تالیف : مولانا اخلاق حسین شیرازی صاحب

بین الاقوامی آنلاین نہج البلاغہ کانفرنس 2020

انسان کمال کا متلاشی وجود ہے کمال تک پہنچنے کیلئے تمام امکانات اسکے اختیار میں ہیں

وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۔ سورہ جاثیہ آیت نمبر 13

أ لَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ – سوره لقمان آیت نمبر 20

تاکہ مختلف پہلوؤں سے مادی ہوں یا معنوی کامیابی حاصل کرے۔ موفقیت اور کامیابی کی شیرینی چکھنے کے لئے کچھ شرائط اور عوامل لازم ہیں تاکہ بہتر طریقہ سے انسان عالی ہدف کو حاصل کر سکے۔ اس سلسلے میں نہج البلاغہ میں جناب امیر المومنین علیہ السلام کی راہنمائی موجود ہے۔شرائط درجہ ذیل ہیں

(1) توفیق الھی :

ہر انسان کاموں کی انجام دہی کیلئے رب العالمین کی نظر عنایت اور توفیق الھی کا محتاج ہے توفیق الھی کے بغیر کوشش بے کار ہے – قال امیر المومنین ع : لَا يَنْفَعُ اجتِهادٌ بغَيرِ تَوفيقٍ . غرر الحکم۔

دوسری طرف سے ہر انسان کو اپنے اہداف تک پہنچنے کیلئے راہنما کی ضرورت ہے – قال امیرالمومنین ع : لا قائِدَ خَيْرٌ مِنَ التَّوْفيقِ. توفیق سے بہتر کوئی قائد و رہبر نہیں ہے –

سفراءالھی ، نما ئندگانِ حق ، انبیاء کرام بھی خود کو توفیق الھی سے بے نیاز نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت شعیب  ؑ کا قول ہے قرآن میں؛ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ.

( 2): دینداری و تقویٰ :

قال علی علیہ السلام : اِنَّ تَقْوَى اللّهِ مِفْتَاحُ سَدَاد، وَ ذَخِیرَةُ مَعَاد، وَ عِتْقٌ مِنْ کُلِّ مَلَکَة، وَ نَجَاةٌ مِنْ کُلِّ هَلَکَة. بِهَا یَنْجَحُ الطَّالِبُ، وَ یَنْجُو الْهَارِبُ، وَ تُنَالُ الرَّغائِبُ. خطبہ227 ۔ ترجمہ مفتی جعفر حسین

بے شک اللہ کا خوف ہدایت کی کلید ہے اور آخرت کا ذخیرہ ، ہر گرفتاری سے آزادی اور ہر تباہی سے نجات کا ذریعہ ؛ اس کے ذریعے طلب گار منزل مقصود تک پہنچتا ہے اور سختیوں سے بھاگنے والا نجات پاتا ہے اور مطلوبہ چیزوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔مولا امیر المومنین (ع )کی دعا ہے۔ و نَسْاَلُهُ المُعَافَاةَ فِی الْاَدْيَانِ ،  كَمَا نَسْاَلُهُ المُعَافَاةَ فِی الْاَبْدَانِ .

ہم اس (کریم رب) سے دین کی سلامتی کا سوال اسی طرح کرتے ہیں جس طرح بدن کی سلامتی کی دعا کرتےہیں۔

(3): استفادہ از فرصت :

ہر انسان کی زندگی میں فرصت کے کچھ لمحات آتے ہیں ، جنہیں جہالت اور لا علمی کی وجہ سے وہ ضائع کر بیٹھتا ہے ، اور ان سے استفادہ نہیں کرپاتا ۔

قال علی علیہ السلام:

اِغتَنِمُوْا فرص الخَیْرِ فَاِنَّها تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ۔

فرصت کے لمحات کو غنیمت سمجھو بادلوں کی طرح آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں

 ضرب المثل مشھور ہے ؛ فیِ التاخیر آفات؛

 تاخیر میں آفتیں ہیں

مولا امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:

كُلُّ مُعَاجَلٍ يَسْأَلُ الْإِنْظَارَ وَ كُلُّ مُؤَجَّلٍ يَتَعَلَّلُ بِالتَّسْوِيفِ۔ حکمت 285

جسے جلدی موت آتی ہے وہ مہلت کا خواہاں اور طلب گار ہے اور جس کو مہلت دی گئی ہے وہ ٹال مٹول اور کوتاہی کرتا  ہے پس جو شخص کامیاب  زندگی چاہتا ہے اس کو چاہیۓ کہ ایک تیز بین اور زبردست شکاری کی طرح فرصت کے لمحے لمحے کو شکار کرے۔

قال علی علیہ السلام:

فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُ مِنْكُمْ فِیْۤ اَیَّامِ مَهَلِهٖ، قَبْلَ اِرْهَاقِ اَجَلِهٖ، ۔ خطبہ84 مفتی جعفر حسین

قبل اس کے کہ موت آ جائے عمل کرنے والے کو چاھیۓ ایام مہلت میں عمل کرے۔واقعا اگر انسان فرصت سے فائدہ اٹھائے تو ایک عمر بلکہ زندگی بھر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ شیخ سعدی نے کہا تھا؛

سعدیا دی رفت، فردا همچنان موجود نیست

در میان این و آن ، فرصت شمار امروز را

قال امیر المومنین (ع) :

وَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ، عُمُراً نَاكِساً، أَوْ مَرَضاً حَابِساً، أَوْ مَوْتاً خَالِساً.

نیک اعمال کی طرف جلدی سے آؤ قبل اس کے تمھاری زندگی ختم ہو جائے یا بیماری مانع ہو جائے یا تیر مرگ تمھیں اپنا ہدف بنا لے۔

(4): صلہ رحمی:

امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: کہ عزیز و اقارب ،رشتے دار ، پروں کی مانند ہیں جن کے ذریعے انسان پرواز کر کے عالی اہداف  تک پہنچتا ہے قطع تعلقی اور قطع رحمی کی صورت میں معین اہداف تک پہنچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

قال علی علیہ السلام:

«أَكْرِمْ عَشِيرَتَكَ فَإِنَّهُمْ جَنَاحُكَ الَّذِي بِهِ تَطِيرُ وَأَصْلُكَ الَّذِي إِلَيْهِ تَصِيرُ وَيَدُكَ الَّتِي بِهَا تَصُولُ۔

اپنے خاندان والوں اور رشتہ داروں کی عزت کرو اس لئے کہ وہ تمھارے پروبال ہیں جن کے ذریعے تم پرواز کرتے ہووہ تمہاری جڑ اور بنیاد ہیں جن کے ذریعےتم پھلتے پھولتے ہو اور وہ تمھارے ہاتھ اور تمہاری طاقت ہیں جن کے ذریعے تم حملہ کرتے ہو۔

اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّهٗ لَا یَسْتَغْنِی الرَّجُلُ وَ اِنْ كَانَ ذَا مَالٍ عَنْ عَشِیْرَتِهٖ، وَ دِفَاعِهِمْ عَنْهُ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَلْسِنَتِهِمْ، وَ هُمْ اَعْظَمُ النَّاسِ حِیْطَةً مِّنْ وَّرَآئِهٖ وَ اَلَمُّهُمْ لِشَعَثِهٖ، وَ اَعْطَفُهُمْ عَلَیْهِ عِنْدَ نَازِلَةٍ اِذَا نَزَلَتْ بِهٖ. ؛   (خطبہ 23 )

(5):تلاش و کوشش  :

 مشکلات کے مقابلہ کے لئے پختہ اور آھنی ارادہ چاہیے تاکہ اپنی خفتہ صلاحیتوں سے بہترین فائدہ اٹھائے۔

 قال امیرامومنین ع : فعلیکم بالجدّ۔

 تمہارے لیۓ کوشش ضروری ہے

و قال علی علیہ السلام : لا یدرک الحق الا بالجد؛

حق تلاش اور کوشش کے بغیر نہیں ملتا ۔

امام مجتبیؑ کو وصیت فرمائی؛ فاسع فی کدحک؛

اپنی زندگی میں انتہائی کوشش جاری رکھو ،

من جدَّ وجد ، جویندہ یابندہ ،

قال علی علیہ السلام: من طلب شیئا نالہ او بعضہ۔

جو انسان کسی چیز کے لئے کوشش کرتا ہے ساری نہیں تو کچھ تو پا لیتا ہے

مولا امیر المومنین (ع) نے بندوں کے لئے چیونٹی کی مثال بیان کی ہے

قال علی علیہ السلام:

انظروا الی النملة فی صغر جثتها. . . کیف دبت علی ارضها وصبت علی رزقها تنقل الحبة الی حجرها وتعدها فی مستقرها، تجمع فی حرها لبردها وفی وردها لصدرها؛

ذرا اس چیونٹی کی طرف تو دیکھو مختصر جسم ۔۔۔ کیونکر زمین پر رینگتی پھرتی ہے اور اپنے رزق کی طرف لپکتی ہے اور دانے کو اپنے بل کی طرف لے جاتی ہے اسے اپنے قیام گاہ میں مہیا رکھتی ہے۔ گرمیوں میں سردیوں کے لیۓ جمع کرتی ہے

امام مجتبی (ع) سے فرمایا:

 و جاھدفی اللہ حق جھادہ ولا تأخذك فی اللہ لومة لائم۔

راہ خدا میں اپنی مقدور بھر کوشش کرو ملامت کرنے والوں کی ملامت تمھیں راہ خدا میں کوشش سے نہ روکے۔

(6):تجربات سے فائدہ اٹھانا:

قال علی علیہ السلام: و كُلُّ مَعونةٍ تَحتاجُ إلى التَّجارِبِ .

ہر مشکل معاملہ میں تجربہ کی مدد چاھیے

قال امیرالمومنین علیہ السلام:

مَن غَنِيَ عَنِ التَّجارِبِ عَمِيَ عنِ العَواقِبِ.

جو شخص خود کو تجربات سے بے نیاز سمجھتا ہے وہ نتائج اور عواقب سے اندھا ہوتا ہے ۔

قال علی علیہ السلام:

فَإِنَّ اَلشَّقِيَّ مَنْ حُرِمَ نَفْعَ مَا أُوتِيَ مِنَ اَلْعَقْلِ وَ اَلتَّجْرِبَةِ۔

شقی وہ ہے جو عقل اور تجربہ کے ثمرات سے بہرہ مند نہیں ہوتا.

(7):مشورہ:

صاحبان عقل و شعور، صاحبان علم و ہنر اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے ۔

قال علی علیہ السلام:

وَ لَا ظَهِيرَ كَالْمُشَاوَرَةِ. حکمت 54

مشورہ جیسا کوئی مدد گار اور پشت پناہ نہیں ہے

قال علی علیہ السلام:

منِ اسْتَبَدَّ بِرَأْيِهِ هَلَكَ، وَ مَنْ شَاوَرَ الرِّجَالَ شَارَكَهَا فِي عُقُولِهَا.

جس نے اپنی رائے کو ہی حتماً  صحیح سمجھا وہ ہلاک ہو گیا اور جس نے لوگوں کے ساتھ مشورہ کیا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو گیا۔

8): تعیین ہدف و مقصد:

سعادت مندانہ اور کامیاب زندگی کے لئے ہدف کی تعیین ضروری ہے تاکہ سرگردان نہ رہے ۔ تمام مخلوقات چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ایک مقصد کے لئے خلق ہوئی ہیں

 قال امیرالمومنین علیہ السلام : فَمَا خُلِقَ امْرُؤٌ عَبَثاً 

 کوئی بھی بدون ہدف ، عبث خلق نہیں ہوا

  پھر اس مختصر زندگی میں تمام اہداف کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا سب سے اہم اور قابل ارزش ہدف کو منتخب کرے اور اس کے حصول کی کوشش کرے۔

  قال علی علیہ السلام :

  مَنْ أَوْمَأَ إِلَى مُتَفَاوِتٍ خَذَلَتْهُ الْحِیَل۔ حکمت ۴۰۲

   جو مختلف چیزوں کا طلب گار رہتا ہے اس کی ساریں تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں اسی لیۓ کہتے ہیں طَلَبُ الکُلِّ فَوتُ الکُلِّ ۔  قال علی علیہ السلام:

   مَنِ اشْتَغَلَ بِغَيْرِ الْمُهِمِّ ضَيَّعَ الْأَهَمَّ :غررالحکم ۔

   جو غیر اہم کام میں مشغول ہوگا وہ مھم مسائل کو بھی ضائع کر دے گا

   قال الاما م علی (ع) :

   اِنَّ رَأيَكَ لا يَتَّسِعُ لِكُلِّ شَئٍ فَفَرِّغْهُ لِلْمُهِمَّ .

   تمھاری فکر اتنی وسعت نہیں رکھتی کہ تمام امور کا احاطہ کر لے لہذا اپنی فکر کو اہم امور کے لئے فارغ رکھو۔

(9):بلند ہمت اور قوی ارادہ:

ان دو چیزوں سے انسان اپنی بہت ساری روحانی جسمانی مشکلات کا معالجہ کر سکتا ہے اور یہ دونوں چیزیں مومن کی صفات سے ہیں

قال علی علیہ السلام: بَعِيدٌ هَمُّهُ ؛ مومن بلند ہمت ہوتا ہے۔ حکمت 47

قال علی علیہ السلام: قَدْرُ الرَّجُلِ عَلَی قَدْرِ هِمَّتِهِ

 مومن کی قدر و منزلت اس کی ہمت کے مطابق ہے

 قال علی علیہ السلام:

 فَشُدُّوا عُقَدَ الْمَآزِرِ ، وَاطْوُوا فُضُولَ الْخَوَاصِرِ ، لَا تَجْتَمِعُ عَزِيمَةٌ وَوَلِيمَةٌ ۔ آخری خطبہ نہج البلاغہ ۔

کمریں مضبوطی سے کس لو دامن سمیٹ لو کمربند کس لو اس لیۓ کہ بلند ہمتی اور دعوتوں کی خواہش ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔

10): اچھا دوست:

انسان ایک ایسا موجود ہے جو دوسروں کا محتاج ہے انسان کی زندگی میں دوست بڑی اہمیت رکھتا ہے دوست کی اہمیت کا اندازہ مولا علی علیہ السلام کے ایک فرمان سے لگایا جا سکتا ہے

قال علی (ع ) : «فَإِنَّ الصَّاحِبَ مُعْتَبَرٌ بِصَاحِبِهِ»

حارث ہمدانی کے نام خط میں لکھا ،  آدمی کا اس کے ساتھی پر قیاس کیا جاتا ہے

قال امیر المومنین (ع):

أَعْجَزُ النّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ اکْتِسَابِ الْإِخْوانِ، وَأَعْجَزُ مِنْهُ مَنْ ضَیَّعَ مَنْ ظَفِرَ بِهِ مِنْهُمْ ۔ حکمت ۱۲۔

عاجز ترین انسان وہ ہے جو بھائی نہ بنا سکے اور اس سے بھی زیادہ عاجز وہ ہے جو بھائی بنا کے ضائع کر دے۔

(11): نظم و ضبط:

قال علی علیہ السلام: أُوصِیکُم بِتَقْوَى اللَّهِ وَ نَظْمِ‏ أَمْرِکُمْ

میں تمہیں تقویٰ الٰھی اور تمام معاملات میں نظم و ضبط کی وصیت کرتا ہوں

‏ قال علی علیہ السلام:

لِلْمُؤْمِنِ ثَلاَثُ سَاعَات:

فَسَاعَةٌ يُنَاجِي فِيهَا رَبَّهُ، وَسَاعَةٌ يَرُمُّ (1) ـ مَعَاشَهُ، وَسَاعَةٌ يُخَلِّي بَيْنَ نَفْسِهِ وَبَيْنَ لَذَّتِهَا فِيَما يَحِلُّ وَيَجْمُلُ.

مومن کے اوقات تین ساعتوں پر منقسم ہوتے ہیں 1۔جس وقت اپنے پروردگار سے فاز و نیاز کرتا ہے

2۔ اپنے معاش کا سرو سامان کرتا ہے

3۔ جس میں حلال و پاکیزہ لذتوں میں اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔