بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکم سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے لیکن اُس نے تمہیں کان،آنکھ اور عقل عطا کی تاکہ اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔(سورہ النحل:78)

اللہ سبحانہ و تعالی درس ِ توحید اور خدا شناسی کے لئے اور اپنے بندوں کو اپنے رب سے تعلق قائم رکھنے کے لئے انہیں اپنی نعمات یاد دلاتا ہے۔نعمات کو یاد کر کے ہر ذی شعور وآزاد انسان کے اندر احساسِ شکر گذاری بیدار ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان ان سب نعمات وعنایات   خالق کے زیادہ قریب ہو جا تا ہے۔

سورہ نحل میں اللہ سبحانہ نے پچاس کے قریب نعمات کا تذکرہ کیا  اسی وجہ سے اس سورہ کو سورۂ نعم یعنی نعمات والا سورہ بھی کہا گیا ہے۔اس سورہ میں شہد کی مکھی  اور اس سے حاصل ہونے والی غذا شہد کو معنی خیز انداز  سے بیان کر کے اس حشرہ کی زندگی میں موجود توحید کی نشانیاں بیان کی ہیں۔

اپنی  گوناگوںنعمات کو گنواتے ہوئے اس آیت میں انسان کو اس کی ابتداء یاد دلاتا ہے اور فرماتا ہے ہم نے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکم سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے  مگر حقائق کے ادراک اور موجودات کی شناخت کے لئے ہم نے  آپ کو کان،آنکھ اور عقل جیسے وسائل  عطا کیے تاکہ تم ان عظیم نعمتوں کو سمجھ سکیں اور اِن کے عطا کرنے والے کے لیے تمہارے اندر احساسِ تشکر پیدا ہو۔

یہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ پیدائش کے وقت انسان کسی چیز کا علم نہیں رکھتا تھا۔پدائش کے بعد دیکھنے سے پہلے انسان سننا شروع کرتا ہے بلکہ ماں کے بطن میں بھی بعض صداؤں کو سنتا ہے پھر دکھنا شروع کرتا ہے اور ایک وقت کے بعد سننے اور دیکھنے کے بعد سوچتا اور ان چیزوں کو پہچانتا ہے۔کان اور ؤنکھ سے بیرونی دنیا کی شناخت کرتا ہے اور انہیں ذہن و فکر میں منتقل کرتا ہے اور وہ ان کا تجزیہ و تحلیل کرتا ہے اور یوں اس خالق کی ہستی کی پہچان اورشعور بیدار ہوتا ہے ۔

علم و ادراک کے ان وسائل کے ذکر کے فورا بعد ایک اور نشانی کی طرف متوجہ کاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔’’کیا انہوں نے ان پرندوں پر نظر نہیں ڈالی کہ جو فضائے آسمانی میں مسخر ہیں ۔خدا کے سواکس نے انہیں تھام رکھا ہے‘‘پرندوں کی پرواز کے ذریعہ فکر کو سوچ و تفکر کی طرف محوِ پرواز کرنا چاہا کہ سوچ ان پرندوں کو امواجِ ہوا پر سوار ہونے کے قابل کس نے بنایا؟

ان تمام نعمات کو عطا کرنے اور پھر انہیں یاد کرانے کا مقصد یہ بیان کیا ہے کہ مجھے پہچانوں اور میرا شکر ادا کرو۔ امیر المؤمنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں نعمات کے شکر کا طریقہ بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :اقل مایلزمکم للہ ان لا تستعینوا بنعمہ علی معاصیہ  (کلماتِ قصار330)۔اللہ کا کم ازکم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں  سے گناہوں میں مدد نہ لو۔

 انسان کو چاہئے کہ کانوں سے رہبرانِ الہی کی باتیں سنے  اور اپنی سماعت کے معیار کو اتنا بلند کرے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت گویا خدا کے کلام کو سن رہا ہے اور آنکھوں سےوسیع عالم میں آثارِ  الہی کو دیکھے  یہی اندازِ شکر گزاری ہے۔

امیر المؤمنین علیہ السلام خطبۃ المتقین میں مومن کے تلاوت کے انداز کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:رات ہوتی ہے تو اپنے پَیروں پر کھڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے ہیں جس سے اپنے  دلوں میں غم واندوہ تازہ کرتے ہیں اور اپنے مرض کا چارہ ڈھونڈتے ہیں۔جب کسی ایسی آیت پر اُن کی نگاہ پڑتی ہے جس میں جنت کی ترغیب دلائی گئی  ہو تو اس کی طمع میں اُدھر جھک پڑتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھنچتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ(پر کیف) منظر ان کی نظروں کے سامنے ہے  اور جب کسی ایسی آیت پر ان کی نظر پڑتی ہے کہ جس میں (دوزخ سے)ڈرایا گیا ہو تو اس کی جانب دل کے کانوں کو جھکا دیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ پُکار  اُن کے کانوں کے اندر پہنچ رہی ہے۔(نہج البلاغہ:خطبہ191)