ہمارا ایک حق ہے اگر وہ ہمیں دیا گیا تو ہم لے لیں گے۔ورنہ ہم اونٹ کے پیچھے والے پٹھوں پر سوار ہوں گے۔اگرچہ شب روی طویل ہو۔

سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ بہت عمدہ اور فصیح کلام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں ہمارا حق نہ دیاگیا ،تو ہم ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے اور مطلب اس طرح نکلتا ہے کہ اونٹ کے پیچھے کے حصہ پر ردیف بن کر غلام اور قیدی یاا س قسم کے لوگ ہی سوار ہوا کرتے تھےسید رضی علیہ الرحمتہ کے تحریر کرو معنی کا ماحصل یہ ہے کہ حضرت فرمانا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے حق کا کہ جو امام مفترض الطاعتہ ہونے کی حیثیت سے دوسروں پر واجب ہے اقرار کر لیا گیا اور ہمیں ظاہری خلافت کا موقع دیا گیا تو بہتر ورنہ ہمیں ہر طرح کی مشقتوں اور خواریوں کو برداشت کرنا پڑے گا ،اور ہم اس تحقیر و تذلیل کی حالت میں زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

بعض شارحین نے اس معنی کے علاوہ اور معنی بھی تحریر کئے ہیں۔اور وہ یہ کہ اگر ہمیں ہمارے مرتبہ سے گرا کر اونٹ کے پٹھے پر سوار ہوتا ہے وہ آگے ہوتا ہے اور بعض نے یہ معنی کہے ہیں کہ اگر ہمارا حق دے دیا گیا تو ہم اسے لے لیں گے ،اور اگر نہ دیا گیا،تو اس سوار کی مانند نہ ہوں گے جو اپنی سواری کی باگ دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔کہ وہ جدھر اسے لے جانا چاہے لے جائے۔بلکہ اپنے مطالبہ حق پر برقرار رہیں گے خواہ مدت دراز کیوں نہ گزر جائے اور کبھی اپنے حق سے دستبردار ہو کر غضب کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں گے۔