شیعتی ما ان شربتم

کربلا کا پیاسا

مرکز افکار اسلامی

پوسٹ بکس ۶۲۱ راولپنڈی

تعاون:جامعہ جعفریہ جنڈ ضلع اٹک

میدانِ کربلا کو اپنا لہو پلا کر   دنیا میں حریت کا مرکز بنا رہے ہیں

اللھ سبحانہ تعالی نے  قرآن مجید میں اپنے پیاروں کے غم اور دکھ بیان کئے اور حکم دیا کہ آپ بھی ان کا ذکر کرتے رہا کریں۔کبھی یوسف کے دکھوں کا بیان اور پورا سورہ اسی نام سے مخصوص کر دیا اور یوسف کے کنوے میں جانے سے تخت نشین ہونے تک کو بیان فرماتا ہے اور ابتدا میں اسے احسن القصص قرار دیا۔

ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ جب اپنے خلیل کی بات آتی ہے تو فرماتا ہے اب اسے یاد بھی کروں اور عملا بھی اسے بجا لاؤ۔الہی کیسے یاد کریں ۔فرماتا ہے یہ دیکھو صفا اور مروہ میری نشانیا ہیں ۔الہی کیا ہوا اب تفصیل کی تلاش میں مفسرین نکلے تو پتہ چلا کہ اللہ کے خلیل نے اللہ ہی کے حکم سے اللہ کے گھر  کے پاس اپنا مختصر سا خاندان ،ایک بیٹا اور زوجہ اللہ کے بھروسہ پر چھوڑے ۔ان کے پاس کھانا پانی ختم ہوا تو ماں نے مامتا کی عظمت بتائی اور صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں چکر لگانے شروع کئے۔ادھر ماں سعی کرتی رہی ادھر بیٹے کی پیاس بڑھتی رہی اور بیٹا قریب المرگ ہو گیا تو اب رب نے اسماعیل کے پاؤں کے قریب پانی کا چشمہ جاری کر دیا اور ماں جو قریب آئی اور پانی کو کہا زمزم تو آج تک وہ لفظ اور یاد باقی ہے ۔صفا و مروہ کی عبادت اور زمزم کے متبرک پانی سے جو چیز سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ ہے پیاس۔

اس پیاس کو یاد بھی کرو اور اس تلاش کی شبیہ بھی بناؤ۔

اسی زمین بے آباد کو اس پانی نے سیراب کیا اور مکہ ہدایت انسانی کا مرکز بن گیا اور انہی پہاڑیوں پر کھڑے ہو کر  نسل ابراھیم  سے ایک ہستی محبوب خدا محمد مصطفیٰ نے لا الہ کی صدا بلند کی۔

زمانہ بدلتا رہا اور اسی نبی کے نواسے نے ۶۰ ہجری میں اسی مرکز میں آ کر پناہ لی مگر حالات ایسے بنا دئے گئے کہ اسے اس وقت یہ مرکز چھوڑنا پڑا جب سارے لوگ حج کے لئے یہاں آ رہے تھے۔جس نبی نے یہاں سے توحید کی صدا بلند کی تھی اس کے نوسے نے سات ذولحجہ کو اعلان کیا کہ ’’جس نے رب سے ملاقات کا پختہ ارادہ کر لیا ہے وہ میرا ہم سفر ہو جائے میں کل جا رہا ہوں‘‘۔

فرزند رسول ،حسین ابن علیؑ ! یہ مکہ چھوڑ کر کہاں کا ارادہ ہے فرمایا  مکہ کی حفاظت کا ایک محکم مرکز کربلا بسانے۔جہاں مکہ کی ہر قربانی کا تذکرہ ہو گا اور جس قربانی کا ہمارے جد ابراہیم نے ارادہ کیا تھا اور جس کے لئے اسماعیل تیار ہو گئے تھے ان ساری قربانیوں کو عملاً  انجام دوں گا۔

ہاں ایک یاد بیت اللہ کی اور بھی قائم کروں گا کہ یہاں تو ماں بیٹا تلاش و سعی کے بعد سیراب ہو گئے مگر میں پیاس کی انتہا کو پہنچ کر بھی اس قربانی اور اس قربانی کی یاد زندہ کروں گا۔

علامہ اقبال نے اس سارے واقعہ کو یوں ایک شعر میں سمیٹ دیا ہے۔

سر ابراہیم  و اسماعیل بود

یعنی آن اجمال را تفسیر بود

پیاسوں کی اس سر زمین کا نام کربلا بنا اور پیاس ان کی پہچان بن گئی۔

جناب اسماعیل کی پیاس کی یاد زمزم بنی مگر جو کربلا میں پیسا مارا گیا اس کی پیاس کی یاد آخرت کی نجات بن گئی۔امام جعفر صادق ؑ سے  داود رِقّی نقل کرتے ہیں کہ ’’میں امام ؑ کی خدمت میں موجود تھا میں نے دیکھا کہ امامؑ نے پانی پیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہنے لگے۔پھر خود فرمایا ،داود خدا حسین ؑ کے قاتل پر لعنت کرے۔کوئی شخص جب پانی پئے اور امام حسینؑ کو یاد کرے اور آپ کے قاتل پر لعنت کرے تو اللہ اس کے لئے ہزار نیکیاں درج فرماتا ہے،ہزار گناہ معاف کرتا ہے،ہزار درجے بڑھاتا ہے ۔گویا اس شخص نے ہزار غلام آزاد کئے۔خدا قیامت کے دن اسے محشر میں یوں داخل کرے گا کہ اس کا دل ٹھنڈا ہو گا‘‘۔(کامل الزیارت)

جب بھی پانی پیو اُس پیاسے کو یاد کرو۔اس پیاسے نے خود بھی یہ پیغام دیا ’’اے میرے شیعو! جب کبھی میٹھا پانی پینا تو مجھ حسین کو یاد کرنا‘‘(مستدرک الوسائل جلد ۱۷)

اس پیاسے کی پیاس میں ایک پیغام ہے اور اس  کی  وہ پیاس آج بھی باقی ہے۔اس کی فوج میں کون کون پیسا تھا اور کب تک پیاسا تھا یہ مفصل موضوع ہے مگر اتنا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اصغر کی پیاسی شہادت کے بعد اسے فرات کے اس پانی کی پیاس نہیں تھی اور شاید جناب عباس نے فرات سے چلو بھر کر  فرات کے منہ پر دے مارا تھا کہ ہماری پیاس یہ نہیں ہماری پیاس  ہمارا وہ مقصد اور مشن ہے جس کے لئے ہم یہاں آئے ہیں ۔

آج وہ پیاس شعراءکے کلام کا ایک استعارہ ہے اور  امام کے مشن کی ایک تبلیغ ہے۔

مولانا محمد علی جوہر نے خوب کہا

’’خود خضر کو شبیر کی اس تشنہ لبی سے

معلوم ہوا آب بقا اور ہی کچھ ہے‘‘

ایک اور شاعر کہتا ہے’’

یہ تشنگی ہے آبِ بقا دین کے لئے‘‘

خود پیاسے رہے مگر اسلام کی  کھیتی کو خشکی اور پیاس سے بچا لیا اور اسے اپنے خون سے سیراب کر دیا۔

سید اولاد اصغر ماہلی نے لکھا

’’اے ساحل فرات کے تشنہ دہن شہید

پھوٹے ہیں تعری موت سے چشمے حیات کے‘‘

امام عالی مقام کے عظیم عزاداروں کے لئے تو ہماری سبیلیں لگتی ہیں اور ان میں اور اضافہ ہونا چاہئے  ساتھ ہی اس مظلوم کی صدائے العطش  پر لبیک کہنا ضروری ہے۔اس پیاس کو  سب سے زیادہ جناب امام زین العابدین اورجناب زینب     نے محسوس کیا اس لئے تو قبر امام پر چوتھے امام نے انگلی سے لکھا تھا ’’یہ اس مظلوم کی قبر ہے جو پیاسا مارا گیا مگر نصب العین کی پیاس دربار ابن زیاد و یزید میں پیغام دے کر بجھائی۔

ھماری مجالس عزا

مجلس شیعیت کی حفاظت  کا قلعہ اور تبلیغِ حسینیت کا منبع ہے۔مقصدِ   امامؑ کی تشہیر کا ذریعہ اور اھل بیت ؑ سے ربط و تعلق  کا وسیلہ ہے۔مجلس اسلام کی بقا کی ضامن   ہے۔آیت اللہ العظمی آقای خمینی نے فرمایا تھا’’ عزاداری ہمارے مذھب کی بنیاد اور غم حسین میں رونا ہمارے مذھب کی علامت ہے۔‘‘

عزاداری عزت،شرافت،غیرت،عفت،تقوی اور جہاد و شہادت کا مدرسہ ہے۔یہ مجالس عزاداری اس لئے منعقد کی جاتی ہیں تاکہ درس ِ حسینی عام ہو اور  اسوہ  حسینی کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔

اس پیاس کو جن مجالس میں یاد کیا جا تا ہے اس  مجلس کے تین مہم رکن اس امام کی پیاس بجھانے کا اہتمام کرتےہیں

بانیان مجلس

مجلس  امام حسین ؑکا بانی   ہونا ایک  عظیم سعادت ہے۔بانی روح  و رونق ِ مجلس ہوتے ہیں۔ے یہ سنت الہی و سنت نبوی ہے اور کربلا کے بعد اسے جناب زینب و امام زین العابدین نے قائم کیا۔بانیان کا ھدف قرب خدا ہونا چاہئے ۔خدا نہ کرے بانی کا ہدف نام و نمائش ہو۔ مجمع بڑھانا مقصود ہو۔آج زیادہ اخراجات امام  ؑ کے پیغام کے بجائے اپنے نام پر خرچ کئے جاتے ہیں۔دکھلاوے اور مقابلے پر خرچ کئے جاتے ہیں۔

خطیب و ذاکر

ذکر امام ؑ کی اس عبادت کو انجام دینے والوں کا معصوم امام استقبال کیا کرتے تھے اور اپنی مسند پر بٹھاتے تھے۔ آج   منبروں سے امام  سے زیادہ بانیان کی تعریف میں  وقت گزرتا ہے اور واہ واہ کی حرص و ہوس اور مزید مال کی طلب اور سودا بازی سے اس مقدس مقام کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

خطبا و ذاکرین کو قوم کی تربیت اپنے جوانوں کی دنیوی و اخروی ،مالی اور معاشی بہتری کے اصول اھل بیت کی زبانی بیان کرنے چاہیں۔

معاشرے کی بیماریاں اور ان کا علاج بیان کیا جائے۔مطالعہ میں وسعت پیدا کریں ۔اللہ کے ہاں اپنے آپ کو جوبدہ سمجھیں۔ فضائل اھل بیت کے ساتھ ایسی آیات  و روایات اھل بیت بیان کریں جنہیں سامعین اپنی زندگیوں میں اپنا سکیں۔

سامعین: امام محمد باقر ؑ فرماتے ہیں ہمارا شیعہ وہ ہے جو ہمارے مشن کو زندہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کی زیارت کرتا ہے۔ ہماری مجالس  کےسامعین کا ہدف  اھل بیت کی محبت کا حصول ہونا چاہئے ۔نیت خالص ہو۔کچھ سیکھنے کی طلب ہو۔اپنا علمی و اخلاقی  معیار بڑھانا مقصود ہو۔ نصیحت کو قبول کریں اور غلطیوں کی اصلاح کریں  گناہوں کو سامنے رکھ کر امام کو وسیلہ بنا کر توبہ کریں۔

پیاسے کا پیغام

قربان گاہ حق و  صداقت  میں العطش کی یہ صدا  حقیقت میں  اسلام کی بے کسی کی فریاد پر لبیک تھی۔کربلا میں اسلام کا بیڑا ڈوب رہا تھا  اور بانی کربلا کو پانی تو میسر نہیں تھا مگر خون کے دھارے میں اسے منزل کمال کی طرف روانہ کر دیا۔انسانیت کا شجر شیطانیت کی زہریلی ہواؤں سے خشک ہو رہا تھا ۔پیاسے امام نے اپنے اور اپنے پیاروں کے خون سے اسے سیراب کر دیا۔

علامہ اقبال نے امام ؑ کو بادل سے تشبیہ دی اور کہا

بر زمین کربلا بارید و رفت

لالہ در ویرانہ ہا کرید و رفت

یعنی امام بادل بن کر کربلا میں برسی اور چلے گئے ویرانے میں سرخ پھول کاشت کئے اور چلے گئے۔

خشک ہونٹوں سے جو پکارا تو گناھگار کو حر بنا کر ولی اللہ کے مقام تک پہنچا دیا۔انسانی دل جو لوہے کی طرح سخت ہو چکے تھے انہیں آتش غم و درد سے پگھلا کر پانی پانی بنا دیا ۔شب عاشور کی مہلت مانگ کر پیغام دیا کہ ’’ہم آج کی رات اپنے پروردگار  کی خوب عبادت کر لیں اور حمد و ثنا اور دعا و استغفار میں خوب مصروف رہیں  کیونکہ خدا خوب واقف ہے کہ میں ہمیشہ اس کی نماز ،تلاوت کتاب،استغفار اور دعا کو محبوب سمجھتا ہوں‘‘

مجید امجد نے پیغام امام کو یوں پیش کیا۔

سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے  کہا

جو تیرا حکم،جو تیری رضا ،جو تو چاہے۔

امام کا پیغام  ہے حریت،ایثار،مواسات،صبر،جوشِ عمل،استقلال،تنظیم،عزتِ نفس،شجاعت،حسنِ معاشرت،انسانی ہمدردی،حق بیانی امن پسندی ،رواداری۔۔۔

اقبال نے اس کا خلاصہ یوں کیا

تیغ او بہر عزت دین است و بس

مقصد او حفظِ آئین است و بس

ایک شاعر نے جناب علی اصغر کی زبان سے یوں پیغام پیش کیا

جان دینے کی تمنا ہے جو بے تاب ہوں میں

آبر دین کی رہ جائے تو سیراب ہوں میں

ایک شاعر کہتا ہے

میخانہ کا ساقی ہے حسین

جامِ لا الہَ الّا ھو پلاتا ہے

خوب کہا کسی شاعر نے

تا قیامت ہر بشر لیتا رہے گا تجھ سے آس

تیرے پیاسوں نے بجھا دی نوعِ انسانی کی پیاس

دشمن امام کے خون کا پیاسا تھا اور امام دشمن کی اصلاح و ہدایت کے پیاسے و طلب گار تھے

آئیں پانی کی سبیلیں لگا کر،مجلسِ حسین بپا کر کے لوگوں کی پیاس کو زندہ کریں اور جب پیاس زندہ ہو تو حسینی جام سے انہیں تعلیمات قرآن و اہلبیت  کا شربتِ گوارا پلائیں۔

ہر اک ہے ان کے کرم کا پیاسا۔