اسلامی عبادات میں سے ایک اہم ترین عبادت روزہ ہے قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیت 183 سے 185 تک اس کی اہمیت و فلسفہ کو بیان کیا گیا ہے ۔ روزہ کوروحِ انسانی کی تربیت کا ذریعہ اور تقوی کے حصول کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ان آیات میں رازی کی عظمت کا ایک سبب نزول ِ قرآن کو بیان کیا ہے اور قرآن کا تعارف یہ کرایا گیا ہے کہ ’’وہی قرآن جو لوگوں کی ہدایت ہدایت کا سبب ہے،جو ہدایت کی نشانیاں اور واضح دلیلیں لئے ہوئے ہے اور حق وباطل کے امتیاز اور ان کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کا کا معیار رکھتا ہے‘‘۔
روزے کے کئے جہات سے گوناگوں مادی اور روحانی آثار ہیں۔جو اس کے ذریعے وجودِ انسانی میں پیدا ہوتے ہیں۔روزہ کی حالت میں آب و غذا کی دستیابی کے باوجود اس کے قریب نہ جانا اور جنسی لذات سے چشم پوشی کے ذریعہ عملی طور پر یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ انسان جانوروں کی طرح کسی چراگاہ اور گھاس پھوس کی قید میں نہیں اور سرکش نفس کی لگام اس کے قبضہ میں ہے اور ہوا و ھوس اور شہوات و خواہشات اس کے کنٹرول میں ہیں۔
روزہ انسان کی روح اور جان کی تربیت کرتا ہے۔وقتی پابندیوں کے ذریعہ انسان میں قوتِ مدافعت اور قوتِ ارادی پیدا کرتا ہے اور اسے سخت حوادث کے مقابلے میں طاقت بخشتا ہے۔چونکہ روزہ سرکش طبائع و جذبات پر کنٹرول کرتا ہے لہذا اس کے ذریعے انسان کے دل پر نور وضیاء کی بارش ہوتی ہے۔خلاصہ یہ کہ رازہ انسان کو عالمِ حیوانیت سے بلند کر کے فرشتوں کی صف میں لے جا کر کھڑا کرتا ہے۔
ماہِ شعبان کے آخری جمعہ کو پیغمبرِ اسلام ؐ نے اپنے اصحاب کو اس ماہ کے استقبال کے لئے آمادہ کرنے کی خاطر خطبہ دیا اور اس کی اہمیت اس طرح ان کے گوش گزار کی:
اے لوگو!خدا کی برکت،بخشش اور رحمت کا مہینہ تمہاری جانب آرہا ہے۔یہ مہینہ تما م مہینوں سے بہتر ہے۔اس کے دن دوسر؁ مہینوں کے دنوں سے اور اسکی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر ہیں۔اس ماہ کے لحظے اور گھڑیاں دوسرے مہینوں کے لحظوں اور گھڑیوں سے برتر ہیں۔
یہ ایسا مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا کا مہمان بننے کی دعوت دی ہے اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دیا گیا ہے جو خدا کے اکرام و احترام کے زیر نظر ہیں ۔اس میں تمہاری سانسیں تسبیح کی مانند ہیں،تمہارا سونا عبادت ہے تمہارے اعمال اور دعائیں مستجاب ہیں۔لہذا خالص نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ خدا سے دعاء کرو تاکہ وہ تمہیں روزہ رکھنے اور قرآن کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس مہینے میں خدا کی بخشش سے محروم رہ جائے۔
اس ماہ میں بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک اور پیاس یاد کرو۔اپنے فقراء اور مساکین پر احسان کرو۔اپنے بڑے بوڑھوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر مہربانی کرو۔رشتہ داری کے ناتوں کو جوڑ دو۔اپنی زبانیں گناہ سے روکے رکھو۔اپنی آنکھیں ان چیزوں کو دیکھنے سے بند رکھو جن کا دیکھنا حلال نہیں ۔اپنے کانوں کو ان چیزوں کے سننے سے روکے رکھو جن کا سننا حرام ہے اور لوگوں کے یتیموں پر شفقت و مہربانی کرو تاکہ وہ بھی تمہارے یتیموں سے یہی سلوک کریں۔
(ماخوذ از تفسیر نمونہ جلد اول)