اس علم و اداب،حسب و نصب،عمل و تقوی ،عفت و زہد، اخلاص و وفا کے درخشان ستارے کے بارے  متاسفانہ تاریخ میں انتہائی اختصار کے ساتھ تذکرے ملتے ہیں۔یہ مخدرہ اخلاص کی بلندی پر فائز تھیں وہ رب ذوالجلال کی بلند پایاں معرفت سے سرشار تھیں، معرفت و محبت اہل بیت عصمت و طہارتؑ میں ان کا بہت بلند مقام ہے، وہ خانوادہ وحی و نبوت کی فضیلت و عظمت کی گرویدہ تھیں ان کا حضرت شاہ ولایت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے ساتھ رشتہ تزویج اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی مادر گرامی کا رشتہ ان کے لیے باعث فخر تھا وہ اسد اللہ الغالبؑ کی زوجہ و ہمسر قرار پائیں اور حضرت ابوالفضل العباسؑ کی ماں بن کر دنیا میں فخر و امتیاز کے درجہ پر فائز ہوئیں اور انھیں یہ حق ہے کہ فخر کریں کہ جن کا شوہر  کل ایمان ہو اور بیٹے وفاوجانثاری کا نمونہ ہوں۔

 وہ بھی دیگر صاحبان فضائل و محامد کی طرح مظلومہ تاریخ قرار پائیں کیونکہ حکام جور اور اقتدار طلب بادشاہوں کی تاریخ نے ان کے تذکرے کو اس لئے نظر انداز کیا کہ یہ کردار ان کے ذوق کے متصادم تھا اور پھر میرے خیال میں ہماری بے رخی اور غفلت بھی ستم ظریفی اور جفا کاری سے کم نہ ہوگی کہ ہم نے بھی اس عمدہ کردار کی مالک بی بی ؑ پر بہت کم  قلم فرسائی کی اور نہ ہونے کے برابر لکھا گیا اور آپؑ کی زندگی کا روشن اور قابل تقلید باب غفلت کی نظر ہوتا گیا۔

 اگر مولائے کائناتؑ کے تذکرہ فضائل میں کسی اہل ممبر نے ذکر کیا بھی تو بس اتنا کہ وہ اعلی نسب اور بلند حسب مستور تھیں ان کی خواستگاری حضرت عقیلؑ نے کی اور پھر حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے حبالہ عقد میں آئیں اور ازدواجی بندھن میں بندھ گئیں اور کربلا کے حوالے سے بھی تذکرہ اتنامحدود رہا کہ ان کے چار بیٹے شہید ہوئے اور انہوں نے کربلا کے شہداء خصوصاًحضرت اباعبداللہ الحسینؑ پر بے حد گریہ فرمایا اور زیادہ سے زیادہ اتنا تذکرہ ملا کہ حضرت امیر المومنینؑ نے اپنے بھائی حضرت عقیل ابن ابی طالب علیہ السلام جو کہ عرب کے نسبوں کے ماہر و عالم تھے فرمایا کہ میرے لیے ایک ایسی خاتون کا رشتہ تلاش کرو جو جوانمردوں کی نسل سے ہو، تاکہ میں اس سے شادی کروں اور اللہ تعالی مجھے اس کی اولاد سے شجاع و بہادر بیٹے عطا فرمائے جو کربلا میں میرے بیٹے حسینؑ کا ساتھ دیں کیونکہ بقول مولاعلیؑ: رگ ہی تو بنیاد ہوتی ہے۔ تو حضرت عقیل نے جواب دیا تو آپ فاطمہ بنت حزامؑ کی خاستگاری کریں کیونکہ اس خاندان سے بڑھ کر عرب میں کوئی اور شجاع نہیں ہے اور نہ زیادہ مرد میدان ہے پس آپؑ کی رضامندی سے شادی ہو گئی اور اللہ تعالٰی نے بی بی ؑ کے بطن مقدس سے چار فرزند عطا فرمائے ۔

بہر حال میرا یہ خیال ہوا کہ اس عظیم کردار کی مالک معظمہ بی بیؑ  کی زندگی پر اپنی بساط کے مطابق چند سطریں لکھوں لکھنے والوں نے مہاتما گاندھی پر تین سو کتابیں لکھیں اور مفکر پاکستان جناب علامہ اقبال لاہوری پر بھی بحمدللہ پانچ ہزار کتابیں تحریر ہوئیں تو اس معظمہ بی بیؑ کا بھی حق ہے کہ ان پر لکھا جائے خداوند متعال سے اسی  معظمہ بی بی ؑ کے توسل سے توفیقات کا طالب گار ہوں ۔

مولانا  حاجی اقبال حسین مقصودپوری

اس قیمتی کتاب کو پڑھنے کے لئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں

زندگی نامہ حضرت امّ البنین علیھا السلام