کتاب الکافی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ سبحانہ و تعالی نے انسانیت کی ہدایت کے لئے انبیاء و اوصیاءکو خلق کیا اور انہیں خود تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔کبھی جناب آدم علیہ السلام کے لئے ارشاد فرمایا:’’و علم الادم الاسماءکلھا‘‘پھر علمِ اسماء سب کا سب آدم کو سکھایا۔(بقرہ:31) ۔جناب خضر علیہ السلام کے لئے فرمایا:’’ وعلمناہ من لدنا علما‘‘ اور جسے ہم نے اپنی طرف سے بہت سا علم دیا تھا۔(الکھف 65)جناب عیسیٰ علیہ السلام کو خطاب فرمایا:’’و اذ علمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل‘‘اور جب میں نے آپ کو کتاب و حکمت اور توراۃ و انجیل کی تعلیم دی۔(المائدہ:110) پیغمبر اکرم ﷺ کے لئے فرمایا:’’وعلمک مالم تکن تعلم‘‘اوور تمہیں اس چیز کی تعلیم دی جو تم نہیں جانتے تھے۔(النساء:113)
اپنے پیاروں کے لئے اعلان فرماتا رہا کہ میں نے انہیں سکھایا اور پڑھایا ہے اور اپنے بندوں کو حکم دیتا رہا کہ آپ ان سے سیکھو۔’’فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘اگر تم نہیں جانتے تو باخبر لوگوں سے پوچھ لو۔(النحل:43) اور اس کریم اللہ کے صاحب کمال وکرامت بندے بھی اعلان کرتے رہے’’فاسئلونی قبل ان تفقدونی‘‘ جو چاہو مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ مجھے نہ پاؤ۔( نھج البلاغہ:خطبہ91)
یہ معصوم ہادیوں کا سلسلہ چلتا رہا تو وہ ہدایت کے سبق دیتے رہے اور جب ان کی آخری فرد خاتم الاوصیاء امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف پردۂ غیبت میں گئے تو یہ فریضہ علماء کے سپرد ہوا۔امام عصر علیہ السلام کی غیبت ِ صغریٰ میں جہاں ان کے چار نوّاب خاص چراغِ ہدایت بن کر راہنمائی فرما رہے تھے وہیں ایک ذاتِ باکمال ان معصومین کے فرامین کو جمع کرنے میں اپنی زندگی کے بیس سال خرچ کر کے الکافی کے نام سے کتاب ترتیب دے رہی تھی۔

ثقۃ الاسلام شیخ محمد بن یعقوب کلینی ؒ

آپ تہران کے قریب واقع شہرِ ری سے پانچ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع گاؤں کُلین میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم حاصل کی اور شیعوں کے ایک بزرگ عالم کے عنوان سے شہرت پائی۔ ایک مدت بعد وہاں سے ہجرت کر کے بغداد پہنچے اور وہاں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔آپ کا ولادت کا سال معلوم نہیں ہو سکا البتہ آپ کی وفات 329 ہجری کو ہوئی اور اسی سال امام عصر علیہ السلام کی غیبتِ کبریٰ شروع ہوئی۔
شیخ کلینی ؒ نے کس اخلاص اور مودت سے معصومین کے فرامین کو جمع کیا یہ ان کی کتاب کی مقبولیت سے واضح ہے۔علامہ محمد تقی مجلسی فرماتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ شیعہ علماء میں شیخ کلینی جیسا کوئی عالم نہیں آیا اور جو کوئی ان کی جمع کی ہوئی احادیث اور ان کی کتاب کی ترتیب میں غور کرتا ہے اس کے لئے واضح ہو جاتا ہے کہ انہیں خداوند تبارک وتعالی کی تائید حاصل تھی۔

کتاب الکافی کیوں لکھی؟

مرحوم کلینیؒ کی تحیر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی شیعہ نے آپ کو خط لکھا یا پیغام دیا کہ لوگ علم ودانش کو چھوڑ کر جہالت و نادانی میں غرق ہو رہے ہیں ۔خود کو مسلمان کہلواتے ہیں اور اسلام کے اصولوں سے بے خبر ہیں اپنے بزرگوں کی رسموں اور تقلید کو دین سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تمام مطالب میں اپنے عقل سے استفادہ کرتے ہیں۔آیا یہ طریقہ و روش صحیح ہے اور لوگ اس کو جاری رکھ سکتے ہیں؟
شیخ نے آیات وروایات کے ذریعہ ثابت کیا کہ اللہ سبحانہ نے انسان پر احسان کیا اور اسے عقل اور ہوش و استعداد عنایت فرمایا۔انبیاء اور اپنے نمائندگان کو انسان کی ہدایت کے لئے بھیجا اور آسمانی کتب نازل فرمائیں۔اللہ نے امر و نہی سے انسان کو آگاہ کیا اور اسی پر اسے ثواب و عقاب کا مستحق ٹھہرایا۔اب اللہ سبحانہ اسے ثواب واجر دیتا ہے جو اللہ کے معین کئے ہوئے اوامر کو اس کے حکم کے مطابق انجام دیتا ہے۔
ان احکام و مقررات کو فقط اپنے بھیجے ہوئے انبیاء اور اپنی مقرر کی ہوئی حجت خدا کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا اور اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ان احکام کو یقین و بصیرت کی بنا پر انجام دو نہ کہ گمان و تقلید کی بنا پر۔اس لئے آپ نے لوگوں کےجس انداز ِ عمل کے بارے سوال کیا ہے وہ خدا کا پسندیدہ نہیں ہے۔
شیخ کلینیؒ اس مومن کے جواب میں فرماتے ہیں آپ نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ ایک ایسی کتاب لکھوں جو ان دینی علوم پر مبنی ہو جو امام باقرؑ و امام صادقؑ کے فرامین اور ان کی سنت کے مطابق ہو جس پر عمل کیا جا سکے۔خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ایسی کتاب کی تالیف و تدوین کے وسائل اس نےمہیا فرمائے اور آپ نے جو تقاضا کیا تھا امید ہے یہ کتاب اس کے مطابق ہو گی۔دینی برادارن کی نصیحت و خیر خواہی ہمارے لئے لازمی ہے اور امید ہے کہ اب سے قیامت تک جو اس کتاب سے استفادہ کرے گا ہم بھی اس سکا اجر و ثواب پائیں گے۔

الکافی بزگان کی نظر میں

ہر دور میں بزرگ علماء کافی کو سراہتے رہے :
شیخ مفید ؒ فرماتے ہیں کافی شیعہ کتابوںمیں جلیل ترین اور مفید ترین کتا ب ہے۔
شہید محمد بن مکی فرماتے ہیں :کافی جیسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔
محقق کرکی ؒ فرماتے ہیں :کافی کی کوئی مثال نہیں اس کتاب میں ایسے دینے اسرار جمع کئے گئے ہیں جو کسی اور کتاب میں نہیں ملتے
کافی کو مرحوم کلینیؒ نے تین حصوں میں تقسیم کیا۔
اصول الکافی:اس میں عقائد کی ابحاث بیان کی گئی ہیں اور اس میں آٹھ باب بنائے گئے ہیں
فروع الکافی:اس حصہ میں فقہی احادیث بیان ہوئی ہیں اور اس کو 26 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔کافی کا یہ حصہ سب سے مفصل ہے روضۃ الکافی۔اس میں متفرق قسم کی احادیث بیان کی گئی ہیں اور کوئی خاص ترتیب نہیں ہے
کافی میں 16199 روایت نقل کی گئی ہیں بعض محققین نے دقت سے روایات کو گننے کے بعد کہا ہے کہ کل روایات کی تعداد 15176 ہے۔
کافی کے بارے میں درجنوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور چار مشہور شروح کو علماء اہمیت دیتے ہیں
شرح صدر المتالہین،ملا صدرا شیرازی
کتاب الوافی تألیف ملا فیض کاشانی ۔یہ ملا صدرا کے شاگرد ہیں۔
کتاب مر آۃ العقول تألیف علامہ مجلسیؒ
شرح ملا صالح مازندرانی
(مقالہ مأخوذ از سید جواد مصطفوی: مقدمہ ترجمہ کافی)