جس طرح سے کسی خطرہ سے آگاہ انسان دیگر افراد کو خطرہ سے آگاہ کرتے ھوئے انھیں اس خطرے سے بچانے کی راہ نکالتا ھے اسی طرح مولائے کائنات حضرت علی (ع) زندگی کے مختلف مسائل و مراحل میں نجات دینے والے ھیں ۔ انھی مراحل میں سے مولا نے اپنے ارشادات کے ذریعہ برے افراد سے دوستی نہ کرنے کی تاکید فرمائی ھے تاکہ ان کے چاھنے والے بد کردار و ناپسندیدہ صفات کے حامل افراد سے دوستی کرکے ظاھری ذلّت کے دلدل میں نہ پھنس جائیں حضرت علی (ع) نے مندرجہ ذیل افراد سے دوستی کرنے سے منع کیا ھے ۔

١ ۔ کوتاہ فکر

وہ افراد جو خود گنھگار، معصیت کار ھیں اور دوسروں کو بھی گناھوں میں مبتلا دیکھنا چاھتے ھیں اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گناھگار بنا دیتے ھیں ۔ جس طرح ھم متعدی امراض سے بچاؤ کے لئے احتیاط سے کام لیتے ھیں اسی طرح اھل فسق و فجور سے بھی ھمیں پرھیز کرنا چاھئے ۔ حضرت علی (ع) فرماتے ھیں :
” فاجر کی صحبت سے بچو کیونکہ وہ تمھیں حقیر چیز کے عوض بیچ ڈالے گا ” 1

٢ ۔ احمق

احمق اسے کہتے ھیں جس کے پاس عقل و خرد نہ ھو اور جو درک و شعور نہ رکھتا ھو ۔ اس صفت کے مالک انسان سے دوستی کے بارے میں حضرت علی (ع) فرماتے ھیں :
” خبردار ! کسی احمق کی دوستی اختیار نہ کرنا کہ تمھیں فائدہ بھی پہنچانا چاھے گا تو نقصان پہنچائے گا ” ۔2
ایک دوسرے مقام پر احمق کو ” مائق ” کے نام سے یاد کرتے ھوئے آپ فرماتے ھیں ”بیوقوف کی صحبت مت اختیار کرنا کہ وہ اپنے عمل کو خوبصورت بنا کر پیش کرے گا اور تم سے بھی ویسے ھی عمل کا تقاضا کرے گا ” ۔ 3

٣ ۔ بخیل

بخیل افراد کبھی کسی کی خیر خواھی نھیں چاھتے، اس لحاظ سے ان سے دوستی نقصان دہ ھے ۔ حضرت علی (ع) فرماتے ھیں :
” کسی بخیل سے دوستی نہ کرنا کہ تم سے اس وقت دور بھاگے گا جب تمھیں اس کی ضرورت ھوگی 4

۴ ۔ جھوٹ بولنے والا

جھوٹ بولنے والے پر کبھی بھروسہ نھیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کی رفتار و گفتار کا کوئی معیار نھیں ھوتا ۔ امام علی (ع) جھوٹ بولنے والے کو فریبکار کہتے ھوئے فرماتے ھیں 
” کسی جھوٹے کی صحبت اختیار نہ کرنا کہ وہ مثل سراب ھے جو دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دکھلاتا ھے ” 5

۵ ۔ دوست کا دشمن

جب ھم نے کسی سے دوستی کی تو اس کے دوست بھی ھمارے دوست اور اس کے دشمن بھی ھمارے دشمن شمار کئے جائیں گے ۔ یہ حقیقت حضرت علی (ع) کے کلام میں اس طرح بیان کی گئی ھے کہ ” تمھارے دوست بھی تین طرح کے ھیں اور دشمن بھی تین طرح کے ھیں ” ۔ دوستوں کی قسمیں یہ ھیں : ” تمھارا دوست، تمھارے دوست کا دوست اور تمھارے دشمن کا دشمن ” ۔ اسی طرح تمھارے دشمنوں کی قسمیں یہ ھیں ” تمھارا دشمن ، تمھارے دوست کا دشمن اور تمھارے دشمن کا دوست ” 6
اس تقسیم کی بنا پر دوست کا دشمن بھی دشمن ھی شمار ھوتا ھے ۔ لھٰذا اس سے دوستی نھیں کرنی چاھئے ۔ اس سلسلہ میں حضرت علی (ع) فرماتے ھیں :
” اپنے دشمن کے دوست کو اپنا دوست نہ بنانا کہ تم اپنے دوست کے دشمن ھو جاؤ گے ” 7

حوالہ جات

1۔ حکمت / ٣٨ 
2۔ حکمت / ٣٨
3۔ حکمت / ٢٩٣ 
4۔ حکمت / ٣٨
5۔ حکمت / ٣٨ 
6۔ حکمت / ٢٩۵
7۔  مکتوب / ٣١ 

تحریر: سید حیدر عباس رضوی