْیِیَنَّهُ حَیاهً طَیِّبَهً» [iii]  میں حیات طیبہ سے کیا مراد ہے ؟    تو امام نے فرمایا : حَیاهً طَیِّبَهً ،هِیَ القَناعَهُ،  حیات طیبہ سے مراد قناعت ہے [iv]
  • قانع افراد کےلئے خوشخبری

حضرت کا  ایک باوفا صحابی تھا جس کا نام خبّاب تھا امام Cاس کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خبّاب قانع انسان تھا فرمایا :«  يَرْحَمُ اللَّهُ خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ فَلَقَدْ أَسْلَمَ رَاغِباً وَ هَاجَرَ طَائِعاً وَ عَاشَ مُجَاهِداً طُوبَى لِمَنْ ذَكَرَ الْمَعَادَ وَ عَمِلَ لِلْحِسَابِ وَ قَنِعَ بِالْكَفَافِ وَ رَضِيَ عَنِ اللَّهِ » ۔[v]

آپ نے خباب بن الارت کے بارے میں فرمایا کہ خدا خباب بن الارت پررحمت نازل کرے ،وہ اپنی رغبت سے اسلام لائے اپنی خوشی سے ہجرت کی اور بقدر ضرورت سامان پر اکتفاء کی اللہ اس کی مرضی سے راضی رہے اور مجاہدانہ زندگی گزاری ۔

کلام امام کی تشریح

قناعت  لغۃ و اصطلاحا:

بعض نےقناعت کا لغوی معنی یوں کیا ہے کہ حد ضرورت اور مورد نیاز وسائل پر اکتفاء کرنا ہے۔[vi]

اور بعض نے اپنے نصیب پر رضایت دینے کو قناعت کہا ہے۔[vii]  

اس کے علاوہ بعض نے لکھا ہے کہ حد اقل پراکتفاء کرنا ، کثرت و زیادت کی حرص کو جڑ سے اکھاڑنے کا نام قناعت ہے۔ [viii]

در واقع، قناعت به معنای به کمترین مقدار مورد نیاز در حد کفایت زندگی اکتفا کردن و قطع طمع از زیاده خواهی است.

علمای اخلاق نے قناعت  کی مختلف تعاریفں کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ  «قناعت؛ ایک نفسانی ملکه ہے که جس کی وجہ سے انسان مورد  نیاز مال و متاع پر راضی ہو جاتا ہے،اور زیادہ کی تحصیل میں مشقت نہیں کرتا ہے[ix]

کبھی کبھی کسی شئ کو سمجھنے کے لئے اس کی ضد کا سہارا لیا جاتا ہے « تعرف الاشیاء بأضدادها» اگر ہم قناعت کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ دیکھا پڑے گا کہ قناعت کس کے مقابل میں ہے؟

روایات کی چھان بین کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ قناعت ، اسراف، تبذیر اور حرص کے مقابل میں ہے۔ امام باقر C فرماتے ہیں : «أنزِل سَاحةَ القِناعَةِ بِاتقاءِ الحِرصِ وَ ادفَع عَظِیمَ الحِرصِ بِإیثارِ القِناعَةِ» [x]

یعنی حرص سے اجتناب کر کے قناعت کے میدان میں اترو اور قناعت کو اختیار کر کے حرص کو اپنے آپ سے دور کرو۔

حضرت امیرالمومنین Cکا ارشاد گرامی ہے کہ : « إنْتَقِمْ مِنْ حِرْصِكَ بِالقُنُوعِ ، كَما تَنْتَقِمُ مِنْ عَدُوِّكَ بِالقِصاصِ »؛ قناعت کے ذریعے اپنے حرص سے ایسا انتقام لو جیسے  قصاص کے ذریعے اپنے دشمن سے  انتقام لیتے ہو. [xi]    

آقای مفتی جعفر حسین (اعلی الله مقامه ) قناعت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ  قناعت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو جو میسر ہو اس پر خوش و خرم رہے اور کم ملنے پر کبیدہ خاطر و شاکی نہ ہو اور اگر تھوڑے پر مطمئن نہیں ہو گا تو رشوت، خیانت اور مکر و فریب ایسے محرمات اخلاقی کے ذریعہ اپنے دامن حرص کو بھرنے کی کوشش کرے گا .کیونکہ حرص کا تقاضا ہی یہ ہے جس طرح بن پڑے خواہشات کو پورا کیا جائے اور ان خواہشات کا سلسلہ کہیں پر رکنے نہیں پاتا، کیونکہ ایک خواہش کا پورا ہونا دوسری خواہش کی تمہید بن جایا کرتا ہے اور جوں جوں انسان کی خواہش کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اس کی احتیاج بڑھتی ہی جاتی ہے .اس لیے کبھی بھی محتاجی و بے اطمینانی سے نجات حاصل نہیں کر سکتا اگر اس بڑھتی ہوئی خواہش کو روکا جاسکتا ہے تو وہ صرف قناعت سے کہ جو ناگزیر ضرورتوں کے علاوہ ہر ضرورت سے مستغنی بنا دیتی ہے اور وہ لازوال سرمایہ ہے جو ہمیشہ کے لیے فارغ البال کردیتا ہے ۔ [xii]  

امام  کی نگاہ میں  قانع  افراد

۱ – انبیاء الہی

نہج البلاغہ میں کئی جگہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ امام C نے جب انبیاء الہی کی صفات بیان کیں ہیں توان میں سے ایک قناعت کوبیان کیا ہے فرمایا : «وَ لَكِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ جَعَلَ رُسُلَهُ أُولِي قُوَّةٍ فِي عَزَائِمِهِمْ وَ ضَعَفَةً فِيمَا تَرَى الْأَعْيُنُ مِنْ حَالَاتِهِمْ مَعَ قَنَاعَةٍ تَمْلَأُ الْقُلُوبَ وَ الْعُيُونَ غِنًى وَ خَصَاصَةٍ تَمْلَأُ الْأَبْصَارَ وَ الْأَسْمَاعَ أَذًى »[xiii]. پروردگار  نے اپنے مرسلین کو ارادوں کے اعتبار سے انتہائی صاحب قوت قرار دیا ہے اگرچہ دیکھنے میں حالات کے اعتبار سے بہت کمزور ہیں ان کے پاس وہ قناعت ہے جس نے لوگوں کے دلوں و نگاہ کو ان کی بے نیازی سے معمور کر دیا ہے اور وہ غربت ہےجس کی  بنا پر  لوگوں کی آنکھوں اور کانوں کو اذیت ہوتی ہے،

۲ – موت کو یاد کرنے والے

جو لوگ موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں وہ دنیا کے مال و متاع سے دل نہیں لگاتے اس لئے کہ انہیں یقین ہے کہ دنیا اور  ما فیھا فانی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ کم پر راضی رہتے ہیں ، حضرت کی نگاہ میں ایسے لوگ قانع ہیں ، فرمایا : « مَنْ أَكْثَرَ مِنْ ذِكْرِ الْمَوْتِ رَضِيَ مِنَ الدُّنْيَا بِالْيَسِير » [xiv]     ترجمہ : جو موت کو برابر یاد کرتا رہتا ہے وہ دنیا کے مختصر حصہ پر راضی ہو جاتا ہے

۳ –  متقین

 حضرت امیرCخطبه همام میں متقین اور پرهیزگاروں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  کہ متقین وہ لوگ ہیں جو طمع سے دوری  کرتے ہیں ۔ طمع ضد ” قناعت ” ہے ، بنابر این طمع سے دوری کرنے والے قانع ہوا کرتے ہیں  فرمایا :« وَ تَحَرُّجاً عَن طَمَعٍ۔» [xv] یعنی لالچ سے پرہیز کرتے ہیں

۴ – متوکلین

اللہ پر  توكّل اور اعتماد کرنے والے کبھی  بھی ثروتمندوں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ فقط اور فقط اپنے رب سے مانگتے ہیں ، لوگوں سے نہ مانگنا اور اللہ سے مانگنا قناعت کی علامت ہے لذا حضرت فرماتے ہیں :  «مَا أَحْسَنَ تَوَاضُعَ الْأَغْنِيَاءِ لِلْفُقَرَاءِ طَلَباً لِمَا عِنْدَ اللَّهِ وَ أَحْسَنُ مِنْهُ تِيهُ الْفُقَرَاءِ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ اتِّكَالًا عَلَى اللَّهِ» [xvi] 

کس قدراچھی بات ہے کہ مالدار لوگ اجر الہی کی خاطر فقیروں کے ساتھ سے پیش آئیں لیکن اس سےاچھی بات یہ ہے کہ فقراء خدا پر بھروسہ کر کے دولتمندوں کے ساتھ تمکنت سے پیش آئیں ۔   

قناعت کے فوائد

قناعت کے سایہ میں انسان کو کئی  ثمرات نصیب ہوتے ہیں ان میں کچھ کلام علوی میں بیان ہوئے ہیں ۔

  • مسرت و شادابی

امام C نے فرمایا : « وَ مَنْ رَضِيَ بِرِزْقِ اللَّهِ لَمْ يَحْزَنْ عَلَى مَا فَاتَه‏» [xvii]  

جو رزق خدا پر راضی رہتا ہے وہ کسی چیز کے ہاتھ سے نکل جانے پر رنجیدہ نہیں ہوتا ہے۔

2– مانع از فقر  

 حضرت فرماتےہیں :« وَ لَا مَالَ أَذْهَبُ لِلْفَاقَةِ مِنَ الرِّضَا بِالْقُوتِ »۔[xviii]

اور روزی پر راضی ہو  جانے سے  زیادہ فقروفاقہ کو دور کرنے والا کوئی مال نہیں ہے،      

3– آسایش

مولا فرماتے ہیں  : « وَ مَنِ اقْتَصَرَ عَلَى بُلْغَةِ الْكَفَافِ فَقَدِ انْتَظَمَ الرَّاحَةَ » ۔ [xix]

جس نے بقدر کفایت سامان پر گزارا کر لیا اس نے راحت کو حاصل کرلیا ۔

4– حفظ دین

 امام فرماتے ہیں :«  وَ مَنْ أَتَى غَنِيّاً فَتَوَاضَعَ لَهُ لِغِنَاهُ ذَهَبَ ثُلُثَا دِينِه‏ »۔ [xx]  جو کسی مالدار کے سامنے دولت کی بناء پر جھک جائے اس کا دو تہائی دین برباد ہوگیا ۔

5–  دنیا سے دوری

امام نےفرمایا : «  إِنَّ الطَّمَعَ مُورِدٌ غَيْرُ مُصْدِرٍ وَ ضَامِنٌ غَيْرُ وَفِيٍّ وَ رُبَّمَا شَرِقَ شَارِبُ الْمَاءِ قَبْلَ رِيِّهِ »۔ [xxi]

لالچ جہاں وارد کر دیتی ہے وہاں سے نکلنے نہیں دیتی ہے اور ایک ایسی ضمانت دارہے جو وفادار نہیں ہے کہ کبھی کبھی تو پانی پینے والے کو بھی سیرابی سے پہلے ہی اچھو لگ جاتا ہے۔

6 عزت

امام نےفرمایا :    « الطَّامِعُ فِي وِثَاقِ الذُّلِّ »  [xxii]     یعنی لالچی ہمیشہ ذلت کی قید میں گرفتاررہتا ہے۔
ایک دوسری جگہ فرمایا : «  أَزْرَى بِنَفْسِهِ مَنِ اسْتَشْعَرَ الطَّمَعَ وَ رَضِيَ بِالذُّلِّ مَنْ كَشَفَ عَنْ ضُرِّه‏ » ۔ [xxiii]   

جس نےطمع کو شعار بنا لیا اس نے اپنے  نفس کو رسوا کردیا اور جس نےاپنی پریشانی کا اظہار کر دیا وہ اپنی ذلت راضی ہو گیا۔

نتیجه
 حضرت نے نہ  ختم ہونے والے سرمایہ کو قناعت کے  ساتھ تعبیر کیا ہے ،گویا  جس  کے  پاس قناعت ہے اس کے پاس سب کحچھ ہے اور جس کے پاس قناعت نہیں اس کے پاس کحچھ بھی نہیں ہے  قناعت کا شمار صفات فضیلہ سے ہوتا ہے اور قناعت  کے مدمقابل یعنی حرص و طمع کا شمار صفات رذیلہ سے ہوتا ہے ۔

قناعت میں عزت اور سر بلندی ہے لیکن حرص و طمع میں ذلت اورخواری ہے قناعت میں آرامش اور آسائش ہے لیکن حرص میں ناراحتی اور ناامنی ہے لذا  جس کو زندگی میں عزت و سر بلندی ، آرامش و آسائش چاہیے اس کو قانع ہونا پڑھے گا ۔

[i] -حکمت /۳۷۱

[ii] – حکمت / ۳۹۳

[iii] -۔ نحل/97

[iv] – نهج البلاغه , حکمت229  ، مصباح الهدایه، ماده قنع

[v] – حکمت / 44

[vi] – مفردات قرآن، ماده قنع

[vii] – التحقیق ، ذیل ماده قنع

[viii] – لسان العرب، ماده قنع

[ix] – جامع السعادات ص ۵۸

[x] – البحار: 78 / 453}

[xi] – غرر الحكم ودرر الكل،  ،۸۹۸۱

[xii] – شرح نہج البلاغہ  ؛ مفتی جعفر حسین ، ،ص ۲۵۵

[xiii] – خطبه۱۹۲

[xiv] – حکمت349 { ابن‏ميثم ، ج 5 ، صفحه‏ى 702}

[xv] – نهج البلاغه ، خطبه 193. نهج بلاغه ،علامه  ذیشان حیدر جوادی ، ص 435

[xvi] – حکمت406، ابن‏ميثم، ج 5 ، صفحه‏ى 745

[xvii] – حکمت349

[xviii] – نهج البلاغه , حکمت371

[xix] – نهج البلاغه , حکمت371

[xx] – نهج البلاغه , حکمت228

[xxi] – نهج البلاغه , حکمت275

[xxii] – حکمت / ۲۲۶

[xxiii] – نهج البلاغه , حکمت2